جمعرات ‘ 27 رمضان المبارک 1433ھ16 اگست 2012 ئ

عمران خان‘ شیخ رشید کے ساتھ اتحاد کے معاملے پر ”اُن“ کی سفارش کے ہاتھوں مجبور ہوئے‘ حافظ حسین احمد۔
حافظ صاحب اگر ”اُن“ کا نام بھی لے لیتے تو عوام کیلئے سمجھنا آسان ہو جاتا ۔اگر عمران خان دفاع پاکستان کونسل میں بھی نمائندے بھیج رہا ہے اور جے یو آئی سے بھی مذاکرات میں مصروف ہے تو امریکہ اسے مزید مضبوط کیوں کرے؟ یہ تو کوئی Reasonable orgument نہ ہوئی۔ چلے کارتوس نہ جانے کیسے تبدیلی لائیں گے؟ پھر عمران کا حال تو اس شوہر جیسا ہو گا جو اپنی بیگم کی فرمائش پر بلی کو کہیں دور چھوڑنے گیا‘ لیکن بیگم نے دیکھا تو بلی اسکے خاوند کے آگے آگے چلی آرہی تھی۔ بیگم کے استفسار پر شوہر نے بتایا کہ میں اسے ویرانے میں چھوڑنے گیا تھا لیکن وہاں پہنچ کر خود راستہ بھول گیا‘اس لئے مجھے اسکے پیچھے پیچھے آنا پڑا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ لوٹے عمران کو منہ کے بل گرا دیں اور پھر انقلاب خان کو انکی بتی کے پیچھے لگ کر اپنا بکھرا وجود برقرار رکھنا پڑے۔ خان جی یہ موسمی پرندے الیکشن جیت کر بھی کسی اقتدار والی پارٹی میں اڈاری مار جائینگے۔
2002ءکے الیکشن میں یہی شیخ رشید ہر دروازے پر جا کر کہتے تھے کہ دونوں سیٹیں جیت کر نواز شریف کے قدموں میں ڈھیر کردوں گا‘ پنڈی کے عوام نے اس آواز پر لبیک کہا‘ لیکن میاں نواز شریف کی انا اور ضد کے باعث شیخ دونوں سیٹیں جیت کر مشرف کے قدموں میں رکھنے پر مجبور ہوئے اور خود وزارت کی گاڑی پر سوار ہو گئے۔ عوام نے 2008ءکے الیکشن میں انہیں راندہ¿ درگاہ کردیا‘ تب سے آج تک شیخ جی کسی سہارے کی تلاش میں تھے‘ جو انہیں خان کی شکل میں مل گیا۔ گویا....
ہم تو ڈوبے ہیں صنم‘ تم کو بھی لے ڈوبیں گے
٭....٭....٭....٭
رحیم یار خان پولیس افسر نے شراب میں ٹن ہو کر جشن آزادی منایا‘ موٹر سائیکل کو چلانے کے بجائے گھسیٹتا رہا۔
انسپکٹر عبدالعلیم کی عقل پر ایسا پردہ پڑا کہ وہ رمضان کو بھی بھول گیا۔ پولیس ایسی ٹن ہے کہ اسے پیٹی بھائی کا یہ لُچ نظر ہی نہیں آیا‘ آئی جی پنجاب نے نہ جانے اس سے نظریں کیوں چھپائی ہیں‘ اگر کسی غریب کا بچہ ”ٹن“ ہونے کی جرا¿ت کرتا تو یقینی طور پر اس سے پوچھا جانا تھا۔ چن ماہی دس کتھے گزاری اے رات ۔ پلسیے نے سوچا ہو گا‘ یوم آزادی ہے‘ چلیں ٹن ہو کر ”ہوہا“ کرلیں۔ آجکل تو پولیس نے عیدی مہم شروع کر رکھی ہے۔ بس اعلیٰ حکام کے گھروں میں بھی کچھ بھیجنا ہوتا ہے۔ مہنگائی بھی عروج پر ہے‘ ہر جگہ ناکے لگا کر غریب شہریوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ ادھر ڈاکو کمپنی بھی عیدی مہم پر نکل آئی ہے‘ لگتا ہے سابقہ ادوار کی طرح اس دفعہ بھی دونوں الگ الگ ہی نکلے ہیں لیکن جس طرح کُتیا چوروں کےساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے‘ ایسے ہی ایسے پلسیے اور ڈاکو بھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر عوام کو لوٹنے کا بندوبست کر رہے ہیں کیونکہ جب حرام زبان کو راس آجائے تو پھر حلال کھانے میں لذت نہیں رہتی۔ اوپر سے لے کر نیچے تک آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ شاعر نے کہا ہے....
