منگل ‘ 6رمضان المبارک ‘ 1434ھ ‘ 16 جولائی2013 ئ

ٹماٹر کے بغیر بھی سالن پک سکتا ہے خواتین ہانڈی میں لیموں ڈال لیں : وزیر خوراک بلال یاسین کا مہنگے ٹماٹروں پر مشورہ !بلال یاسین کا یہ مشورہ تو روٹی نہ ملنے سے بھوکا مرنے والے غریب کو کیک کھا کر پیٹ بھرنے کا مشورہ دینے کے مترادف ہے‘ وہ درحقیقت مہنگائی کے مارے عوام کے زخموں پر لیموں نچوڑ رہے ہیں‘ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ بازار میں لیموں تو ٹماٹر سے بھی مہنگے ہیں‘ اگرٹماٹر کے بغیر سالن پک سکتا ہے تو پھر بلال یاسین کے بغیر صوبائی کابینہ بھی پوری ہو سکتی ہے۔ میاں صاحبان کسی زمیندار کو خوراک کا وزیر بنائیں، بلال یاسین تو لاہور کی پیداوار ہیں انہیں کیا پتہ کہ خوراک کس بھاﺅ بکتی ہے؟ سپیکر قومی اسمبلی لاہور سے، وزیر ریلوے بھی لاہورسے ، صوبائی وزیر خوراک اور ایجوکیشن کا قرعہ فال بھی لاہور کے نام نکلا جبکہ دفاعی پیداوار بھی زندہ دلانِ لاہورکے سپرد کر دی گئی۔ میاں صاحب پھر لاہور کابینہ تشکیل دے لینی تھی باقیوں کا کیا قصور ہے؟ رمضان بازاروں میں مہنگائی کی آگ لگی ہوئی ہے جبکہ بلال یاسین مگرمچھوں کو چھوڑ کر غریب دکانداروں کے پیچھے پڑے ہیں‘ وہ صرف لاہور کے وزیر نہیں کہ وہ صبح سے شام تک انہی بازاروں میں ٹہلتے رہیں ذرا جنوبی پنجاب جا کر بھی چکر لگائیں وہاں اندھیر نگری مچی ہے۔ خوراک کیسے پیدا کی جاتی ہے اس کیلئے کسان کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وزیر خوراک کو اسکی ابجد کا بھی علم نہیں۔ انہیں تو بس بھاٹی چوک کا نام آتا ہے انہیں کیا پتہ فصل ربیع اور فصل خریف تیار کرنے کیلئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ ٭۔٭۔٭۔٭۔٭سول جوہری معاہدہ کیلئے پاکستان کی طرف سری لنکا کا جھکاﺅ، بھارت تشویش کا شکار ہے : بھارتی اخبار !بھارت کے پیٹ میں کیوں مروڑ اُٹھ رہے ہیں سری لنکا کی مرضی ہے وہ سرینگر سے تعلقات قائم کرے یا سری پائے سے۔ بھارت نے خود تو امریکہ سے جوہری معاہدے کر رکھے ہیں کیا کولمبو نے کبھی اس پر اعتراض کیا ہے۔ بزرگ کہتے ہیں کہ دشمن کے ہمسائے سے تعلقات مضبوط بناﺅ تاکہ مشکل وقت میں وہ آپکے ساتھ کھڑا ہو۔ جس طرح پاکستان نے چین کے ساتھ تعلقات مستحکم بنا رکھے ہیں‘ اسی طرح سری لنکا کا پاکستان کیساتھ بندھن مضبوط ہونا چاہئے۔ رواں برس جب بھارت نے اقوام متحدہ میں تامل معاملے پر سری لنکا کے خلاف ووٹ دیا تھا اسلام آباد کو اسی وقت کولمبو کے ساتھ ہمنوائی کرلینی چاہئے تھی لیکن ہم خوابِ غفلت سے بیدار ہی نہیں ہوتے۔ چلیں پہلی ٹرین اگرچہ چھوٹ گئی ہے تو اب کی بار نہیں چھوٹنی چاہئے، سری لنکا کا ہماری طرف جھکاﺅ بھی ہے اور ہمیں بھی اس سے بہتر وقت اور موقع نہیں ملے گا۔ حکومت پاکستان سری لنکا کیساتھ فی الفور سول جوہری معاہدہ کرکے اسے بھارت کے چنگل سے چھڑالے‘ اس سے بھارت کا نشہ خود ہی ہرن ہو جائیگا۔ ٭۔٭۔٭۔٭۔