جمعتہ المبارک ‘ 25؍ رجب المرجب 1436ھ ‘ 15؍ مئی 2015ء

جمعتہ المبارک ‘ 25؍ رجب المرجب 1436ھ ‘ 15؍ مئی 2015ء

شمالی کوریا کے وزیر دفاع کو فوجی تقریبات میں متعدد بار سونے پر دی گئی سزائے موت پر طیارہ شکن توپ کے ذریعے عملدرآمد کر دیا گیا۔
اگر یہ سلسلہ دنیا بھر میں شروع ہو گیا تو پھر پاکستان میں طیارہ شکن توپیں بہت زیادہ تعداد میں چاہئیں ہونگی کیونکہ یہاں پر تو ہر تقریب میں ہر وزیر اونگھ رہا ہوتا ہے بلکہ اونگھ ہی نہیں رہا ہوتا، بسا اوقات تو اس انداز سے خراٹے مارے جا رہے ہوتے ہیں کہ منہ پر مکھیوں کا اجتماع عام ہوتا ہے اور اردگرد بیٹھے لوگ خڑخڑ کی آواز سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو زیادہ نیند آتی ہوتو وہ حکومت میں مت آئے، بس گھر بیٹھ کر نیند پوری کرے اور مزے سے رہے۔ شمالی کوریا نے ایک مثال قائم کر دی ہے، اب وہاں پر وزراء کی نیندیں اڑ جائیں گی اور وہ پورے ہوش و حواس کے ساتھ میٹنگ میں بیٹھیں گے۔ کاش کوئی ایسا حکمران پاکستان میں بھی آ جائے تو پھر یہاں بھی سارے کام بروقت اور درست طریقے سے سرانجام پائیں۔ ضمیر جعفری نے کہا تھا…؎
بڑی مدت سے کوئی دیدہ ور پیدا نہیں ہوتا
جو ہوتا ہے مسلمانوں کے گھر پیدا نہیں ہوتا
شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ال نے تو ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو ایسی سزا تو نہیں ملے گی کیونکہ یہاں پر آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، کوئی خود ٹھیک ہو گا تو کسی کو سزا ملے گی۔ حکمرانوں سے لیکر نائب قاصد تک سبھی ڈنگ ٹپائو پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ حکمران اپنے آپ کو خود ٹھیک کر لیں ورنہ یہاں بھی کوئی سرپھرا ایسا مطالبہ کر دے گا۔
…٭…٭…٭…٭…٭…
رات 12 بجے تک بٹھا لیں، صبح جلدی نہیں اٹھ سکتے، اوقات میں ریلیف کیلئے سنیٹر مندوخیل کی درخواست پر ایوان میں قہقہے۔
عوام نے ان ممبران کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہے لیکن وہ فرصت کے لمحات تلاش کر کے ایوان میں آنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مندوخیل صاحب! آپ رات بھر کیا کرتے ہیں جو صبح سحر میں آنکھ نہیں کھلتی۔ عوام تو سوچتے ہیں کہ آپ ہمارے خیرخواہ ہیں، آپ آندھی، بارش، نیند، صحت اور بیماری کی فکر کئے بغیر انکی فلاح اور بہتری کیلئے ایوان میں موجود ہونگے لیکن اب آپ کے مطالبے کو سن کر تو یوں ہی کہنا پڑ رہا ہے…؎
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا
