جمعتہ المبارک‘ 2 جمادی الاوّل ‘ 1434ھ ‘ 15 مارچ2013 ئ

15 مارچ 2013 1
Print Email to friend
جمعتہ المبارک‘ 2 جمادی الاوّل ‘ 1434ھ ‘ 15 مارچ2013 ئ

نگران وزیراعظم کیلئے میرا نام بہتر ہے: چوہدری شجاعت حسین
 چوہدری صاحب پہلے بھی حلالہ وزیراعظم بنے تھے اب پھر دل للچا رہا ہے آپ نے خبر نہیں پڑھی ہوگی ورنہ ” پوپ“ کی سیٹ بھی خالی تھی،آپ وہاں بھی ایڈجسٹ ہوسکتے تھے چوہدری صاحب نے سوچا ویسے تو وزیراعظم اب خوابوں میں ہی بن سکتا ہوں اگر اور کچھ نہیں تو اسی طرح رانجھا راضی کرلوں....ع
”رانجھا رانجھا کردی میں آپے رانجھا ہوئی“
 جس طرح دنیا بھر کی خواتین صرف آئینہ دیکھتی ہیں اورپاکستانی خواتین دن بھر ایک دوسرے کو آئینہ دکھاتی رہتی ہیں ، ہمارے سیاستدان بھی پہلے ایک دوسرے کو آئینہ دکھاتے ہیں بلکہ آئینے سے بڑھ کر جوتیاں دکھانے سے بھی باز نہیں آتے ان کے ایسے کرشموں کی میڈیا ٹاک شو زمیں جھلکیاں نظر آتی ہیں ۔
چوہدری شجاعت بھی جگ ہنسائی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے لیکن آئینہ دیکھ کر بُرا بھی مان جاتے ہیں جناب آپ اپنے پیرو مُرشد صدر زرداری سے کہتے کہ آپ کا نام بھی نگرانوں کی لسٹ میں ڈال دیتے لیکن جب گھر سے ہی روکھی سوکھی ملے تو باہر سے مکھن لگنے کی امید نہیں رکھنی چاہئے اب زرداری صاحب انہیں باور کراسکتے ہیں کہ....ع
 بہت دیر کی مہرباں آپ نے تو....
 اگر کچھ عرصہ قبل ہی پیٹ میں انگڑائی لیتی بات کو نکال لیتے تو شاید حلالے کے طورپر آپکا نام بھی نگران وزیراعظم کی فہرست کی زینت بن جاتا۔صدر محترم نے آپ کے لئے میاں برادران کو تو کسی نہ کسی طرح منا ہی لینا تھا چاہے شاہ عبداللہ سے ہی کہلوانا پڑتا۔گجراتیوں کے منہ سے دو چیزوں کا نشہ کبھی ختم نہیں ہوگا ایک جوتی اٹھانے کا دوسرا اقتدار میں رہنے کا۔
ساغر صدیقی ان کا قصیدہ پڑھتے تو یوں گویا ہوتے....
 شہر گجرات کی حسیں گلیاں
 جن میں رقص بہار دیکھا ہے!
٭....٭....٭....٭
ملتان : سفاک باپ نے روٹی مانگنے پر 11 سالہ بیٹے کو قتل کر دیا۔
11 سالہ بچہ روٹی مانگتے مانگتے خود مٹی کے پیٹ میں چلا گیا۔ مٹی کا پیٹ تو بھر گیا لیکن معصوم بچے کی چیخیں عرشِ الٰہی کو ہلا گئی ہوں گی۔ جب دولت سرمایہ داروں کے گھروں کی لونڈی بن کر رہ جائے تب غریب کی عزت بھی نیلام ہوتی ہے اور اس کے بچے ایک نوالے کو ترس ترس کر یوں ہی مٹی کی خوراک بن جاتے ہیں۔ شاعر نے اسی بنا پر کہا تھا ....
بے درد زمانے والوں نے کب درد کسی کا جانا ہے
اس جگ سے کوئی امید نہ کر، یہ جھوٹا ہے بیگانہ ہے
