بدھ ‘ 25 جمادی الثانی 1436ھ ‘ 15 اپریل 2015ئ

بدھ ‘ 25 جمادی الثانی 1436ھ ‘ 15 اپریل 2015ئ

شجاعت نے بھی ق لیگی امیدواروں کو دھاندلی کے ثبوت جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔ 

اسے باسی کڑھی میں ابال کہا جائے یا لڑائی میں ہارنے کے بعد یاد آنے والا مکا۔ تین برس ہونے کو آئے سوائے عمران خان کے کسی اور جماعت کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ بھی دھاندلی کے خلاف اگر ثبوت نہیں اکٹھے کر سکتی چلو واویلا ہی کر لیتی اس طرح بے چارے عمران خان کو تنہا شور مچانے کے الزام سے بریت حاصل ہو جاتی۔ مگر جب تک شور مچانا تھا سڑکوں پر آنا تھا تو عمران خان تنہا لڑتے رہے۔ مولانا قادری چند روز کی رونمائی کے بعد صحرائے ڈی چوک سے واپس اپنے شبستان لوٹ گئے۔ اب حکومت اور عمران خان کے درمیان جوڈیشل کمیشن کا کھیل شروع ہوا تو بقول شاعر.... ع
ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا“
والی بات کو چودھری شجاعت درست ثابت کرتے نظر آ رہے ہیں اور اس کھیل تماشے میں اپنا کردار ادا کرنے چل پڑے ہیں۔ ابھی تک یہ حضرت اور انکے متوسلین سب لگتا ہے عالم مدہوشی میںتھے کہ اچانک خمار ٹوٹا تو یاد آیا کہ ہمارے ساتھ جو دھاندلی ہوئی ہے اسکے ثبوت بھی اکٹھے کرنے ہیں۔ اب ادھر جوڈیشل کمشن کا کھیل شروع بھی ہو چکا تو یہ نیند کے مارے اب ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارتے دھاندلی کے ثبوت اکٹھے کرنے نکل پڑے ہیں۔
اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ وہ تو بعد میں دیکھا جائے گا اس وقت تو اصل مسئلہ ثبوت حاصل کرنے کا ہے۔ جو آثاروقرائن بتاتے ہیں کہ خود ق لیگ کے جیتنے والے امیدواروں کے خلاف بھی جا سکتے ہیں کیونکہ جہاں جہاں سے یہ جیتے وہ شفاف الیکشن سے زیادہ ان کی ہمت و کوشش کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرح تو ”الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا، والی بات بھی درست ثابت ہوسکتی ہے۔ اب کہیں یہ ثبوت انکے اپنے گلے پڑ گئے تو کون بچائے گا انہیں۔ ویسے بھی کیا یہ حقیقت نہیں کہ 2013ءکے الیکشن میں جہاں جہاں جس جس کا داﺅ چلا اس نے کام دکھایا۔
٭....٭....٭....٭
سوٹ کے بعد اب مودی کی شال پر بھی ہنگامہ، غیر ملکی برانڈ کی ہے۔ سوشل میڈیا پر تبصرے۔
مودی جی بھی بڑے کائیاں ہیں جہاں بھی جاتے ہیں اپنی شہرت کیش کرانے اور اپنی ذات کی تشہیر کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اوباما جی بھارت یاترا پر آئے تو مودی نے دھوتی قمیض اتار کر سوٹ پہنا‘ ان کا دل لبھایا اور انکو رام کرنے کےلئے چائے تک خود بنا کر پیش کی۔ اس سوٹ پر ایک ہنگامہ برپا ہو گیا کیونکہ اس پر کھینچی دھاریوں میں خود مودی صاحب کا نام کندہ تھا۔ اس خودنمائی پر حزب اختلاف اور سوشل میڈیا نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا مگر مودی بھی ”بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا“ کے فلسفے پر پوری طرح عمل کرتے اب بھی نظر آ رہے ہیں۔
