جمعۃ المبارک ‘ 10 ؍ محرم الحرام1432 ھ‘ 17؍ دسمبر 2010ء

بابر اعوان نے چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی کو فون کیا ‘ جبکہ چودھری برادران نے جواب دیا ہے کہ وفاقی حکومت اپنی حرکتیں درست کرے تو شامل ہو سکتے ہیں۔
وفاقی حکومت کی حرکتوں سے مسلم لیگ (ق) بھی اتنی ہی تنگ ہے‘ جتنی مسلم لیگ (ن) اور یہ قدر مشترک اتحاد کیلئے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ بہرحال یہ تو اب میاں نواز شریف جانیں یا انکی بے کار کی ضد‘ لیکن ہم اتنا بتا دیں کہ چاروں طرف سے لوہا گرم ہے‘ کیونکہ پیپلز پارٹی کی تکہ بوٹی ہوتی جا رہی ہے۔ میاں صاحب کے بارے میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ بوٹی اٹھانے کے بجائے آصف زرداری کو بچائیں گے‘ کیونکہ ایک موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ وہ پرویز مشرف کے ساتھ تو اتحاد کر سکتے ہیں‘ لیکن مسلم لیگ قاف کے ساتھ اتحاد نہیں کر سکتے۔ شاید انکی سیاست میں ذاتی عناصر بھی شامل ہو گئے ہیں اور یہ کامیاب سیاست کی نشانی نہیں۔ بابر اعوان جوڑ توڑ کے ظہیرالدین بابر ہیں‘ ان کا فون گیا ہے تو وہ اپنی وفاقی حرکتیں بھی چودھری صاحبان کی فرمائش پر ٹھیک کرلیں گے‘ پیپلز پارٹی کا یہ سیاسی وصف ہے کہ اپنا کام چلانے کیلئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتی ہے اگر اس نے مولانا کو بھی منا لیا اور مسلم لیگ قاف کو بھی شامل کرلیا تو اسکی بگڑی بن سکتی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی آر جی ایس ٹی کی قربانی دیدے جو وہ فی الحال دیتی نظرآرہی ہے تو اسے مستقبل کی سیاست میں بھاری فائدہ ہو سکتا ہے۔
٭…٭…٭…٭
ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن اور اولڈ راوین ہونے کے ساتھ ساتھ سکہ بند شاعر بھی ہیں اور بزلہ سنجی میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ مدیر نوائے وقت کو بھجوائی گئی انکی ایک نظم ملاحظہ فرمائیے اور اندازہ لگائیے کہ جب آتش جواں تھا تو یہ ’’بزرگِ جواں‘‘ کیسے کیسے تارے توڑ کر نہیں لاتے ہونگے‘ انکی اس نظم کا ورود 1959ء میں انہیں ایک شرارتی مچھر کے کاٹنے کے فوری ردعمل میں ہوا تھا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ڈینگی کوئی نیا نہیں‘ عشق جیسا قدیم عارضہ ہے۔
اے آمدنت باعثِ بیماریٔ مِا
(تضمین برشعرِ حافظِ شیرازی )
ایک مچھر سے یہ کل میں نے کہا
’’اے کہ میرا خون ہے تیری غذا
اس نکمے خون سے کیا خاک ہو
پرورش تیری یہ تیرا ارتقا
رنگا رنگ آٹے کے باعث یہ غلام
ہر گھڑی دردوں میں ہے بس مبتلا
پیٹ کے اندر بھی اور باہر بھی درد
سلسلہ دردوں کا کچھ یوں ہے چلا
لیکن اے جانِ جہاں‘ جانِ بہار
میں نہ چاہوں گا کہ ہو تجھ سے دغا
تو کہ ہے نوخیز‘ کلیوں کی طرح
اور ابھی تجھ کو ہے دنیا دیکھنا
اس لئے اس گندے خوں سے کر حذر
اور جا کر دیکھ کوئی گھر نیا
فرض کر مل بھی اگر جائے تجھے
جستجو سے قطرہ خالص خون کا
فائدہ کیا ایسی محنت سے کہ ہو
جس میں خطرہ جاں کا ظاہر اور کھلا
تُو تو محوِ جستجو ہو اور اُدھر
دیکھ لے تجھ کو کوئی دشمن تیرا
چپکے سے جا کر وہ دے اس کی خبر
کارپوریشن کے عملے کو ذرا
ڈنڈے ہاتھوں میں لئے وہ دوڑے آئیں
اور تیرا مارنا سمجھیں روا
میرا مقصد اس خوشامد سے فقط
تھا اسے مقصد سے اس کے ٹالنا
شومئی قسمت کہ وہ ظالم کہیں
فارسی سے تھا بہت ہی آشنا
سن کے میری چاپلوسی اس نے یہ
شعر حافظ کا ترنم سے پڑھا
’’من نہ آں رِندم کہ ترکِ شاہد و ساغر کنم
محتسب داند کہ من ایں کارہا کمتر کنم‘‘
(میں ایسا رِند نہیں ہوں جو محبوب اور شراب سے دست بردار ہو جائوں‘ محتسب یا کوتوال کو علم ہے کہ میں ہرگز ایسی دست برداری کرنیوالا نہیں ہوں‘ یعنی تجھے ضرور کاٹوں گا)
٭…٭…٭…٭
مولانا فضل الرحمن نے قاضی حسین احمداور چودھری شجاعت سے ملاقاتیں کی ہیں، چودھری شجاعت نے بتایا کہ مولانا کا کہنا تھا کہ حکومتی اتحاد میں واپسی کے امکان کیلئے اپنے دروازے بند کرلئے ہیں۔
اس بیان سے لگتا ہے کہ مولانا اب ڈیزل کے بجائے مولانا بلڈوزر بن گئے ہیں اور وہ حکومت کو بلڈوز بھی کرسکتے ہیں پھر قاضی اور چودھری سے ملاقاتیں تو ایک دھکہ اور لگانے کے مترادف ہے، لیکن مولانا کے تو دروازے ہی نہیں پھر وہ کیسے واپسی کے امکان کو روکیں گے خاص کر ایسی حالت میں جبکہ مسلم لیگ نون کے قائدحکومت کے ساتھ کھڑے ہیںاور اُسے گرانے کے مخالف ہیں‘بہرحال جو بھی ہو اب کچھ تو ہوکر رہے گا کیونکہ پیپلز پارٹی بھی مولانا کو دل میں رکھتی ہے اور تاش کے پتے کھیلنے کی خوب ماہر ہے یہ اتنا بھی آسان نہیں کہ مولانا کے نکل جانے سے پیپلز پارٹی کے ہاتھ سے سب کچھ نکل جائے البتہ مسلم لیگ نون کیلئے امکانات کے بہت سے دروازے کھلے ہیں کہ وہ مسلم لیگوں کو اکٹھا کرکے پانسہ ہی پلٹ دے، مگر میاں نواز شریف مینار پاکستان پر چڑھ کر قراردادمقاصد کی رٹ لگائے ہوئے ہیں یہ نہیں کہ نیچے بہت بڑا میدان ہے اس میں اپنا دل کھول کر لیگی دھڑوں کو متحد کردیں اور نئے امکانات کے دروازے کھول دیں پاکستان دراصل نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریے کا نام ہے ، بکھری ہوئی مسلم لیگ کا نام نہیں قائد نے ایک جماعت بنائی تھی دو نہیں بنائی تھیں اور اب جو یہ لیگوں کا مینا بازار لگا ہے تو کیا اس طرح وہ پاکستان بن سکے گا جسے بابائے قوم کا پاکستان کہا جاسکے۔