منگل‘ 9 ذی الحج 1434ھ ‘ 15 اکتوبر2013ئ

پاکستان کے ساتھ ماہی گیر کی ہلاکت کا معاملہ سختی سے اٹھائیں گے : بھارت !
مہاشے پہلے کون سا معاملہ ایسا ہے جو آپ نے پیار و محبت سے حل کیا، پریم کی بھاشا تو آپ نے سیکھی نہیں، آپ کی زبان تو ہمیشہ انگارے برساتی ہے۔ آئے روز آپ کا تونچانہ ہماری سرحدوں پر آتش بازی میں مصروف نظر آتا ہے اگر کبھی ہمارے سورماﺅں نے بھی جوابی طور پر آتش بازی کا مظاہرہ بھولے سے بھی کر دیا تو پھر یاد رکھیں امن کی آشا ہی نہیں پوری پرتھوی کا امن بھسم ہو جائیگا۔ آخر ہم کب تک آپ کی زبانی کلامی اور توپوں کی گولہ باری برداشت کرتے رہیں گے۔ ذرا اپنی جیلوں پر بھی نظر ڈالیں جہاں سینکڑوں بے گناہ پاکستانی اورغریب ماہی گیر عرصہ دراز سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے کرتے پاگل ہو چکے ہیں انکی زندگی اجیرن ہو چکی ہے انکے گھر والے ان کی زندگی کی آس چھوڑ بیٹھے ہیں، اُلٹا آپ ہم پر ہی الزام لگا رہے ہیں۔ سچ کہا ہے کسی نے ....
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
ہمیں دھمکیاں دینے کی بجائے اپنے گریبان میں بھی جھانکیں مہاراج!، صرف الزام تراشی اور الزامات لگا کر طوفان برپا کرنا مناسب نہیں۔ اگر حکومت پاکستان نے بھی آپ کے گھناﺅنے کرتوتوں سے پردہ اٹھانا شروع کیا تو آپ کیلئے چہرہ چھپانا مشکل ہو جائے گا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
اباڑو میں 2 بہنوں کے ساتھ تھانے میں زیادتی، ایس ایچ او سمیت 3 اہلکار معطل، وزیر اعلیٰ نے نوٹس لے لیا !
ایسے بہیمانہ واقعات کا تسلسل جہاں ہمارے معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کو عریاں کر رہا ہے وہاں ہماری انتظامیہ اور حکومتی مشینری کی بے حسی کو بھی نمایاں کر رہا ہے۔ کوئی بھی ادارہ یا شخص جو تھوڑا سا بھی بااختیار ہو جائے حکومت کی رٹ کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے اور فرعون کا روپ دھار لیتا ہے۔ جب محافظ ہی لُٹیرے بن جائیں تو عوام کا پُرسان حال کون ہو گا۔ عام آدمی ایسی حرکت کرے تو قانون حرکت میں آتا ہے جب خود قانون کے رکھوالے انہی کالے کرتوتوں میں مبتلا ہوں تو پھر کس سے انصاف طلب کیا جائے۔ حکمرانوں کی تو بات ہی کچھ اور ہے انہیں کار جہاں سے فرصت نہیں ہوتی، وہ صرف نوٹس لیتے ہیں اور اسکے بعد سب کچھ انہی افسران اور اہلکاروں نے کرنا ہوتا ہے جو خود ان جرائم میں شریک ہوتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہونا ساغر صدیقی کے اس شعر کی تفسیر بیان کرتا ہے ....
جس دور میں لُٹ جائے غریبوں کی کمائی
اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
اس لئے شہباز شریف ہوں یا قائم علی شاہ انہیں ان بے لگام حیوانوں کو لگام ڈالنا ہو گی یہ وحشی کسی رعایت کے مستحق نہیں، انہیں نشان عبرت بنا کر ہی ہم متاثرہ افراد کے زخموں پر مرہم رکھ سکتے ہیں۔
نواز شریف کی شکل میں قوم کو مسیحا مل گیا : صدر ممنون حسین !
