افرادی قوت بڑا مسئلہ ہے۔ منصوبوں پر عملدرآمد میں بیوروکریسی رکاوٹ ہے: وزیراعلیٰ سندھ

افرادی قوت بڑا مسئلہ ہے۔ منصوبوں پر عملدرآمد میں بیوروکریسی رکاوٹ ہے: وزیراعلیٰ سندھ

خدا خیر کرے کیا سندھ کے مردم خیز صوبے میں آبادی میں کمی ہو گئی ہے یا وہاں کے باسیوں نے کام کاج سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ سندھیوں کی کاہلی اور سستی کی جھوٹی کہانیاں اپنی جگہ مگر اس صوبے کے جو کسان‘ مزدور‘ ہاری اور مزارعے صدیوں سے سر جھکائے جہد مسلسل کی سزا کاٹ رہے ہیں کیا وہ اس قابل نہیں کہ ان کی افرادی قوت بروئے کار لاتے ہوئے یہ مسئلہ حل کیا جائے۔ حکمران ذرا اپنی آنکھوں سے سیاسی اور سفارشی کلچر کی عینک اتار کر دیکھیں تو انہیں معلوم ہو گا کہ سندھ میں کام کرنے والوں کی قلت نہیں یہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے۔ یہاں لاکھوں نہیں کروڑوں جوان کام کرنا چاہتے ہیں مگر سفارش اور پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے کوئی انہیں لفٹ نہیں کراتا سارے سفارشی نااہل لوگ شہری ہوں یا دیہاتی حکمران جماعتوں نے بھرتی کر لئے ہیں۔ جو کام کاج تو کچھ کرتے نہیں بس تنخواہیں لیتے اور سرکاری فنڈ ہڑپ کرتے ہیں۔ اب اگر مظلوم اور غریب طبقوں کی طرف سے نظر ڈالی جائے تو یہاں لاکھوں پرعزم اور کام کرنے والے جوان حکومت کو دستیاب ہونگے تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کیلئے مگر شاید انکے پاس سفارش کی سیڑھی نہیں۔کرپٹ بیوروکریسی انہیں گھاس نہیں ڈالتی۔
یہ سیاسی مجاوروں اور حکومتی محکموں کے افسروں کو نذرانہ نہیں دے سکتے اسلئے سر جھکائے گلیوں فٹ پاتھوں پر بیٹھے اپنی اعلیٰ ڈگریوں یا واجبی تعلیم کا رونا روتے رہتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
شاہ عبداللہ سے مالی تعاون حاصل کیا، وہ صرف میرے ساتھ تمباکو نوشی کیا کرتے تھے: مشرف
قربان جایئے سابق صدر کی محبوبیت پر۔ سعودی شاہ جو اوبامہ جیسوں کو گھاس نہیں ڈالتے تھے وہ ہمارے سابق صدر پر مرتے تھے۔ بے تحاشہ انکی مالی مدد کرتے تھے جس کی تفصیلات مشرف جی اس لئے نہیں بتا رہے کہ شاید اس میں میاں نوازشریف کا نام بھی آتا ہے۔ جن کی رہائی کیلئے سعودی ریالوں کی بارش ان پر ہوتی تھی۔ رہی بات سعودی شاہ کے ساتھ تمباکونوشی کی تو یہ خاصی تعجب خیز ہے مگر دوستوں میں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ عرب مہمان نوازی میں قہوہ اور حقہ لازم و ملزوم ہیں۔ شیشہ طرز کے خوبصورت حقے کی نے باری باری سب کے پاس آتی ہے تو ظاہر ہے مشرف صاحب نے بھی اسی اصول کے تحت ایک دو کش لئے ہونگے۔ اسکے ساتھ ساتھ اب ایک بری خبر بھی ان کیلئے گردش کر رہی ہے کہ مشرف کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹ کا نوٹس سیکرٹری داخلہ کو ارسال ہو چکا ہے۔ دیکھتے ہیں اس پر عمل کب ہوتا ہے۔ ویسے تو ہمارے سابق صدر پرویز مشرف اول و آخر پاکستانی ہیں۔ اپنے ملک سے محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ بس ذرا عدالتوں کچہریوں سے ڈرتے ہیں اسی لئے عدالتوں کچہریوں کا نام سنتے ہی انکی طبیعت خراب ہونے لگتی ہے جسکے نتیجے میں کبھی انہیں دل کی کبھی کمر کی اور کبھی گردن کی تکلیف شروع ہو جاتی ہے اور انہیں ایمبولینس میں ڈال کر سٹریچر پر لاد کر ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔
ارشد خان چائے والے کے والدین کے ہاں 18 ویں بچے کی پیدائش
سچ کہتے ہیں شہرت جب ایک بار کسی کے دروازے پر دستک دے تو اسکی شہرت کے اور بھی بے شمار مواقع نکل آتے ہیں۔ اب اسلام آباد میں مقیم یہ افغانی چائے والا دیکھ لیں دیکھتے ہی دیکھتے ایک تصویر کی بدولت کیسے مشہور ہوا کہ میڈیا کی اکثریت نے اسے اٹھا کر اوج ثریا تک پہنچا دیا حالانکہ وہ نہ تو اچھی اردو بول سکتا ہے نہ اس کا چہرہ جذبات و تاثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ سادہ سپاٹ چہرے پہ صرف دو نیلی آنکھیں اور سفید رنگت اسکی میراث ہے اور ہمارے ملک میں لوگوں کی سب سے بڑی کمزوری سفید رنگ اور نیلی آنکھیں ہیں۔ لڑکا ہو یا لڑکی رنگ گورا ہونا اس کےلئے اعزاز بن جاتا ہے۔ اب اس نیلی آنکھوں والے ارشد خان کے حوالے سے ایک اور خبر نے اسکی یاد پھر تازہ کر دی ہے۔ وہ خبر اسکے حوالے سے اس لئے ہے کہ انکے ابا کے گھر ایک اور مکین کا اضافہ ہو گیا ہے جس کے بعد ارشد خان سمیت انکے بچوں کی تعداد 18 تک جا پہنچی ہے۔مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ آجکل کے دور میں دو عدد بچے سنبھالنا‘ انہیں پالنا لکھانا پڑھانا کچھ آسان نہیں انکی اچھی تربیت بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ ان حالات ناگفتہ بہ میں یہ 18 کا لشکر کون سنبھالے گا۔ اب خدا جانے یہ کثرت اولاد کثرت ازدواج کا کرشمہ ہے یا یک زوجگی کی کرامت۔ ممتاز محل بھی ایسا ہی کارنامہ انجام دیتے ہوئے جنت مکانی ہو گئی تھیں جسکی یاد میں شاہ جہاں نے تاج محل بنایا۔ اب خدا ارشد خان کے والدین کی جوڑی سلامت رکھے۔ بس اب محکمہ بہبود آبادی و تحفظ صحت خواتین والے کبھی ایک آدھ چکر انکے گھر کا بھی لگا کر اپنے سلوگن کا حشر نشر دیکھ لیں۔
٭٭٭٭٭٭
روس صدارتی الیکشن میں مداخلت سے باز رہے: فرانس
اگر روس نے باز آنا ہی تھا تو پھر اسے دوسرے کے الیکشن میں پنگے لینے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مشرق مغرب کی چپقلش کم ہونے کے باوجود ہنوز سرخ ریچھ کی قبر روس والوں کیلئے درس عبرت نہیں بنی۔ ابھی چند ہفتے قبل امریکہ والوں نے ایسی ہی زبان استعمال کرتے ہوئے روس کو خبردار کیا تھا کہ وہ امریکی الیکشن میں مداخلت کر رہا ہے۔ ڈیموکریٹکس تو ابھی تک الزام دہرا رہے ہیں۔ اب فرانس والوں کو بھی یہی شکایت ہے کہ ہمارے الیکشن میں روس خوامخواہ لچ تل رہا ہے۔ سوویت یونین بکھر چکا اب صرف روس باقی رہ گیا ہے۔ گوربا چوف نے سرخ ریچھ کی تمام باقیات روس میں لا کر دفنا دیں مگر پیوٹن لگتا ہے ایک بار پھر کلوننگ کے عمل سے باقیات میں سے ایک نیا سرخ ریچھ وجود میں لانا چاہتا ہے۔ اب خدا جانے اس بار روس کے برف زار سے انگڑائی لےکر بیدار ہونے والا یہ فتنہ کیا گل کھلاتا ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ کی جیت کے بعد حالات ایسے پیدا ہو رہے ہیں کہ شاید سرد جنگ کا دور پھر لوٹ آنے کو ہے۔ نئی نسل کو ایک بار پھر دو سپر طاقتوں کا فلسفہ یاد کرنا پڑے گا۔ سیٹو اور سینٹو کے معنیٰ جاننا ہوں گے۔ ہمیں ڈر اس کا ہے کہ مشرق ہو یا مغرب‘ جو بھی طوفان بلاخیز وہاں سے اٹھتا ہے وہ بالآخر لے دےکر مسلمانوں کی بستیوں سے آ کر ٹکراتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