مجھ ہی پہ جرم ڈکیتی کی تہمتیں کیوں ہیں؟
بہت سے راہبروں نے بھی قافلہ لوٹا
میں سامعین پہ جھپٹا ہوں وہ خزانے پر
کسی نے ملک کسی نے مشاعرہ لوٹا
٭....٭....٭....٭
آلودہ پانی قابل استعمال بنانے کا تجربہ خیرپور کے طالب علم کو نیویارک یونیورسٹی نے اڑھائی لاکھ ڈالر کی سکالرشپ ایوارڈ دیا۔
”قدر پھلاں دی بلبل جانے“
 شاداب نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا‘ جوہری ہیرے کو تراش کر چمکدار بناتا ہے اور پھر اسکی منہ مانگی قیمت وصول کرتا ہے۔ ہم تو ایسے پھنسے ہیںکہ سیاست دانوں نے پوری قوم کو غیروں کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے۔ ہم یہی کہہ سکتے ہیں:
پاکستان جواریوں میں پھنس گیا .... اللہ خیر کرے
شاداب کسی وڈیرے یا امیر کبیر کا بیٹا نہیں بلکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے‘ بس حافظ آباد کے پنجاب یونیورسٹی میں ٹاپ کرنیوالے محمد محسن جیسا ہے انہی نوجوانوں کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا....
اٹھو! میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امراءکے در و دیوار ہلا دو
اب یہ غریب اٹھ کھڑے ہوئے ہیں‘ امید ہے ملکی کشتی کو بھنور سے نکال کر ہی دم لیں گے۔ ہماری حکومت کو اب امریکہ کو دیکھ کر ہی شرم محسوس کر لینی چاہیے اور کچھ نہیں تو شاداب کو اسلام آباد بلا کر حوصلہ افزائی ہی کر دی جائے۔ میاں شہباز شریف اچھے جوہری ہیں‘ امید ہے کہ وہ خیرپور کے اس ہیرے کو لاہور بلا کر ضرور تولیں گے۔
٭....٭....٭....٭
ملتان‘ مردہ قرار دی گئی لڑکی پانچ گھنٹے بعد اٹھ بیٹھی‘ 12 گھنٹے بعد انتقال کر گئی۔
ملک میں لوٹ مار دیکھ کر ہر کوئی اگلے جہاں کی ہی دعا کرتا ہے لیکن ملتان میں پانچ گھنٹے بعد نہ جانے کس مسیحا نے آکر لڑکی کو ہاتھ لگایا تو وہ زندہ ہو گئی۔ اس سے قبل ایک ایسا ہی انوکھا واقعہ پیش آیا تھا کہ لڑکی قبر سے زندہ ہو کر باہر نکل آئی اور پھر کچھ گھنٹوں بعد اس کا انتقال ہو گیا ‘ ایسے حالات پر جوش ملیح آبادی کا یہ شعر صادق آتا ہے....
نہ بوئے گل نہ باد صبا مانگتے ہیں لوگ
وہ حبس ہے کہ لُو کی دعا مانگتے ہیں لوگ
اب مردے زندہ ہونا شروع ہو چکے ہیں‘ شاید حکومت کو بتانے کیلئے کہ تم جتنی مرضی مہنگائی کرلو‘ حالات خراب کرلو‘ ہم مر کر بھی زندہ ہو جائینگے۔ جناب بھٹو کل بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے لیکن یہ مردے ویسے زندہ نہیں بلکہ 12 گھنٹے چل پھر کر زندہ ہیں۔ حکومت کیلئے مردہ کا زندہ ہونا خطرناک ہو سکتا ہے‘ امید ہے کوئی ماہر علم نجوم اس پر ضرور روشنی ڈالے گا۔ آجکل کہیں ستارے الٹی چال تو نہیں چل رہے۔ ہم اس مسئلے کو یٰسین وٹو کیلئے چھوڑ دیتے ہیں۔