پیر ‘ 3 صفر المظفر 1434ھ ‘17 دسمبر 2012 ئ

پیر ‘ 3 صفر المظفر 1434ھ ‘17 دسمبر 2012 ئ


ملتان میں گیلانی کے جلسہ کے بعد جیالے کھانے پر ٹوٹ پڑے۔ دھکے دینے پر ڈشیں زمیں پر گر پڑیں۔
جیالے ”جَل“ چکے ہیں، وہ ڈشیں نہیں توڑیں گے تو قائدین کو انکی بھوک کا احساس کیسے ہو گا۔ وہ دور گیا جب جیالے کھانا چھوڑ کر قائدین کی جھلک دیکھنے کیلئے دوڑ پڑتے تھے اور یوں گویا ہوتے تھے ....
جھلک دکھلا جا
اک پل آ جا آ جا
اب تو یہ کیفیت ہوتی ہے کہ قائدین جلسے پر کھانے اور حلوہ پوری کا انتظام کر کے ہی کارکنان کو بلاتے ہیں، بھوک کے مارے کافی کارکن اکٹھے ہو جاتے ہیں، اگر کھانا نہ ہو تو کرسیاں اٹھا کر ہی چلتے بنتے ہیں۔ گیلانی صاحب شکر کریں جیالے کھانے پر ٹوٹے ہیں اگر کھانا نہ ہوتا تو یقیناً آپ پر ہی ٹوٹتے اور پھر یوں گویا ہوتے
لطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میں
کچھ مزہ ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں
سیاستدانوں کا خون بھی بڑا مزیدار ہوتا ہے، اگر کسی کے منہ کو لگ گیا تو پھر یوں ہی کہے گا ....ع
چُھٹتی نہیں ہے منہ کو یہ کافر لگی ہوئی
پھر سیاستدان الطاف بھائی اور علامہ طاہر القادری کی طرح ٹیلی فونک خطاب میں ہی عافیت سمجھیں گے۔ وڈے میاں نے بھی پریکٹس شروع کر دی ہے۔ دیکھیں سُنتِ الطافی وقادری پر کون کون عمل کرتا ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
مولینا فضل الرحمن پولیو مہم میں کردار ادا کریں: صدر زرداری ۔
مولینا نے تو سارے قطرے خود ہی پی لینے ہیں تو معصوم بچے کہاں جائیں گے؟ افغانوں کے نام پر جس نے سارا ڈیزل بیچ دیا اس سے کسی خیر کی توقع ہے۔ مولینا ہماری سیاست کے افلاطون ہیں۔ 427 ق م میں یونان کے شہر ایتھنز میں افلاطون نے جنم لیا اور 347 ق م میں 80 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آج 2500 سال گزرنے کے باوجود اصولوں کی بنیاد پر اس کا نام مشہور ہے۔ آج بھی سیاسی، اخلاقی اور تعلیمی نظام اپنی تکمیل کیلئے افلاطون کے افکار کا محتاج ہے، آج اسی طرح ہمارا سیاسی نظام بھی مولینا کے وجود کا محتاج ہے۔ پرویز مشرف نے بھی انہیں سینے سے لگایا اور صدر زرداری بھی ان کے کردار کی ”دُہائی“ دے رہے ہیں۔ مولینا کے پاس واقعی کوئی گدڑ سنگھی ہے جس کے باعث ہر کوئی انکے پیچھے لگا ہوا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یونانی افلاطون کے اصول یادگار ہیں اور ”پاکستانی افلاطون“ کا ہر سیاسی دستر خواں پر بیٹھنا یاد رہے گا۔ یونانی افلاطون نے اکیڈمس کے باغ میں بچوں کو پڑھانے کا اہتمام کیا اور آج اسی وجہ سے پڑھنے لکھنے کی جگہ کو اکیڈمی کا نام دیا جاتا ہے۔ پاکستانی افلاطون نے چومکھی سیاست یعنی مال بناﺅپیٹ بڑھاﺅسیاست کی ابتد کی اور اسی وجہ سے ہر کوئی انہیں مال دکھا کر اپنے ساتھ ملا لیتا ہے ،مولینا تو سرعام کہتے ہیں ” مینوں مال وَکھا میرا موڈ بنے“۔ یقینا یہ پاکستان کے سیاسی نظام میں یاد رہے گا۔ دیکھتے ہیں مولینا بغیر پیسوں کے کچھ کردار ادا کرتے ہیں یا صرف اپنے پیٹ پر ہی ہاتھ مارتے ہیں۔ بہرحال ہم یوں ہی کہیں گے....ع ڈنکا ترے سخن کا ظفر بج رہا ہے آج ۔
