ہفتہ ‘7 ذیقعد 1431ھ16 ؍ اکتوبر 2010ء

پنجاب اسمبلی میں اجلاس کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی‘ جب حسن مرتضیٰ نکتہ اعتراض پر گفتگو کر رہے تھے‘ جوابًا رانا ثناء اللہ نے کہا سمجھ نہیں آتی حسن مرتضیٰ کب سیریس ہوتے ہیں اور کب یہ مذاق میں بات کرتے ہیں۔ سپیکر نے بھی تائید کی جس پر حسن مرتضیٰ نے وزیر خوراک چودھری عبدالغفور کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ میں سیریس نہیں ہوں تو صوبائی وزیر یہاں ہی مر جائیں۔ اس پر چودھری عبدالغفور نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ غلطی حسن مرتضیٰ کریں اور نتائج میں بھگتوں؟ ایوان میں سیریس رہا کریں۔
یہ ایسی خبر ہے جو اپنی جگہ ایک اضحوکہ ہے اور اس پر مزید فکاہی قلم اندازی کی ضرورت نہیں‘ تاہم یہ کار ثواب ہو گا کہ ہم بھی اس میں اپنا حصہ ڈال دیں‘ حسن مرتضیٰ کسی طرح ایوان میں سیریس نہیں ہوتے اور غیرسنجیدہ حرکتیں کرتے رہتے ہیں جن سے فضاء قدرے خوشگوار ہو جاتی ہے مگر ایسی خوشگواری بڑی مہنگی پڑیگی جسکے نتیجے میں ایک عدد وزیر خوراک جان سے جائے۔ حالانکہ حسن مرتضیٰ کو اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانی چاہیے تھی اور کہنا چاہیے تھا کہ اگر میں نان سیریس ہوں تو مجھے اللہ اٹھالے۔ انہوں نے شاید ایسا اس لئے نہیں کہا کہ کہیں انکی اپنی جان نہ جاتی رہے کیونکہ کوئی کتنا بھی غیرسنجیدہ ہو‘ موت سے ضرور ڈرتا ہے۔ رانا صاحب خود کب سنجیدہ ہوتے ہیں کہ حسن مرتضیٰ پر قدغن لگا رہے ہیں‘ شاید وہ غیرسنجیدگی میں رقابت سے خوفزدہ ہیں‘ ممکن ہے حسن مرتضیٰ نے اس لئے بھی وزیر خوراک کے سر پر ہاتھ رکھا ہو کہ عوام کو خوراک پوری اور سستی ملے‘ بہرصورت قیاس کن زگلستان من بہار مرا (میرے گلستان کو دیکھ کر میری بہار کا اندازہ کرلیں) کے مصداق اسمبلی سیریس کب ہوئی ہے اگر ایسا ہوتا تو کیا صوبے کے یہ حالات ہوتے؟
٭…٭…٭…٭
کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی دستے کے چیف ڈی مشن ڈاکٹر محمدعلی شاہ نے کہا ہے‘ شجاع الدین پر عذاب نازل ہوا‘ اسی لئے ان فٹ ہوئے‘ جبکہ شجاع الدین ویٹ لفٹر نے احتجاجاً کھیل چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔
اس سے بڑا عذاب کیا ہو گا کہ ایک وزیر کھیل‘ کھلاڑی کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستانی دستے کو لیڈ کرے‘ باقی شجاع الدین نے جب کھیل ہی چھوڑ دیا تو اس پر عذاب کیسا؟ عذاب تو پاکستان ویٹ لفٹنگ پر نازل ہوا کہ ایک گولڈ میڈلسٹ اس سے جدا ہو گیا۔ ہمارے حکمرانوں کو روحانی تصرف کا بھی دعویٰ ہے‘ یہی وجہ ہے کہ محمدعلی شاہ کے مطابق انکے کہنے اور چاہنے پر شجاع الدین پر عذاب الٰہی نازل ہوا‘ حالانکہ وہ اس عذاب کو بھول گئے جو ان پر جھنڈا اٹھا کر نازل ہوا۔ باقی حق بات تو یہ ہے کہ جہاں پہلے ہی عذاب نازل ہونے کی کیفیت ہو‘ وہاں کسی کو یہ کہنا کہ اس پر عذاب نازل ہوا‘ ایسے ہی ہے‘ جیسے کسی کو آگ میں جلتا دیکھ کر کہا جائے کہ وہ آگ میں جل رہا ہے۔ یہ پورا ملک عذاب میں ہے‘ عذاب میں کسی کو عذاب کی دھمکی دینا‘خود ایک عذاب ہے۔ جو محمدعلی شاہ کی صورت میں موجود ہے‘ پاکستان کھیلوں کے میدان میں راج کرتا تھا‘ ایسے میں ایک گولڈ میڈلسٹ ویٹ لفٹر کو ان فٹ قرار دے دینا خود اپنی جگہ عذاب ہے۔ کرکٹ اور ہاکی کا کھیل روبہ زوال باقی کھیلوں میں اگر کوئی ملک کا نام پیدا کرتا ہے تو اسے زیر عتاب لایا جاتا ہے۔ کیا یہ عذاب نہیں جو دراصل محمدعلی شاہ پر نازل ہو چکا ہے۔
