اتوار ‘8 ذیقعد 1431ھ17 ؍ اکتوبر 2010ء

اداکارہ سلونی 60 سال کی عمر میں کراچی میں اپنی بیٹی کے ہاں انتقال کر گئیں۔
پہلوانوں اور اداکاروں کا لگ بھگ ایک جیسا ہی انجام ہوتا ہے‘ جوانی کو دو دو بار گزارنے کے بعد یکبارگی یوں اٹھ جاتے ہیں جیسے ابھی انکے جانے کا وقت نہ تھا۔ سلونی اپنے زمانے کی سانولی سلونی پھرتیلی اداکارہ تھی‘ اس کا انگ انگ رقصاں رہتا تھا اور جب ہنستی تھیں تو کھلتے پھول یاد آجاتے تھے۔ انہوں نے کئی فلموں میں بھرپور اداکاری کی۔ خدا جانے سلونی کا اصل نام کیا تھا‘ مگر وہ اپنے فلمی نام کے عین مطابق تھیں۔ اس دنیا میں کتنے حسن آئے‘ کتنے فنکار آئے‘ کتنے نامور لوگ آئے‘ مگر حسینوں کی موت پر کہنا پڑ جاتا ہے…؎
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پہناں ہو گئیں
فلمی اداکاروں‘ ہنر مندوں اور دیگر شعبوں کے فنکاروں اور اہل علم کی آخری عمر میں کوئی حفاظت نہیں کی جاتی‘ اکثر وہ بیمار ہوتے ہیں‘ ان کا موثر علاج نہیں کرایا جاتا‘ اس وقت بھی ماضی کے بعض اداکار فنکار موسیقار کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا وزارت ثقافت تو کجا‘ وہ اداکار بھی کوئی نوٹس نہیں لیتے جو کروڑوں میں کھیل رہے ہیں۔ سلونی نے اگرچہ فلموں میں اداکاری کی تاہم ہماری دعا ہے کہ اللہ ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے‘ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ فردوس کو بھی اپنے پاس بلالیں‘ اس لئے فردوس کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
٭…٭…٭…٭
اسلام آباد ایئرپورٹ پر پکڑے گئے کروڑوں کے فالکن لاہور آتے لاکھوں کے رہ گئے۔ فالکنز کو خصوصی گاڑی کے ذریعے لاہور روانہ کیا گیا۔ راستے میں تبدیل کرکے عام عقاب شامل کئے گئے‘ یہ فالکن لاہور ایئرپورٹ سے بیرون ملک سمگل کئے جا رہے تھے‘ ڈائریکٹر چڑیا گھر نے پہلے قبول کرنے سے انکار کر دیا‘ سیکرٹری جنگلات کے حکم پر رکھ لئے جن میں سے سات فالکن مردہ تھے۔
اگر فالکن کی ناکام سمگلنگ میں عدالت نے انہیں لاہور چڑیا گھر منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دئے تھے تو سیکرٹری جنگلات کو بحفاظت انہیں اپنی منزل تک پہنچانے کا اہتمام کرنا چاہیے تھا مگر سمگلروں پر بھی یہاں سمگلرز موجود ہیں‘ جو اندرون ملک ہی کرپشن کرکے خود کو سمگلروں سے بھی افضل ثابت کر دیتے ہیں۔
فالکن کیسے تبدیل کئے گئے‘ انکی جگہ عام عقاب کیسے رکھے گئے‘ سات فالکن کیسے مر گئے‘ یہ ساری کہانی محکمہ جنگلات اور لاہور چڑیا گھر کے ڈائریکٹر کو ضرور معلوم ہو گی۔ عدالت اب ایک مقدمے کے بعد دوسرا مقدمہ چلائے اور ازخود نوٹس لے کہ تبدیل شدہ فالکن کدھر گئے‘ محکمہ جنگلات کی کارکردگی تو یہ ہے کہ محکمہ ہے‘ جنگلات نہیں‘ تو فالکن غائب کرنا کونسی بڑی بات ہے۔ بہرحال عدالت کو اسکی تحقیقات کرنی چاہیے کہ چوروں کو جو مور پڑے‘ ان پر کیسے ہاتھ ڈالنا ہے؟ کیونکہ یہ قومی دولت کا ضیاع ہی نہیں قومی فالکنز کا بھی ضیاع ہے۔