٭....٭....٭....٭....٭
 طاہر القادری آئندہ 90 روز میں تاریخی قومی خدمات انجام دینگے۔ وائس چیئر مین تحریک منہاج القرآن آغا مرتضی۔
 نگران وزیراعظم بننے کیلئے کہیں خود ساختہ جلا وطنی ختم تو نہیں کر رہے کیونکہ90روز کے بعد ہی نگران سیٹ اپ آئیگا جناب 90روز کی خوش خبری دینے والے کوئی ریڑھی چھابے والے نہیں، نہ ہی کسی نجومی نے تاروں کی چال سے کھوج لگایا بلکہ یہ انکشاف تو تحریک منہاج القرآن کے وائس چیئر مین کے کنجہ لب سے پھوٹا ہے اس لئے کہاجاسکتا ہے کہ ” سیاست نہیں ریاست“ کے نعرے کے پیچھے کوئی لمبی کہانی ہے،پہلے وہ ”مشّرفی اسمبلی“ میںایم این اے بنے تھے اب دیکھیں کون سے سرخاب کے پر لگاکر وہ 90روز میں قومی خدمات سرانجام دینگے،نہ جانے حضرتِ علاّمہ کو پھر کہیں سے بشارت ملی ہے یا کوئی خواب دیکھا ہے۔میاں اظہر اور عمران خان سے لیکر بہت ساروں نے وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھے تھے لیکن وہ چکنا چور ہوگئے لیکن علامہ صاحب کا خواب قدرے مختلف ہوتا ہے کیونکہ وہ وکیل بھی ہیں اور مولوی بھی،قانون بھی جانتے ہیں اور منطق بھی اس لئے وہ اپنے خواب کو سچ ثابت کرنے کیلئے ایسے ایسے دلائل دیتے ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن انکی خدمت میں عرض ہے کہ ....
 شب گزرنے کو ہے پرویز ابھی سو جاﺅ
جاگتے میں تو کوئی خواب نہیں اترے گا
 بہرحال ہم ایڑیاں اٹھا کر اگلے 90روز کا انتظار کر رہے ہیں دیکھیں اقتدار کا ہُماعلامہ طاہر القادری کے سر پر بیٹھتا ہے یا کسی کے گھٹنوں میں ۔
٭....٭....٭....٭....٭
عافیہ کو واپس لا کر صدر زرداری شہید رانی کے مشن کا حق ادا کریں: فوزیہ صدیقی
شہید رانی کے خواب اگر پورے کئے جاتے تو آج ہمارا ملک گھپ اندھیروں کا منظر پیش نہ کر رہا ہوتا۔ شہید رانی کا مشن تو بلند تھا، لگتا ہے وہ بلاول ہی آ کر پورا کرے گا....
خزاں کی شام کہاں تک رہے گی سایہ فگن
بہت قریب ہے صبحِ بہار تیز چلو
ایک دفعہ پیپلز پارٹی میں بہار ضرور آئے گی لیکن انتظار کی ضرورت ہے۔ فوزیہ صدیقی کو اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہئے انشاءاللہ عافیہ ضرور ایک دن پاک سرزمین پر آئے گی۔ ان اداس لمحوں کی رخصتی کا وقت قریب آنے والا ہے۔ ہماری بہن عافیہ جلد واپس آئیگی۔ ایک بے ضمیر تو در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے، باقیوں پر بھی بے آواز لاٹھی آنے والی ہے، تھانے دار منہ تکتا رہ جائے گا، سارے پلان اکارت ہو جائیں، پنکی شہید کا مشن بھی پورا ہو گا، اور حق کی آواز بھی گرجے گی۔
٭....٭....٭....٭....٭