اتوار‘ 15 ربیع الثانی 1435ھ‘ 16 فروری 2014ئ

ویلنٹائن ڈے پر کئی شہروں میں احتجاج، 8 طلبہ زخمی 13 گرفتار!
کہاں عالمی یومِ محبت پر پھولوں کے تحفے ملتے ہیں اور کہاں ہمارے ہاں یہ لڑائی جھگڑے کی سوغات لے کر آتا ہے۔ دنیا بھر میں ”ویلنٹائن ڈے“ سرخ گلابوں اور چاکلیٹ کی سوغات لاتا ہے۔ محبت ایسا لافانی جذبہ ہے جو انسان کو متحرک بناتا ہے۔ خدا سے ہو تو ولی، ماں باپ سے ہو تو فرمانبردار، بھائی بہن سے ہو تو ہونہار، دوستوں سے ہو تو وفادار، بیوی سے ہو تو صاحبِ کردار، اولاد سے ہو تو نگہدار بناتا ہے۔ مشرقی معاشرے میں تو یہ جذبہ ازلی رشتوں کی لڑی میں کچھ اس طرح پرویا ہُوا ہے کہ کوئی بھی اس کی ہمہ گیری اور اثرات سے انکار نہیں کر سکتا۔ مگر مغربی معاشرے میں اس کی اصل روح کو فراموش کر کے اسے صرف دو جوان دلوں کے رشتے سے جوڑ دیا ہے اور سُرخ گلابوں کو نذرانہ¿ محبت بنا کر اپنی شوخ خواہشات کو اہمیت دی گئی ہے۔ مشرقی معاشرے میں بھی ....
کبھی کتابوں میں پھول رکھنا
کبھی درختوں پہ نام لکھنا
اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے، مگر اسے ہم اظہار کا ذریعے نہیں بنا سکتے کیونکہ ہم وصال سے زیادہ ہجر کی طاقت پر اسکی اثر پذیری پر یقین رکھتے ہیں۔ اب کیا کریں یہ دن منانے والے اور روکنے والوں میں جو کچھ ہُوا اس پر ہم افسوس ہی کر سکتے ہیں مگر اندرون خانہ بتانے والے کہتے ہیں کہ ”یومِ محبت مُردہ باد“ کے نعرے لگانے والے کئی نوجوان بھی احتجاجی مظاہرے کے بعد واپس جاتے ہوئے اپنے چاہنے والوں کیلئے پھول بیچنے والوں کی دکان سے سرخ گلابوں کی ایک شاخ لیتے ہوئے نظر آئے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
”عام آدمی پارٹی“ کے وزیر اعلیٰ دہلی نے کابینہ سمیت استعفیٰ دیدیا !
یہ ہے تیسری دنیا کے کرپٹ معاشرے کا اصل چہرہ جہاں کسی بھی ملک میں ابھی تک عوام کو اصل طاقت اور حکومت حاصل نہیں ہو سکی، صرف مراعات یافتہ طبقوں نے چہرے بدل بدل کر نام بدل بدل کر حکومت کی ہے، کبھی آمریت کی شکل میں کبھی نام نہاد جمہوریت کی شکل میں۔ بھارت جیسے جمہوری ملک ہونے کے دعویدار سماج میں بھی 66 برس بیت گئے ابھی تک مراعات یافتہ کرپٹ طبقات کی سوچ نہیں بدلی۔ کانگرس ہو یا جنتا پارٹی، دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں ان کی سیاسی اجارہ داری دیکھیں ایک پارٹی گاندھی اور نہرو کی پالیسیوں کی دعویدار ہے تو دوسری مذہبی جذبات بھڑکا کر ”راج پاٹ“ حاصل کرنا چاہتی ہے، ان دونوں کی دوڑ لگی ہوئی تھی کہ دہلی سے ”عام آدمی پارٹی“ نے اچانک پانسہ پلٹ دیا اور ان حقیقی عوام کے نمائندوں نے جن کا تعلق عام انسانوں سے ہے، تنگ گلی محلوں کی فاقہ زدہ مخلوق سے ہے میدان میں آ کر ایسا جھاڑو پھیرا کہ دہلی جو ہندوستان کا دل ہے اس سے کانگرس اور جنتا پارٹی کا صفایا کر دیا اور عام آدمی کو راج سنگھاسن پر بٹھا دیا۔ ابھی عام آدمی پارٹی کے وزیر اعلیٰ کو اپنے ہاتھ میں اختیارات لئے 50 دن بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ کرپشن کے خلاف ان کے بل کو اسمبلی میں دو حریف جماعتوں یعنی کانگرس اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایکا کر کے ناکام بنا دیا۔ یہ کسی بل کی ناکامی نہیں تھی ان کروڑوں لوگوں کی آواز کی ناکامی تھی جو کرپشن کو ختم کر کے ایک نیا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں مگر روایتی جعلساز سیاستدانوں نے اس کو ناکام بنا دیا، یہ صدمہ عام آدمی پارٹی کی برداشت سے باہر نکلا اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کچروال نے کابینہ سمیت استعفے دیکر عام آدمی کی طاقت اور غیرت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ یہ استعفے ایک طمانچہ ہے جو تیسری دنیا کے تمام کرپٹ ممالک کے حکمرانوں کے منہ پر عام آدمی کی طرف سے لگایا گیا ہے جو دن رات زبانی کلامی عوام اور میرٹ کا نام لیتے نہیں تھکتے اور عملی طور پر کرپشن کی گنگا میں نہا رہے ہوتے ہیں۔ سچ کہتے ہیں ....
رام تیری گنگا میلی ہو گی
پاپیوں کے پاپ دھوتے دھوتے
گنگا آج بھی بہہ رہی ہے عوام کے گناہ تو اس میں دُھل جاتے ہیں مگر وہ بھی ان پاپی کرپٹ حکمرانوں کے گناہ دھونے سے قاصر ہو گئی ہے۔ اب دیکھتے ہیں بیدار ہونے والا یہ عام آدمی کس طرح اس نظام کو بدلنے کیلئے برسر پیکار ہوتا ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
فلمسٹارمِیرا اور کیپٹن نوید کے اہلخانہ میں اختلافات، سُسرال والوں نے گھر آنے سے روک دیا!
معلوم نہیں مِیرا کو امریکہ راس نہیں آیا یا اس کے سُسرال والوں کو مِیرا راس نہیں آئی۔ اب بھلا اتنا عرصہ انتظار کے بعد اور اتنے لوگوں میں سے مِیرا نے صرف کیپٹن نوید کو اپنا جیون ساتھی چُنا تو اس کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ضرور ہو گی ورنہ ایک سے بڑھ کر ایک رشتہ مِیرا کیلئے حاضر تھا مگر بقول شاعر ....
بانٹ رہا تھا جب خدا سارے جہاں کی نعمتیں
اپنے خدا سے مانگ لی میں نے تیری وفا صنم
گنگناتے ہوئے مِیرا نے نوید کا ہاتھ تھام لیا مگر معلوم نہیں کیوں محتبوں کے اس سفر میں یہ دونوں ہوش و خرد سے اتنے بیگانے کیسے ہو گئے کہ ان کی نجی زندگی وڈیو لنک کی زبانی افسانوں کی زد میں آ گئی اور سرعام اس پر تبصرے ہونے لگے، کم از کم اتنا تو ہوش ہونا چاہئے عالمِ مدہوشی میں کہ دشمن کی نگاہوں سے محفوظ رہا جائے۔ بہرحال اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت“ سُسرال والے مِیرا کی طرف سے نو صرف بدظن ہیں بلکہ انہوں نے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا اور اسے بہو کی بجائے اپنے خاندان کیلئے بدنامی قرار دیا ہے۔ مگر کیپٹن نوید تو مِیرا کے ساتھ ہے اور ہماری دعا ہے کہ یہ جوڑی بنی رہے کیونکہ ہم سے مِیرا کی روتی بسورتی شکل دیکھی نہیں جاتی۔