٭…٭…٭…٭
میکلوڈ روڈ کے تاجروں نے نوسر باز کو پکڑ کر کھمبے سے باندھ دیا۔
ویسے تو ہمارے ملک میں اکثر حکمران دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے تاجر لگتے ہیں‘ مگر عوام میں میکلوڈ روڈ کے تاجروں جتنی جرأت نہیں کہ وہ انہیں کھمبے سے باندھ سکیں۔ میکلوڈ روڈ کے پاس ہی ہال روڈ ہے‘ جو دراصل بے حال روڈ ہے‘ جہاں نوسر بازی کا بازار گرم رہتا ہے مگر یہ نوسرباز چونکہ نشہ آور چیز کھلا کر ایک شخص کو لوٹنا چاہتا تھا‘ اس لئے میکلوڈ روڈ کے تاجروں نے اپنا حال چھپانے کیلئے میکلوڈ روڈ کے نوسرباز کو زینت کھمبا بنا دیا۔ ممکن ہے ہال روڈ اور میکلوڈ روڈ میں دیانت دار تاجر بھی ہوں مگر اکثر و بیشتر اشیاء کی خرید و فروخت میں ان دونوں بازاروں میں کھمبا کیس رونما ہوتے ہیں۔ مگر ایسے بددیانت تاجروں کو کھمبے سے نہیں باندھا جاتا‘ اس لئے کہ انکی نوسربازی کو کوئی جانچ نہیں پاتا۔ ہمارے ہاں اتنے کھمبے نہیں جتنے نوسرباز ہیں‘ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ عوامی عدالتیں لگیں اور مجرموں کو کھمبوں سے باندھنے کے بجائے کھمبا بنا دیا جائے کیونکہ نوسربازوں کی کئی اقسام ہیں جو کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ نوسربازوں کے نو نو سر ہوتے ہیں اور قوم کے ہاتھوں میں نو نو چوڑیاں ہیں اس لئے وہ کیونکر نوسربازوں کو سر کر سکتے ہیں بلکہ یہ ملک ہی نوسربازوں کا ہے‘ خدا جانے کب وہ خونیں انقلاب آئیگا جس کی شہباز شریف نوید سناتے ہیں کہ سارے ملک کے نوسربازوں کو کھمبوں سے باندھ کر ہمیشہ کیلئے بندھا ہوا چھوڑ دیا جائے اور وہ نشانِ عبرت بن جائیں۔
٭…٭…٭…٭
وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے کہا ہے‘ ملک میں دو آئین نہیں چل سکتے‘ راستے بند ہونے پر بھی نہیں بھاگیں گے۔
اگر اس ملک میں دو وزیراعظم چل سکتے ہیں تو دو آئین کیوں نہیں؟ بہرحال بابر اعوان‘ بابر بعیش کوش عالم دوبارہ نیست پر عمل پیرا ہیں‘ اس لئے شدتِ بیان بازی میں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اگر راستے بند ہونگے تو بھاگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر بند راستوں کے باوجود بھی بھاگنے کا امکان ہے تو ابھی سے راستے چیک کر لینے چاہئیں۔ بابر صاحب‘ صدر کو دعائیں دیں جنہوں نے یہ سارے وزیر اکٹھے کر رکھے ہیں‘ جو وزیر کم اور لکیر زیادہ ہیں۔ البتہ وہ فقیر نہیں ہو سکتے گویا وہ لکیر کے امیر ہیں اور اگر ملک پر فقط امراء کی حکومت ہی ہوا کرتی ہے تو یہ جماعت ہو یا وہ جماعت‘ غریبوں کے مسئلے کیونکر حل ہو سکتے ہیں۔ ہم صرف پیپلز پارٹی کی بات نہیں کرتے‘ ’’ہوتی آئی ہے کہ ہر حکومت ہی یہی کرتی ہے‘‘ بابر صاحب نے عدلیہ کے ساتھ بھی دبے لفظوں میں بازی بازی باریش بابا ہم بازی والا کرتوت کیا ہے‘ بابا کی داڑھی پر ہاتھ ڈالنا‘ دریدہ دہنی بھی ہے اور دریدہ دستی بھی۔ گویا باالفاظ دیگر وہ عدلیہ پر انتقام کا الزام لگا رہے ہیں جس کا عدلیہ چاہے تو نوٹس بھی لے سکتی ہے۔