لاہور اور دوسرے شہروں میں چینی کی قیمت 82 روپے کلو ہو گئی۔ ضلعی حکومت کی عدم دلچسپی سے دکانداروں نے قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کرنا شروع کر دیا۔
ضلعی حکومت‘ برزخی حکومت ہو گئی ہے کہ نہ اس دنیا میں نہ اس دنیا میں‘ شاید اسکے فرشتے سب کچھ قبر میں پہنچا دیتے ہیں اس لئے وہ ’’عاقبت بالخیر‘‘ کو امید لگا کر مست السست ہے۔ شہروں میں دکاندار گاہکوں کے ساتھ کیا من مانی کر رہے ہیں‘ اسکی اسے پرواہ نہیں‘ کئی لوگ تو اس وجہ سے چینی سے خلاصی پا گئے ہیں کہ ان سے پوچھو کیا حال ہے‘ تو وہ کہتے ہیں‘ شوگر ہے‘ یعنی شکر ہے۔ باقی جو لوگ چینی خور ہیں اور صحت مند ہیں‘ ان کیلئے چینی بے چینی بن گئی ہے۔ گلی محلوں میں تو چینی سو روپے کلو بھی بک رہی ہے‘ ضلعی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دکانداروں کو چیک کرے اور ایسا بندوبست کرے کہ ڈرامائی انداز میں دکانداروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر بھاری جرمانے کرے‘ سزا دلوائے اور ان کیخلاف کیس درج کرائے اگر اس انداز سے کارروائی کی گئی تو کوئی وجہ نہیں کہ دکاندار دونوں کان پکڑ کر تائب ہو جائیں۔
ضلعی حکومت مقررہ نرخوں کی پابندی کرائے‘ ورنہ اسی طرح اپنی حیثیت گندی کرائے‘ وزیر اعلیٰ اگر سیلاب سے فارغ ہو گئے ہوں تو کچھ توجہ اس طرف بھی دیں کہ ان انسپکٹروں کو واقعتاً انسپکٹر بنائیں جو مارکیٹوں کو چیک کرنے پر مامور ہیں اور انکے پیچھے بھی ایک خفیہ فورس لگا دیں‘ وگرنہ وہی حال ہو گا جو تجاوزات کا ہوتا ہے کہ آج ہٹائو دو کل پھر موجود ہوتی ہیں۔ چینی اگر اتنی مہنگی ہے تو بدمزاجی کتنی سستی ہو گی‘ ضلعی حکومت اپنی ادائوں میں سستی چینی بھی ملا دے۔
٭…٭…٭…٭
حافظ سعید نے کہا ہے‘ حکمران ڈرون حملوں کے ذمہ دار ہیں‘ کفار کی غلامی سے نکل کر ہی مسائل حل ہونگے۔
کفار کی غلامی میں کرسی ہے‘ اسی لئے کوئی حکمران یا سیاست دان اس میں سے کیوں نکلے‘ رہ گئے مسائل تو جب ان کا حل ہی درکار نہیں‘ تو حکمران ان پر ہاتھ کیوں ڈالیں؟ حکمران تو وہاں ہاتھ ڈالیں گے جہاں مٹھی کھولیں تو بھری ہوئی واپس آئے۔ کفار کی غلامی پر تو یہاں کے وہ سیاست دان بھی راضی ہیں‘ جن کے مطابق ان سے اللہ راضی ہے۔ کفار کی غلامی وہ مقام ہے جہاں کفر و اسلام ایک ہو جاتا ہے بلکہ کافر و مسلم وہاں بھائی بھائی بن جاتا ہے۔ اسی لئے تو کہا گیا ہے کہ ’’الکفرملۃ واحدہ‘‘ (کفر ملت واحدہ ہے) مسائل جس قدر بڑھیں گے‘ کفار اپنے غلاموں میں زیادہ سے زیادہ کرسیاں بانٹیں گے۔ حافظ سعید نہایت اچھے آدمی ہیں مگر وہ بھی تو اب تک غلاموں کو آزاد نہیں کرا سکے۔ اس ملک کو تو اسلامی انقلاب کی ضرورت ہے‘ آخر کیا وجہ ہے کہ مسٹر لوگ تو کفار کی غلامی میں چلے گئے‘ علماء دین بھی کوئی ایسی تحریک نہ چلا سکے۔ جس پر حکومت اور کفار ہاتھ نہ ڈال سکیں‘ ناامید لوگ تو اب اقبال کے اس شعر کا ورد کرنے لگے ہیں…؎
خدا وندا ترے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے‘ سلطانی بھی عیاری ہے