جمعۃ المبارک ‘ 12 ؍ جمادی اوّل 1435ھ‘ 14؍ مارچ 2014ء

جمعۃ المبارک ‘ 12 ؍ جمادی اوّل 1435ھ‘ 14؍ مارچ 2014ء

’’یہ پشاوری چیل کیا طالبان نے دی‘‘ وزیراعظم کا عمران سے سوال !
خان صاحب کو تسمے باندھنے نہیں آتے اس لئے وہ پشاوری چپل پہننا پسند کرتے ہیں۔ ویسے بھی خان صاحب کو پشاور والوں سے پیار جو ہُوا جس سے پیار ہو آدمی پھر اپنا چال چلن، اٹھنا ، بیٹھنا اور اوڑھنا بچھونا اس کو بنا لیتا ہے۔ میاں صاحب بھی خالص لہوریے ہیں اور وہ بھی اندرون شہر کے۔ کبھی کبھار دوران گفتگو سے ان میں لہوریا پن جاگ اٹھتا ہے۔ عمران خان جگت بازی سے ناآشنا ہیں اسی لئے تو کرکٹ ٹیم میں منیجر صدیق انہیں ’’دھوئی ہوئی مولی‘‘ جیسی شکل والا کہتے تھے جس کا عمران خان کو پوری کرکٹ کی زندگی میں پتہ نہیں چلا۔ اگر عمران خان کو تھوڑا سا بھی جگت بازی کا علم ہوتا تو میاں نواز شریف کو جواب آں غزل کے طور پر کہتے جناب یہ صرف چپل ہے کباب نہیں کیونکہ میاں صاحب کھابے کھانے کے  بھی بڑے شوقین ہیں۔ میاں نواز شریف عمران خان کے گھر کی تعریف کر رہے تھے لیکن گھر خوبصورت ہونے کے باوجود اداس اداس تھا کیونکہ اصل مکین جو وہاں نہیں ہیں۔ میاں صاحب کا محل بھی تو کسی سے کم نہیں جبکہ تھر والوں کو کھانا بھی میسر نہیں۔ بڑے بڑے محلات کے قریب سے جب غریب گزرتے ہیں تو ان کی آہیں ان مکینوں کیلئے کافی ہوتی ہیں۔ دنیا کا ایک دستور ہے ہر کوئی دوسرے کو بھول جاتا ہے۔ غالبؔ نے کہا تھا … ؎
زندگی اپنی جب اس طورسے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
پھالیہ : گرلز سکول کے سامنے گھومنے والے برقعہ پوش نوجوان کی شہریوں نے درگت بنا ڈالی!
پھالیہ میں بہروپیا بننے کی بجائے نوجوان ساجد نے حقیقت میں لڑکیوں کا لباس پہن لیا۔ سچ کہا گیا ہے کہ ’’عقل نہ ہوئے تے موجاں ای موجاں‘‘ نوجوان نے برقع پہن لیا لیکن پائوں میں ہیل والی جوتی نہ پہن سکا۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ نقل کیلئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ سکولز کالجز میں نقل کرتے وقت کچھ صاحبِ عقل طلبہ اپنے الفاظ تبدیل کر کے لکھتے ہیں تاکہ من و عن لکھا ہوا دیکھ کر ٹیچر یہ نہ سمجھے کہ اس نے نقل کی ہے۔ پھالیہ کے نوجوان ساجد عمران نے بھی شاید اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے سوچا ہو کہ اگر برقعہ کے ساتھ ساتھ ہیل والا جوتا بھی پہن لیا تو کوئی لڑکی سمجھ کر پکڑ ہی نہ لے لہٰذا کچھ ان کا لباس اور کچھ اپنا رَلا ملا رکھو۔ لیکن بدقسمتی سے اس کا کلیہ ناکام ہوا اور لوگوں نے مار مار کر اس کی شکل تبدیل کر دی۔ لگتا ہے وہ کسی گائوں سے آیا ہو گا اسی بنا پر پورا عقلمند نہیں تھا۔
ہمارے نوجوانوں کے نقل کرنے کے طریقے بھی بڑے عجیب ہوتے ہیں۔ ایک طالب علم نے کہا کہ یار اس دفعہ تو پیپر میں 100 میں سے 100 نمبر لوں گا، ساتھی نے پوچھا وہ کیسے؟ نوجوان بولا، جناب کتاب سامنے رکھ کر پیپر حل کیا ہے۔ دوست نے کہا وہ تو پکڑا جائے گا کہ کتاب سے نقل کی ہے۔ طالب علم بولا یار تو مجھے بیوقوف سمجھتا ہے میں نے تو کتاب سے ایک لائن چھوڑ چھوڑ کر لکھا ہے۔ پھالیہ میں درگت بنوانے والا نوجوان ساجد عمران نامی بھی اسی درجے سے تعلق رکھتا ہو گا۔ پھالیہ کے گرد و نواح میں ساجد بڑے مشہور ہیں۔ پرویز الٰہی دور میں ساجد بھٹی کا طوطی بھی پورے ضلع میں بولتا تھا لیکن اس کے برقعہ پہننے کی نوبت نہیں آئی تھی‘ یہ کسی تھرڈ کلاس سے تعلق رکھنے والے ساجد کی حماقت ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
زیادہ غصہ وزن میں کمی کا سبب بنتا ہے : نئی تحقیق !
