منگل ‘18 ؍ شعبان 1435ھ ‘ 17 جون 2014ء

منگل ‘18 ؍ شعبان   1435ھ ‘  17 جون  2014ء

سرے محل 4 جولائی کو فروخت ہو گا!
یہ جہاں اک نگارخانہ ہے جہاں قدم قدم پر لاکھوں عجائبات بکھرے ہوئے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک قابل دید ناقابل فروخت اشیا بھی ہیں جو وقت کے بے رحم ہاتھوں میں آ کر متاع کوچہ و بازار کی طرح فروخت کی اور سجائی ہیں اور بڑے بڑے دل والے من پسند اشیا کی دل کھول کر قیمت ادا کر کے اپنے حُسن نظر اور صاحب ثروت ہونے کا ثبوت دیتے ہیں کیونکہ کہتے ہیں ناں …؎
دل کے بازار میں صورت نہیں دیکھی جاتی
مال اچھا ہو تو قیمت نہیں پوچھی جاتی
اسی طرح سرے محل بھی خود بخود اعلیٰ خریدار کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہا ہے۔ یہ محل اپنے بنانے والوں کے حسن ذوق کا عمدہ نمونہ ہے اور اس کے خریدار بھی باذوق ہی تھے اسی لئے تو یہ دخترِ مشرق کی نگاہوں کو بھا گیا اور زرداری کے دل میں سما گیا۔ تیسری دنیا کے ایک غریب ملک کی شہزادی نے منہ مانگی قیمت دے کر یہ خرید لیا۔ اس غریب ملک کا ہر پیدا ہونے والا بچہ اس وقت بھی جب یہ خریدا گیا تھا 5 ہزار روپے کا مقروض پیدا ہوتا تھا مگر حکمرانوں کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے انہیں تو بس من پسند چیز جہاں سے ملے جس قیمت پر ملے وہ خرید لیتے ہیں۔ دکھ کی بات تو یہ ہے جس شہزادی نے یہ محل خریدا اسے یا اس کے گھر والوں کو اس میں رہنا نصیب نہیں ہوا۔
 شہزادی تو گڑھی خدا بخش میں اپنے حصہ کی دو گز زمین میں مٹی کی چادر اوڑھ کر سو گئی۔ اس کے ورثا بھی اس محل کی پُرتکلف خوابگاہوں میں سو نہ سکے۔ اس کی امارت کے مزے لوٹ نہ سکے۔ اب یہ متاع گراں ایک بار پھر بکنے کیلئے پیش ہو رہی ہے۔ دیکھنا ہے اب اس کا خریدار کون ہوتا ہے۔ جو بھی ہو دعا ہے کہ وہ بدنامی کے طوفان اور گھر ہونے کے باوجود بے  گھری کے‘ دربدری کے عذاب میں مبتلا نہ ہو اور اس محل کے نئے مکین یہاں پُرمسرت زندگی بسر کریں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
ہینڈری مسیح کی آخری رسومات مستونگ میں ادا کر دی گئیں!
