جمعۃ المبارک‘ 24 ؍ربیع الاوّل 1436ھ‘ 16 ؍ جنوری 2015ء

جمعۃ المبارک‘ 24  ؍ربیع الاوّل 1436ھ‘ 16  ؍ جنوری 2015ء

فاٹا کے 11 ارکان قومی اسمبلی کا حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ، گورنر ملاقات کیلئے وقت تک نہیں دیتے!
شاید خیبر پی کے کے گورنر سردار مہتاب خان یہ بھول رہے ہیں کہ وہ اگر سردار ہیں تو فاٹا کے یہ 11 ممبران بھی اپنے علاقوں کے خان اور سردار ہیں، یہ کوئی کمی کمین نہیں، مالی لحاظ سے بھی شاید گورنر سے بہت آگے ہیں۔ فاٹا کی یہ ممبری مفت میں ہاتھ نہیں آتی، دل کھول کر پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے پھر جا کر قسمت یاوری کرتی ہے۔
یہ کوئی عام پاکستانی سیاستدان نہیں جو الیکشن ہار بھی جائیں تو سیاسی رشوت کے طور پر انہیں کہیں گورنر، سفیر یا مشیر لگا دیا جاتا ہے اور وہاں بیٹھ کر وہ الیکشن ہارنے کا غم غلط کرنے کے ساتھ ساتھ الیکشن میں خرچ کی جانے والی رقم بھی بمعہ سود وصول کرتے ہیں۔ اس لئے گورنر خیبر پی کے کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ فاٹا کے ممبران سونے کا انڈہ دینے والی وہ مرغیاں ہیں جو ہر مشکل وقت میں حکومت کے ساتھ مل کر اسے مشکلات سے بچاتی ہیں اس لئے انکی ناراضگی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔ حضرت اکبر الہ آبادی سے معذرت کے ساتھ …؎
اکبر دبے نہیں کسی سلطان کی فوج سے
لیکن شہید ہو گئے ’’فاٹا‘‘ کی موج سے
اور انہیں گورنری کی بہتی گنگا سے ہاتھ دھونا پڑیں۔
 وزیراعظم اس وقت سعودی عرب کے دورے پر ہیں شاید ان کی واپسی پر یہ ممبران سے ملاقات کر کے اپنی بے توقیری کی تلافی کروا دیں گے کیونکہ ہمارے وزیراعظم میں یہ خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ وہ ناراض دوستوں کو جلد منا لیتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وہ بار بار شکایات کا سبب بننے پر گورنر خیبر پی کے کو بھی جھنجوڑیں تاکہ ان سے چپکے کاہلی کے پتے گریں اور وہ کم از کم حکومت کے مہربانوں کو تو ناراض کرنے سے باز رہیں ویسے بھی بہت سے حکومتی حلقے بھی ان کی بے مروتی پر شکوہ کناں ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
پاکستان عوامی تحریک نے بھی 17 جنوری سے تحریک چلانے کا اعلان کر دیا!