باپ کے لئے تو بیٹا آنکھوں کا نور اور بازو ہوتا ہے لیکن ظالم اور کم بخت باپ نے اپنا نور ختم اور بازو مروڑ دیا ہے۔ سوتیلی ممتا نہ جانے کہاں گم تھی، حقیقی ماں ہوتی تو تڑپ کر خود ہی جان دے دیتی لیکن ہمسائے تماش بین بن کر صرف مار ہی دیکھتے رہے۔
کاش! کوئی اس پھول کو بکھرنے سے بچا لیتا‘ باپ کے ہاتھوں سے موت کے کُرز کو پکڑ کر عزرائیل ؑ کو روک دیتا۔ لیکن بے حس انسانوں کے دلوں پر پتھر رکھے ہوتے ہیں‘ انہیں تڑپتی لاشیں نہیں رُلا سکتیں۔
 لڑکے نے قبرستان جاتے وقت بزبانِ حال یوں کہا ہو گا ....
دونوں جہاں ” باپ کی شفقت“ میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے
٭....٭....٭....٭
پھولن دیوی ڈاکو تھی بعد میں رکن پارلیمنٹ بن گئی، سنیٹر کاظم خان کا ایوان میں اظہار خیال
ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ یہاں پہلے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوتے ہیں۔ بعد میں ڈاکو بنتے ہیں۔ ووٹ لینے کے لئے تسنیم و کوثر میں دھلی زبان سے وعدے کرجاتے ہیں۔ لیکن ممبر بن کر کبھی خزانے پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ تو کبھی عوامی جیبوں پر حریص نگاہیں جما لیتے ہیں۔ سیاستدان آج کل الیکشن کمشن کے اختیارات پر اس طرح بُڑبڑا رہے ہیں جیسے ساس بہو کے فیشن دیکھ کر بُڑبڑاتی ہے۔
الیکشن کمیشن نے نئی انتخابی اصلاحات کے تحت الیکشن کروانے کا اعلان کرکے امیدواروں کی پوشل پر پاﺅں رکھ دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے تو سارے دشمن دوست بن گئے ہیں۔ ذاتی مفاد کے لئے حرام حلال ہو چکا ہے۔
اب انہوں نے ذاتی مفاد کیلئے اڈاریاں بھی مارنا شروع کردی ہیں۔ پہلے دونوں ہاتھوں سے ملکی خزانے کو لوٹتے رہے‘ اب اگلی پارٹی میں جا کر پھر لوٹیں گے۔ انسان کا کوئی ضمیر بھی ہوتا ہے‘ لیکن یہاں ضمیر بھی مر چکے ہیں اور خود بھی بک چکے ہیں۔ شعر میں ذرا تصرف کے ساتھ عرض ہے....
اے طائر لاہوتی اس ”اتحاد“ سے موت اچھی
جس ”اتحاد“ سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
سیاستدانوں کو کسی اچھے کام پر بھی متفق ہو جانا چاہئے۔ مٹھی بھر مفاد پرستوں کی خاطر جال میں سوراخ کرکے شکار کو بھاگنے کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہئے۔ فخرو بھائی ڈٹے رہو محب وطن عوام اور سیاستدان آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
٭....٭....٭



دیگر خبریں

جمعرات ‘ 6 ذوالحج 1435ھ‘ 2 اکتوبر 2014ء

جمعرات ‘ 6 ذوالحج 1435ھ‘ 2 اکتوبر 2014ء

02 اکتوبر 2014

فوج اور عدلیہ کی حمایت سے بننے والی عبوری حکومت ہی تبدیلی لا سکتی ہے : مشرف! ”رسی جل گئی پر بَل نہیں گیا“ آج بھی مشرف قیدِ تنہائی میں بیٹھ کر اپنی غلطیوں کے ...