پھر تو ورزش چھوڑ کر موٹے لوگوں کو ہر وقت تنگ ہی کرتے رہنا چاہئے لیکن زیادہ غصے کے باعث اگر ان کی شریان پھٹ گئی تو پھر کون ذمہ دار ہو گا لہٰذا نئی تحقیق کو اس بارے بھی کچھ کرنا چاہئے۔ نئی تحقیق کے مطابق غصہ ذہنی پریشانیوں کو بھی ختم کرتا ہے۔ ذہنی پریشانیاں تو صرف ’’سیروا فی الارض‘‘ سے ہی ختم ہو سکتی ہیں۔ انسان نئے موسم اور نئے ملکوں کی سیاحت کو نکل جائے تو سب کچھ بھول سکتا ہے کیونکہ بقول شاعر …؎
بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
چارسُو پھیلے تماشوں کو دیکھ کر انسان کی ذہنی ٹینشن تو ویسے ہی ختم ہو جاتی ہے اور اگر معاشی طور پر بھی انسان مضبوط نہ ہو تو پیدل سیر کو ہی نکل جائے آدھی چربی ویسے ہی پگھل جائے گی۔ علامہ طاہر اشرفی کو وزن کم کرنے کیلئے غصہ دلانا چاہئے، ان کے موٹاپے کا ایک راز تو تصویروں کی صورت میں گوگل پر موجود ہے جس میں موصوف ساحل سمندر ریت پر بیٹھے کچھ پینے کی تیاری کر رہے ہیں انہیں پینے کی بجائے غصہ پی کر اپنا وزن کم کرنا چاہئے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
ننکانہ صاحب : چائے بیچنے والے کو سوئی ناردرن گیس کمپنی کا 28لاکھ روپے کا بل، درست کرنے کیلئے رشوت طلب !
غریب چائے فروش نے پوری زندگی میں 28 لاکھ روپے کی چائے نہیں بیچی ہو گی، بل ٹائپ کرنے والے عملے کی غلطی کی سزا غریب چائے فروش کو دی جا رہی ہے۔ 28 لاکھ روپے کا بل دیکھ کر محمد بشیر کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ اب بل کی درستگی کیلئے کلرک بادشاہ اپنی مُٹھی گرم کرنے کیلئے بیتاب ہے۔ کلرک بادشاہ کے بارے یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ …؎
نشہ چڑھا خودی کا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا
افسران بالا کو کلرکوں کے کان کھینچنے چاہئیں، چائے کھوکھا چلا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والا رشوت دینے کیلئے اپنے پیٹ کو کاٹ کر کلرکوں کی تجوریاں کیسے بھر سکتا ہے۔ ایسے رشوت خور ہر محکمے میں بیٹھے ہیں۔جو نیچے سے رشوت اکٹھی کر کے اوپر پہنچاتے ہیں بس یہ آ وے گا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ بڑے بڑے دفاتر میں بیٹھے مگر مچھوں سے خلاصی نہ جانے کب ممکن ہو گی، انہی خجل خرابیوں سے تنگ آ کر شاعر نے کہا تھا …؎
تجھ سے شکوہ تو نہیں کاتبِ تقدیر مگر
رو پڑے تو بھی، اگر میرا مقدر دیکھے