ہفتہ 5 شعبان المعظم1434ھ ‘ 15 جون2013 ئ

عائشہ فاروق پاک فضائیہ کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ بن گئیں !
بہادری کا جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ عائشہ فاروق نے جہدِ مسلسل سے ثابت کر دیا ہے کہ اگر انسان منزل کو چھونے کا ارادہ کر لے تو پہاڑ بھی رائی بن جاتا ہے لیکن اگر کام چور ہو تو پھر رائی بھی پہاڑ بن جاتی ہے۔ عائشہ فاروق نے 26 سال کی عمر میں کامیابی کی اس بلندی کو چُھوا ہے جسے سوچتے ہی پسینہ خشک ہو جاتا ہے۔ عائشہ کے علاوہ بھی پانچ لڑاکا خواتین پائلٹس لائن میں لگی ہوئی ہیں۔ کہتے ہیں ہاتھی گزر گیا بس ہاتھی کی پوشل باقی ہے۔ ان کا بھی ہاتھی کی پوشل جتنا کام باقی ہے صرف ٹیسٹ پاس کرنا ہے انہیں .... ع.... ہمتِ خواتین مددِ خدا
پر کامل یقین رکھتے ہوئے ٹیسٹ کیلئے میدان میں کود جانا چاہئے تاکہ صنفِ نازک دیگر شعبوں کی طرح میدانِ جنگ میں بھی اپنے جوہر دکھاتی نظر آئے۔ ان خواتین کی پاک فضائیہ میں آمد سے خواتین کی حوصلہ افزائی ہو گی۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭۔٭۔٭۔٭۔٭۔٭
وزیراعظم میاں نواز شریف کے چہرے پر آخری مرتبہ مسکراہٹ 11 مئی کی رات 12 بجے دیکھی گئی ہے۔ تب وہ اپنے گھر ماڈل ٹاﺅن کی بالکونی پر کھڑے ہو کر کارکنان سے بھرپور کامیابی پر مبارکباد وصولنے کیلئے جلوہ افروز ہوئے تھے لیکن اس کے بعد نہ جانے مسکراہٹ ان سے روٹھ گئی ہے یا پھر مسائل کے گرداب تلے دب گئی ۔ اب تو ہر طرف سے آوازیں آ رہی ہیں کہ .... مدت ہوئی رخِ یار پہ مسکراہٹ دیکھے
صفِ دشمناں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ محفلِ دوستاں سے مُنی بیگم کی آواز آ رہی ہے ....
اِک بار مسکرا دو .... افسانہ¿ چمن کا عنوان ہی بدل دو.... پھولوں کا سر کچل دو.... کلیوں کا دل مسل دو....اِک بار مسکرا دو.... لیکن مسائل کے پہاڑ دیکھ کر میاں نواز شریف کی شایدنیندیں ہی اُڑ گئی ہیں اور چہرے پر سرخی کی بجائے اداسیوں اور پریشانیوں نے ڈیرے جما لئے ہیں اور وہ اپنے بچپن کو نور جہاں کی آواز میں جواب دے رہے ہیں .... ع
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
ہمارا مشورہ ہے کہ میاں صاحب پہلی والی محبت کی طرف بے شک توجہ نہ دیں لیکن اِک بار مسکرا ضرور دیں۔ مسکرانے سے بھی دکھ ہلکے ہو جاتے ہیں۔ وہ پہلے کی طرح بیشک کرکٹ کھیلنے کیلئے وقت نہ نکالیں لیکن تنہائیوں اور اُداسیوں کو رفع کرنے کیلئے اِک بار مسکرا ضرور دیں چاہے جھوٹا ہی مسکرانا پڑے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
کشمیر سمیت تمام تنازعات کا حل موجود ہے۔ پاکستان نے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی یقین دہانی کرائی تھی عمل ہونا چاہئے : بھارتی ہائی کمشنر شرت سبھروال
پاکستان نے تو ابھی وعدہ کیا تھا جبکہ بھارت نے اقوام متحدہ میں 65 سال سے وعدہ کیا ہُوا ہے پہلے وہ اپنے وعدے کی پاسداری کریںپھر ہمیں وعدے یاد دلائیں۔ ویسے جن لوگوں نے بھارت سے وعدے کئے تھے انکے نزدیک وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے اور وہ اپنے وعدوں کو ایسے توڑتے ہیں جیسے معصوم بچے اپنے کھلونوں کو توڑتے ہیں۔ سبھروال صبر کریں اور ٹھنڈا کر کے کھائیں، جب تک بھارت کشمیر سے غاصبانہ قبضہ ختم نہیں کرتا تب تک امن کے چراغ نہیں جلیں گے۔ بھارتیوں کا ایک چہرہ تو ہمارے سامنے ہے اب وہ جتنے مرضی روپ تبدیل کر کے آ جائے ہم اس کے خوانخوار چہرے کو پہچان جائیں گے۔ بھارت وعدے میں پہل کرے پاکستان بھی اس کا مثبت جواب دے گا لیکن جس یقین دہانی کی سبھروال یاد دلا رہے ہیں اس یقین دہانی والوں کی لٹیا تو اسی موسٹ فیورٹ کی یقین دہانی نے ہی ڈبوئی ہے۔ اگر بھارت ان کی دوبارہ آمد تک انتظار میں بیٹھنا چاہتا ہے تو عرض ہے .... ع
اوہ دن ڈُبا جدوں گھوڑی چڑھیا کُبا
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
بچے خسرہ سے مر رہے ہیں حکام خط و کتابت میں وقت ضائع کر رہے ہیں : ہائیکورٹ
شہباز شریف جب خادمِ اعلیٰ تھے تب تو ڈینگی دُم دبا کر بھاگ گیا تھا اب وہ وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں تو خسرہ بھی ٹھاٹھ باٹھ سے پھیل رہا ہے۔ شہباز شریف دوبارہ خادمِ اعلیٰ بنیں اور پنجاب کی تقدیر بدل ڈالیں۔ خط و کتابت اور ”دِیّا“ جلانے والا دور تو ختم ہو چکا ہے اب موبائل پر حکم صادر کرنا چاہئے۔ ہسپتالوں میں ویکسین ہی موجود نہیں، مشیرِ صحت دوڑ تو لگا رہے ہیں لیکن شہباز شریف کے دوڑے بغیر منظر تبدیل نہیں ہو گا۔ بیورو کریسی کو لگام ڈالنا ضروری ہے۔ پھولوں جیسے بچے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں جبکہ ڈاکٹر صاحبان خوش گپیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ شہباز کو اب خادمِ پنجاب بن کر اُڑان بھر لینی چاہئے تاکہ معصوم چراغ گل ہونے سے بچ سکیں۔ جو افراد معصوم جانوں سے کھیل رہے ہیں ان کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہئے۔ دو چار افراد کو ان کے کئے کی سزا مل جائے تو باقی ڈنڈے کی طرح سیدھے ہو جائیں گے۔ حکومت ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائے تاکہ نسلِ نو کی حیات کی حفاظت کی جا سکے۔