یوں لگتا ہے کہ حکومت بغیر کسی تحقیق کے لوگوں کو سرکاری ملازمت پر رکھ لیتی ہے۔ ہینڈری مسیح کو اس کے سرکاری گارڈ نے گولیاں ماریں۔ اس سے قبل بھی ایسا ہی واقعہ سامنے آ چکا ہے جبکہ کچھ عرصہ پہلے لاہور وارڈن پولیس کے کچھ اہلکار بھی گرفتار ہوئے ہیں جن کا شدت پسندوں سے تعلق تھا اور وہ وی وی آئی پی سکیورٹی پر لگ کر اپنے اہداف کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔ وہ بھلا ہو اعلیٰ پولیس افسر کا جب اس نے اس کا انٹرویو کیا تو وارڈن کے مشکوک جوابات نے سارے منصوبے کا راز فاش کر دیا۔ اگر پولیس افسر باریک بینی سے انٹرویو نہ کرتا تو نہ جانے آج پنجاب کے کس کس سیاستدان کیلئے دعائے مغفرت کی جا رہی ہوتی۔ حکام کا فرض بنتا ہے کہ وہ اگر کسی پولیس اہلکار کو کسی سیاستدان کے ساتھ ڈیوٹی پر لگا رہے ہیں تو اس کی باریک بینی سے چھان بین کریں اس کا میڈیکل کروائیں، اس کا مذہبی پس منظر دیکھیں تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اشتعال میں آ کر وہ کسی کی جان لے لے۔ ہینڈری مسیح کو اس کے گارڈ نے قتل کیا، کیا یہ اقلیتوں کا قتل نہیں۔ اسلام تو اقلیتوں کے تحفظ کا سبق دیتا ہے لیکن ہمارے ہاں انہیں چھوٹی سی بات پر قتل کر دیا جاتا ہے۔
پاک فوج دہشت گردوں کا صفایا کر رہی ہے جبکہ حکومت بغیر کسی تفتیش اور سکیورٹی چیک کے دہشت گردوں کو سرکاری ملازمتوں پر رکھ رہی ہے۔ سرکاری محکموں اور خصوصی طور پر محکمہ پولیس میں کسی کو ملازمت دیتے وقت اس کی سکیورٹی چیک کرنا ضروری ہے تاکہ اسلحہ سے لیس جوان اپنے جذبات پر قابو نہ پا کر کسی کو نقصان نہ پہنچا سکے ورنہ تو حادثات کے بعد یوں ہی کہنا پڑے گا …ع
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
ہینڈری مسیح کے قاتل کو جرم کے مطابق سزا دی جائے اور حساس اداروں اور سرکاری ملازمین کی سکیورٹی کلیرنس کرائی جائے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
پشاور کے 7 خواجہ سرائوں نے بیرون ممالک سیاسی پناہ کیلئے پاسپورٹ تیار کر لئے!
بیرون ملک بسنے والے خواجہ سراء پاکستان کو دما دم مست قلندر کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں جبکہ پشاوری خواجہ سراء سیاسی پناہ کیلئے کوشاں ہیں۔ 7 خواجہ سراء اگر بیرون ملک چلے گئے تو پنجاب کے ’’خواجہ‘‘ عمران خان کو صبح و شام یہی طعنہ دیتے رہیں گے کہ جو تحریک انصاف خواجہ سرائوں کو انصاف نہیں دے سکی وہ عوام کو کیا انصاف دے گی۔ جب خیبر پی کے میں مولویوں کی حکومت تھی یعنی ’’ایم ایم اے‘‘ کی تو تب بھی پشاور کی سرزمین خواجہ سرائوں کیلئے غیر محفوظ نہیں تھی انہیں حقوق مل رہے تھے اور وہ اپنے اپنے گھروں میں محفوظ تھے لیکن اب خان کی حکومت میں خواجہ سراء ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اگر 7 خواجہ سراء ملک چھوڑ کر سیاسی پناہ لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے بڑھ کر عمران خان کی جگ ہنسائی اور کیا ہو گی۔
 عمران خان اگر اپنی عزت بچانا چاہتے ہیں تو خواجہ سرائوں کے پائوں پکڑ لیں لیکن انہیں ملک سے باہر نہ جانے دیں۔ کینیڈا سے خواجہ سراء یہاں سرکس لگانے آ رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں سے جا رہے ہیں۔ طاہر القادری کے پاس شور کرنے کیلئے ایک اور بات بھی آ گئی ہے، عمران اگر خود انہیں نہیں منا سکتے تو شیخ رشید کے کی ڈیوٹی لگائیں وہ کچھ نہ کچھ حل نکال لیں گے۔ 7 خواجہ سراء تو یوں گویا ہو رہے ہیں … ؎
در و دیوار زنداں پر جدائی لکھ رہے ہیں
بہت کاٹی اسیری، اب رہائی لکھ رہے ہیں
٭۔٭۔٭۔٭۔٭