آج کل موصوف فرانس، جرمنی اور کینیڈا کے دورے پر ہیں۔ جہاں وہ ”میڈ ان انڈیا“ کا ٹھپہ لگی اشیا کیلئے میدان ہموار کرنے کا بار بھی اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ مگر یہ سارا بار اس وقت ان کے سر پر آ گیا جب سوشل میڈیا اور حزب اختلاف نے ایک بار پھر ان کو غیر ملکی برانڈ کی قیمتی شال کاندھے پہ ڈالے فرانس میں سیر سپاٹا کرتے یعنی سرکاری دورہ کرتے دکھا دیا اور سب یک زبان ہو کر مودی پہ ٹوٹ پڑے کہ جو خود پسند شخص خود غیر ملکی برانڈ کی قیمتی شال کاندھے پہ ڈال کر پھرتا ہو وہ اپنے ملک کی اشیا کےلئے دوسروں کو کس طرح متاثر کرے گا۔
اس شور شرابے میں تو یہ شال مودی کے کاندھے پہ اس ریچھ کی طرح چمٹی نظر آنے لگی ہے جس پر ریچھ کے چنگل میں پھنسے شخص نے کہا تھا کہ میں تو چھوڑ رہا ہوں یہ کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔ اب دیکھتے ہیں مودی جی یہ شال کب اپنے ناتواں کاندھے سے اتارتے ہیں اور بھارت میں جمہور کی حکمرانی خود بھی یہ شال اتار سکتی ہے۔
٭....٭....٭....٭
بلوچستان کی محرومیاں 50 یا 60 ارب روپے یا سو دو سو نوکریاں دینے سے ختم نہیں ہوں گی:وزیراعلی عبدالمالک !
بالکل درست فرمایا ڈاکٹر عبدالمالک نے کیونکہ یہ 50 یا 60 ارب روپے اور یہ سو یا 2 سو نوکریاں تو سب کی سب نوابوں، میروں، خانوں اور سرداروں میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ یہ خداوندان گیتی بالا بالا سب کچھ ہڑپ کر لیتے ہیں اور عوام کے حصہ میں محرومیوں کے سوا آتا ہی کچھ نہیں جب یہ حال ہو تو محرومیوں کو کوئی بھی کس طرح ختم کر سکتا ہے۔
ستم ظریفی د یکھیں بلوچستان کی پوری آبادی لاہور شہر سے بھی کم ہے رقبہ بے شک پورے ملک کے نصف کے قریب ہے مگر کیا گزشتہ 65 برسوں سے وہاں جو حکومتیں بنیں۔ گورنر اور وزیراعلی آئے، وزیر اور بیورو کریٹس آئے۔ عوامی نمائندے بنے کیا ان کے ہاتھ کسی غیر ملکی یا نادیدہ طاقت نے روک رکھے تھے کہ انہوں نے صوبے کو ملنے والے اربوں نہیں کھربوں روپے شیر مادر سمجھ کر ڈکار لئے اور عوام تک اس کے ثمرات پہنچنے نہیں دیئے۔ آبادی کے حساب سے تو اس رقم سے کئی مرتبہ پورے بلوچستان کی آبادیوں کو گرا کر نیا بنایا جا سکتا تھا۔ نئے سے نئے بڑے سے بڑے جدید شہر بسائے جا سکتے تھے۔ آئینہ کی طرح چمکتی اور فولاد کی طرح مضبوط سڑکیں اور پل بن سکتے تھے۔ غربت اور جہالت کو برسوں پہلے خدا حافظ کہا جا سکتا تھا۔ جدید ہسپتال اور فلاحی مراکز کی بہتات ہوتی مگر یہی سب کچھ بلوچستان میں عنقا ہے۔ اگر یہ رقم ایمانداری سے عوام اور صوبے پر خرچ ہوتی تو آج بلوچستان پاکستان کا سب سے خوشحال اور ترقی یافتہ صوبہ ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر ڈاکٹر مالک صاحب بخوبی جانتے ہیں کہ یہاں کے سردار اور نواب، خان اور میر کہاں جاتے۔ ان کی سرداری کیسے برقرار رہتی۔ یہ پانی، بجلی، گیس اور نوکریوں کے متلاشی لوگ بھی تو سرداروں کو سلام کرتے ہیں آسودہ حال کس کو سلام کرے اور کیوں کرے۔ اس لئے تو کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا....
زمیں میر و سلطاں سے بیزار ہے
پرانی سیاست گری خوار ہے