مندوخیل کے انوکھے مطالبے نے سب کو ششدر کر دیا ہے، مطلب چیئرمین سینٹ کی مرضی نہیں چلے گی بلکہ سنیٹرز جو کہیں گے وہی ہو گا۔ چیئرمین کی حیثیت کوئی معمول نہیں ہوتی۔ وہ صدر پاکستان کی عدم موجودگی میں سربراہ مملکت ہوتا ہے لیکن مندوخیل نے انہیں کھلونا سمجھ رکھا ہے۔ ویسے سینٹ کے اجلاس کا وقت تو صبح آٹھ بجے ہی ہونا چاہئے تاکہ آفس ٹائم میں تمام ملازمین بھی فری ہو جائیں لیکن یہاں تو سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس رات کو ہوتے ہیں اور ملازمین سارا دن سولی پر لٹکے رہتے ہیں۔ اگر سرکاری دفاتر کا ٹائم صبح شروع ہو سکتا ہے اور بیوروکریسی کے بابو صبح صبح اٹھ کر دفتر آ سکتے ہیں تو پھر ممبران اسمبلی اور سنیٹرز کو کیا مسئلہ ہے، وہ کیوں نہیں آتے۔ چیئرمین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی ملکر اس کا کوئی حل تلاش کریں۔
…٭…٭…٭…٭…٭…
سرخ لباس پہننے والے مرد حاکمانہ مزاج کے حامل ہوتے ہیں، نئی تحقیق
ویلنٹائن ڈے پر اکثر دل جلوں نے سرخ کلر پہن رکھا ہوتا ہے، اگر اس قدر حاکمانہ مزاج کے لوگ ہوتے ہیں تو پھر عاشق مزاج کسے کہیں گے۔ صدر معمر قذافی کبھی کبھی سرخ لباس پہنتے تھے، اس کے علاوہ تو کوئی بھی حاکم ایسا شوخ کلر نہیں پہنتا، نہ جانے تحقیق کرنے والے نے کس قسم کے کلر کو سرخ کلر تصور کر رکھا ہے۔ ویسے آج تک سرخ کلر پہننے والوں کے بارے یہی سننے میں آیا تھا کہ وہ سرخ پوش ہوتے ہیں، سرحدی گاندھی کے نام لیوا یا وہ خوش مزاج ہوتے ہیں لیکن آج تک کوئی بھی سرخ لباس پہننے والا حاکم نہیں بنا۔ دیکھیں نئی تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص حاکم بنتا ہے تو پھر ان کی ضرور تقلید کی جائے گی۔ سرخ لباس مثل گلاب کے پھول ہر کوئی پہن کر یوں ہی گویا ہوتا ہے…؎
تیری خوشبو سے جل تھل ہو گیا ہوں
ادھورا تھا مکمل ہو گیا ہوں
…٭…٭…٭…٭…٭…
آر پی او گوجرانوالہ اور ڈی پی او گجرات کی سیٹیں ایک ماہ سے خالی!
دھکا سٹارٹ کام آخر کب تک چلے گا؟ جناب جس گاڑی میں ڈرائیور ہی بیٹھا ہوا نہیں ہو گا اس میں سواریاں بیٹھ کر کیا کرینگی! کنڈیکٹر گاڑی تو چلا لیتے ہیں لیکن سواریاں دل ہی دل میں کلمے کا ورد کر رہی ہوتی ہیں۔ گوجرانوالہ ڈویژن میں آر پی او نہیں تو ڈی پی اوز کی موجیں ہیں، وہاں ہر کوئی آر پی او بنا ہوا ہے، گجرات میں ڈی پی او کی سیٹ خالی ہے تو ہر ڈی ایس پی ماردھاڑ میں لگا ہو گا، پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ویسے جس صوبے کو تین مہینے تک گورنر نہیں ملا اس میں آر پی او اور ڈی پی او کی کیا حیثیت ہے۔ ڈاکے اور چوریاں تو کم ہوئی نہ ہونگی۔
 خادم پنجاب ویسے بھی سارے کام خود کرنے کے عادی ہیں، وہ کابینہ پر زیادہ تکیہ نہیں کرتے، اب شاید انہوں نے آر پی او اور ڈی پی او والا کام بھی خود ہی سنبھال لیا ہو۔ آئی جی پنجاب کو اس طرف نظر کرم کرنی چاہئے تاکہ مخلوق خدا کا کچھ بھلا ہو ورنہ خواری تو عوام کی قسمت میں لکھی ہوئی ہے جو وہ برداشت کر رہے ہیں۔
…٭…٭…٭…٭…٭…