٭توقیر صادق اثر و رسوخ کے باعث چیئرمین اوگرا بنے، تحقیقات میں بعض سابق وزراءکے نام بھی سامنے آنے کا امکان ! توقیر صادق بہت ساروں کو ”بے توقیر“ کرینگے۔ کرپشن کی گنگا میں بہت سارے سیاسی رہنماﺅں نے اشنان کیا تھا لیکن اب نیب ان سب کی صفائی پر اتر آیا ہے‘ اُمید ہے بڑے مگرمچھوں کیساتھ ساتھ چھوٹی مچھلیاں بھی پکڑی جائیں گی۔ موسم سرما میں نہریں بند کر کے جس طرح ”بھل صفائی“ مہم شروع کی جاتی ہے نئی حکومت بنتے ہی نیب والے بھی بھل صفائی کی طرح ”کرپشن صفائی“ شروع کر دیتے ہیں۔ توقیر صادق خود تو بے توقیر بھی ہوئے اور صداقت کا دامن بھی کھو بیٹھے اب صاف ظاہر ہے وہ کسی اور کو تو سر اٹھا کر عزت سے جینے نہیں دینگے۔ پیپلز پارٹی کے جن رہنماﺅں نے انہیں عہدہ لیکر دیا جنہوں نے کرپشن کی دلدل میں انکا ساتھ دیا پھر جنہوں نے رشوت لیکر فرار کروایا سب کے چہروں سے ”ماسک“ اترنے کا وقت آ چکا ہے۔ نیب حکام کو تفتیش میں ذرا جلدی کرنی چاہئے جس طرح توقیر نے کرپشن کرنے میں جلدی کی تھی ایسے ہی تفتیش کر کے اسے بے توقیر کرنے میں جلدی کی جائے۔ ہمارے ہاں ہر اہم کیس میں متعلقہ حکام چیونٹی کی رفتار سے تفتیش کرتے ہیں بس یہ ہمارے ملک کا ہی قصہ ہے۔ منیر نیازی نے کہا تھا .... 
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے ۔۔۔۔ کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ 
ہمارے ہاں کرپشن کی حرکت تیز ہوتی ہے جبکہ ریکوری کا سفر انتہائی سست ہوتا ہے۔ ٭۔٭۔٭۔٭۔٭غربت پر بیوی سے جھگڑا، برکی میں فیکٹری ورکر نے 3 بچوں سمیت نہر میں کود کر خودکشی کر لی ! بیوی کی زندگی بھر کی کمائی نہر کی نذر ہو گئی اب وہ کس سے جھگڑا کرے گی، نہ ہی معصوم بچوں کی بھوک بھوک کی آوازیں اسے سنائی دیں گی۔ ہائے غربت تُو کتنی ظالم ہے؟ تین بچوں کا کیا قصور تھا؟ وہ پھول جو کھلنے سے پہلے ہی مسل دئیے گئے وہ تو اللہ سے سوال کریں گے .... ع .... بِاَیِ ذَن±بٍ قُتلِت انہیں کس جرم کے تحت مارا گیا۔ یہ سوال قیامت کے دن اگر اہل علاقہ اور اصحابِ ثروت سے کیا گیا تو وہ کیا جواب دیں گے، انہیں ابھی سے اس کی تیاری کر لینی چاہئے۔ اصحابِ اقتدار کو بھی اس سوال کے جواب کیلئے خود کو تیار رکھنا چاہئے۔ غالب نے کہا تھا .... 
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب ۔۔۔۔ تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں 
اب تو اہل کرم کا تماشہ دیکھنے کی نوبت نہیں آتی کیونکہ مہنگائی اس قدر جان لیوا ہو چکی ہے کہ چراغ لیکر بھی ہم اہل کرم کو تلاش نہیں کر سکتے۔ غریب روٹی مہنگی ہونے کے باعث خودکشیاں کر رہے ہیں۔ جس ملک میں دو وقت کی روٹی نہ ملنے کے باعث معصوم بچوں کو نہر میں پھینک دیا جائے وہاں کے حکمرانوں پر تُف ہی کی جا سکتی ہے۔ پہلے حکمران فرات کے کنارے بھوکا کتا مرنے پر بھی اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہراتے تھے اور اسی ڈر سے راتوں کو گلیوں میں گشت کیا کرتے تھے لیکن اب بھوکا پیاسا مرنے پر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