لگتا ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری کے ستارے کہیں نہ کہیں آپس میں ضرور ملتے ہیں جبھی تو جوں ہی عمران تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہیں مولوی صاحب بھی اس میں اپنا لُچ تلنے آ جاتے ہیں اور ’’مان نہ مان میرا تیرا مہمان‘‘ بن جاتے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ شاید مولوی جی کا حلوہ ختم ہو گیا ہے اور وہ مزید سوجی، گھی اور چینی لینے کے چکر میں ایک بار پھر اسلام آباد کا چکر لگانے کیلئے پَر تول رہے ہیں۔ بقول غالبؔ …؎
دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کئے ہوئے
مگر یہ حالت حضرت غالب کی تو ہو سکتی ہے کسی مولانا کی نہیں کیونکہ وہ تو پہلے ہی اپنے پندار کا صنم کدہ ویراں بلکہ برباد کر چکے ہوتے ہیں اور اس مقام تک اپنی ہستی کو فنا کر کے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ سب علم و عرفان کی باتیں ہیں عام آدمی کو ان کی سمجھ کہاں آ سکتی ہے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا مولوی جی نے یہاں سے مال بٹور کر بغل میں پوٹلی دبا کر بیماری کی ایسی ایکٹنگ کی کہ بڑے بڑوں کو ان پر ترس آنے لگا۔ گھر سے دو افراد کا سہارا لے کر باہر آنا، ہانپتے کانپتے ہوئے کرسی پر کُشن لگا کر بیٹھنا، مدقوق سے رونی صورت بنا کر ملتجیٰ نگاہوں سے کیمروں کی طرف دیکھنا اور پھر دو افراد کا سہارا لے کر بمشکل چند لفظ بول کر پراڈو میں سوار ہو کر فرار ہونا ابھی عوام کے ذہنوں میں تازہ فلم کی طرح موجود ہے۔ اگر محمد علی زندہ اور دلیپ کمار ہوش میں ہوتے تو مولوی جی کی اداکاری دیکھ کر ان کی شاگردی اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتے۔
اب پاکستان عوامی تحریک والے 17 جنوری کو یعنی عمران خان کے دھرنا پروگرام سے ایک روز پہلے کیا گل کھلاتے ہیں جلد پتہ چل جائے گا البتہ حکومت کو چاہئے کہ وہ انکے مطالبات پر ہمدردانہ غور ضرور کرے اور اسے پورا کرنے کی ہرممکن کوشش کرے کیونکہ یہ بلا صدقے سے ہی ٹالی جا سکتی ہے۔ ورنہ انسان کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھرتی ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
سزائے موت پانے والوں کے ورثا کا مقتولین سے صلح کی کوششوں پر پانی پھر گیا!
جب سے دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث افراد کو پھانسی پر لٹکانے کا عمل شروع ہوا ہے یہ جیلوں میں بند بڑے بڑے پھنے خان قسم کے قاتل بھی خوف کے مارے تھر تھر کانپنے لگے ہیں، ان کی راتوں کی نیند اور دن کا چین ختم ہو گیا ہے جو پہلے طاقت، دولت اور سفارش کے زور پر دن رات جیلوں میں آرام دہ محفوظ زندگی کے مزے لوٹتے تھے وہ سب عیاشیاں دھری رہ گئی ہیں اب ان کا زیادہ وقت گھر والوں کو صلح کرانے اور لے دے کر معاف کرنے کے معاملوں پر صرف ہو رہا ہے اور یہ سب کچھ بیچ کر، فروخت کر کے اپنی زندگی بچانے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہے۔ یہ وہی ہاتھ اور پائوں ہیں جن کے ذریعے یہ بے گناہوں کو مارتے، قتل کرتے اور ان کے سروں اور جسموں کو ٹھڈے مارتے تھے اس وقت تو ان کے لبوں پر یا آنکھوں میں رحم کا جذبہ تک بیدار نہیں ہوتا ہے اور آج خود یہ عبرت کی تصویر بنے ہیں۔ کہاں وہ نمرود اور فرعون سا تکبر اور کہاں یہ بے چارگی والی موت جس کے تصور سے ہی ان پر لرزہ طاری ہو رہا ہے اور کپڑے گیلے ہو رہے ہیں۔ فیض نے مردانہ وار موت کا پھندہ چومنے والے کے لئے کہا تھا ’’جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے‘‘ مگر یہاں تو ان کو بکروں کی طرح، بھیڑوں کی طرح کھینچ کھینچ کر گھسیٹتے ہوئے تختہ دار کی طرف لے جانا پڑتا ہے اور یہ ذبح ہونے والے بکروں اور بھیڑوں کی طرح ڈکارتے ہوئے، ہاتھ پیر چلاتے ہوئے، روتے بین ڈالتے روانہ ہوتے ہیں اور ان کی ساری مردانگی اور دہشت رفو چکر ہو چکی ہوتی ہے ان جیسے لوگوں کی طرف سے معافیاں اور صلح نامے تو … ؎
کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
والی بات ہے ورنہ پھانسی کی سزا سے قبل انہوں نے اور انکے گھر والوں نے کبھی یہ کوشش کیوں نہیں کی۔