ہمارے نئے صدر اس وقت سعودی عرب میں فریضہ حج ادا کرنے گئے ہوئے ہیں اور لگتا ہے وہاں ان کی روحانی کیفیات میں بھرپور اضافہ ہو گیا ہے چنانچہ انہوں نے جذب و مستی کے عالم میں دیکھ لیا ہے کہ میاں نواز شریف ہی پاکستانی قوم کے مسیحا ہیں ”نصیب لوٹنے کی جاہ ہے“ ان ایام مقدس میں اس طرح کی روحانی کیفیت کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ ایسے کشف اور غیبی لطائف کا نزول ہر ایک کی قسمت میں کہاں یہ واردات قلبی کسی کسی کا مقدر ہوتی ہے۔ صدر ممنون حسین بھی ایسے ہی خوش قسمت ہیں اور کیوں نہ ہوں اگر خوش قسمت نہ ہوتے تو صدر پاکستان کیسے بنتے ورنہ کئی رفیق اور شفیق اس عہدے کے سپنے دیکھتے دیکھتے اپنی زندگی کے بقایا دن گزار رہے تھے اور منمون کے صدر بننے پر ....
پھول چاہے تھے مگر ہاتھ میں آئے پتھر
ہم نے آغوشِ محبت میں سلائے پتھر
جیسے پتھریلے شعر پڑھ کر اپنے احساسات و جذبات کو حسرتوں کے قبرستانوں میں دفنا دیتے ہیں اب کہیں ہمارے صدر حج سے واپسی پر میاں صاحب کو مسیحا شریف کہنا نہ شروع کردیں۔ کہتے ہیں‘ جناب مسیح السلام قیامت سے پہلے نزول فرمائیں گے۔ ہمارے مسیماصاحب کے دور میں توقیامت کے آثار ملک میں نظر آنے لگے ہیں۔کسی نے تو قیامت کی تاریخ بھی دے دی ہے لیکن وہ بہت بعد کی ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
مغرب کی نہیں پاکستان کی بیٹی ہوں اس پر فخر ہے : ملالہ !
اس وقت عالمی سطح پر ملالہ یوسفزئی کی جس طرح پذیرائی ہو رہی ہے اس سے کافی پاکستانی اگر خوش ہیں تو کافی جل بُھن بھی رہے ہیں۔ ایک لڑکی ہونے کے ناطے وہ بھی خیبر پی کے میں سوات جیسے علاقے میں جو ہے تو جنت ارضی مگر اسے جہنم کے داروغوں نے دوزخ بنا رکھا تھا۔ ملالہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز بلند کی اور اپنے خون سے حریتِ فکر کی کتاب لکھی، اس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ اب اس کا یہ کہنا کہ وہ پاکستان آ کر سیاست کریں گی تو ایک اچھا خیال ہے مگر اس کی تعبیر بھیانک بھی ہو سکتی ہے اس کی زندہ مثال سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی زندگی اور موت ہے ہمارے معاشرے میں بقول جوش ....
ہوتا ہے جو بھی یہاں جویائے انقلاب
ملتا ہے اسکو کافر و زندیق کا خطاب
قدم قدم پر رکاوٹیں اسکا استقبال کرتی ہیں اور موت تک اسکی راہ دیکھتی ہے، اس کا اندازہ ملالہ کو ہونا چاہیے جو خود بھی اس تجربے سے گزر چکی ہے بہتر یہی ہے کہ وہ تعلیم کیلئے خود کو وقف کریں، نامور ہونے کیلئے جدوجہد میں بے نظیر ہونا ضروری نہیں، فلورنس نائیٹگل اور مدر ٹریسا بھی تو عورتوں کیلئے مشعل راہ ہیں۔ صحت اور تعلیم کے شعبہ میں ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ ملالہ مادرِ ملت فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت خان کی طرح انہی شعبوں پر ہی توجہ مذکور رکھیں تو کچھ ہی عرصے بعد خود بخود اس ملک میں حقیقی انقلاب آ سکتا ہے۔