جمعرات 16 جولائی 2009ء

صوبائی دارالحکومت کا سارا حُسن تجاوزات نے خراب کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سڑک نظر نہیں آتی‘ تجاوزات دکھائی دیتے ہیں‘ ہر دور میں ان تجاوزات کو مستقل ہٹانے کی بات کی گئی مگر بات ہَوا میں اُڑ گئی۔
اس وقت پورا لاہور تجاوزات سے اس طرح بھرا ہوا ہے جیسے چیچک کے دانوں کا مریض دانوں سے بھرا ہوتا ہے‘ بعض اوقات یہ تجاوزات ہٹا بھی لئے جاتے ہیں مگر اگلے روز پھر اپنی جگہ قائم ہوتے ہیں‘ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب یہ تلخ گھونٹ بھر لیں اور لاہور کو تجاوزات سے پاک قرار دے دیں تو یہ ایک تاریخی کام ہو گا‘ بازار اگر اپنی حدود میں رہیں تو حادثات بھی کم ہوں گے‘ تجاوزات کی اس قدر بھرمار ہے کہ گاہک کا اصل دکان تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔باقاعدہ اعلان کیا جائے کہ فلاں تاریخ تک تجاوزات ہٹا لی جائیں‘ ایک ڈیڈ لائن دی جائے پھر اس کے بعد آپریشن کلین اپ کر دیا جائے اور اس میں کوئی رو رعایت نہ کی جائے۔
٭…٭…٭…٭
ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہے‘ ایٹمی ٹیکنالوجی کے بعد ہم سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی طرف گامزن ہیں۔
گھپ اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن جو ہمارے سائنس دانوں کی طرف سے آتی ہے‘ وہ قابل فخر اور صد ستائش ہے۔ آج امریکہ اگر دنیا پر راج کر رہا ہے تو صرف اور صرف ٹیکنالوجی کی بنیاد پر۔ ہمارے ہاں حکومت سائنس اور ٹیکنالوجی کی سرپرستی کرے اور بڑے سائنس دانوں کے علاوہ سائنس کے طالب علموں کی ایجادات کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کرے۔
سٹیلائٹ ٹیکنالوجی میں قدم رکھنا انتہائی خوش کن ہے‘ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں‘ مگر سرپرستی کی انتہائی کمی ہے جس کے باعث قوم خرافات میں کھو گئی ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں وہ مقام حاصل کرلیں کہ پاکستان دنیا میں اپنی ساکھ کو قائم رکھ سکے۔ بھارت نے پراپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو دنیا میں خاصا بدنام کر رکھا ہے اور پاکستان ایک دہشت گرد ملک کے طور پر مشہور ہو گیا ہے۔ یہ سارے داغ دھونا ہماری حکومت اور قوم دونوں کا فرض ہے کہ وہ خالصتاً علم کی طرف توجہ دے۔ یہ کُکڑ بازیاں اور کُکڑ لڑانے کا سلسلہ اب ٹھپ کر دینا چاہئے‘ جس ملک کی سیاست کالاباغ ڈیم نہ بننے دے‘ بھلا وہ ملک سائنس اور ٹیکنالوجی میں کیا خاک ترقی کریگا؟
امریکہ نے ہمیں جنگ میں جھونک دیا ہے اور ہماری توجہ معیشت اور سائنس کے میدان میں صفر ہو گئی ہے۔ امریکہ کو اب آخری سلام کہہ دینا چاہئے تاکہ پاکستان یکسوئی کیساتھ اپنی بنیادی ترقی کے کاموں پر توجہ دے سکے۔ ثمر مبارک مند کو مبارک ہو اور قوم کو بھی کہ کہیں سے تو روشنی کی کرن آرہی ہے اور ثمر ملنے کی امید بھی!
ہمیں قارئین کی طرف سے متعدد خطوط اور ٹیلی فون کالیں موصول ہو رہی ہیں کہ گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آخر حکومت اس مہمل ایکشن سے کیا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟ کیا ایسا کرنے سے لوڈشیڈنگ میں کوئی کمی آئی‘ یا کوئی اور فائدہ اس اقدام سے ہوا؟ پھر کیا وجہ ہے کہ حکومت لکیر کی فقیر بن کر ایسے لایعنی اقدامات کرکے صرف سرمایہ اور وقت ضائع کرتی ہے۔ کیا ایسا کرنے سے لوڈشیڈنگ میں کوئی کمی آئی؟ جب ایسا نہیں ہے تو پھر کیوں ایسے بے معنیٰ اقدام پر عملدرآمد جاری ہے؟
حکومت کو چاہئے کہ وہ ٹھوس اقدامات کرے اور کسی طرح بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرے۔ اگر یہ بات سچ ہے کہ بیرونی کمپنیوں کو ادائیگی نہ ہونے کے سبب یہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے تو حکومت کیوں یہ ادائیگیاں نہیں کرتی تاکہ جو جنریٹرز مذکورہ کمپنیوں نے عدم ادائیگی کے باعث بند کر رکھے ہیں‘ وہ چالو ہوں اور لوڈشیڈنگ ختم ہو۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ زرعی بنک نے پانچ برسوں میں پونے 13 ارب روپے سے زائد کے قرضے سود سمیت معاف کئے۔
ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سے قرضے لے کر اس میں سے لوگوں کو زرعی قرضے دینے اور پھر سود سمیت معاف کر دینے کے بارے میں زرعی بنک نے اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دے دی ہے۔ قومی دولت وہ بھی قرضے کی‘ کس بے دریغ انداز میں خرچ کی گئی اور بعد میں اسے معاف کر دیا گیا۔ کیا کسی قوم کیساتھ اس سے بڑی ستم ظریفی ہو گی؟ یہ زراعت کے نام پر قرضے اگر زراعت کی ترقی کیلئے لئے گئے ہوتے تو آج زراعت اس قدر کسمپرسی کے عالم میں نہ ہوتی۔ جس ملک میں فکاہیہ تحریریں ختم ہو جائیں اور انتہائی خوفناک خبریں عام ہوں‘ وہاں کوئی کیا خاک خوشی کی بات قوم کو سنا سکے گا؟
یہ تو صرف زراعت کا شعبہ ہے‘ خدا جانے باقی شعبوں میں قومی دولت لوٹنے کا کیا عالم ہو گا۔ قوم کو غلط فیصلوں سے اس مقام پر پہنچا دیا گیا ہے کہ گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا۔ زراعت ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے‘ اس ہڈی کو مضبوط بنانے والوں کو شاید ہی قرضہ ملا ہو گا‘ قرضے تو وہ بڑے بڑے زمیندار لے کر کھا گئے ہوں گے اور چھوٹے زمینداروں کو نہ قرضے ملے ہوں گے اور نہ وافر پانی ملا ہو گا۔ قرض لے کر آگے قرضے دینا اور پھر ان کو معاف کردینا‘ اس قوم کے ساتھ بدترین ظلم ہے۔ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو دیکھتے ہیں کہ وہ کیسے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ کس طرح یہ زرعی قرضے معاف ہوئے اور سود سمیت معاف کر دیئے گئے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے تو قرضے واپس لینے چاہئیں اور سود بھی۔ احتساب کا عمل جتنا شفاف ہو گا ‘ انصاف اتنا ہی اجاگر ہو گا۔