منگل‘ 11 رجب المرجب1432 ھ‘ 14 جون 2011ئ

وفاقی وزیر نہ ہونے پر وزارت خارجہ کی کسمپرسی بیورو کریسی مطمئن ہے۔
جب وزیر خارجہ ہوتا ہے‘ ملک زیادہ روتا ہے‘ یہ اچھا نہیں کہ گروہِ غلاماں میں سے ایک کم ہو تو ہمارے خارجہ امور پر بہتر اثرات مرتب ہوں اور بیورو کریسی اس لئے مطمئن ہو گی کہ وزیر خارجہ کے حصے کا اطمینان بھی اسے مل گیا۔ کسی زمانے میں وزیر بے محکمہ ہوا کرتے تھے‘ اب محکمہ بے وزیر کی ترکیب کا بھی اردو زبان میں اضافہ ہو گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری حکومتِ چارہ ساز نے قومی زبان کی خدمت بھی شروع کر دی ہے۔ جہاں تک وزارت خارجہ کی کسمپرسی کا تعلق ہے تو یہ اس وزارت کی انکساری ہے اور جب تک وزیر خارجہ کے بغیر رہے گی‘ اس میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ شاہ محمود قریشی کیا گئے کہ وزارت کے ایامِ بہار ہی روٹھ گئے اور اب وہ بھی اپنا سر ہلیری کے بجائے شہباز شریف کے سر کے ساتھ ملانے پر مجبور ہو گئے ہیں‘ دیکھیں اس سے کیا خوشگوار نتیجہ نکلتا ہے؟
اب وزارت بے وزیر‘ اسی لکیر پر چل رہی ہے جو امریکہ کھینچ دیتا ہے۔ اس لکیر پر کتنی ہی چیونٹیاں پہلے سے چل رہی ہیں‘ ہر چیونٹی کے منہ میں ڈالر ہے اور وہ کسی بیرونی بنک کی طرف رواں دواں ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے‘ حکومت پاکستان کو کرائے پر ہی سہی‘ کوئی وزیر خارجہ حاصل کرلینا چاہیے کیونکہ اکیلی سجی سجیلی وزارت کو غنڈے تاڑتے ہیں۔ آخر کب تک وزارت خارجہ عروس بے داماد رہے گی‘ عوام اطمینان رکھیں آپ ساری کابینہ کو فارغ کر دیں تو بھی ملک چلتا رہے گا۔
٭....٭....٭....٭
وزیراعظم کی حفاظت پر مامور غیرملکی کتیا گرمی کی شدت برداشت نہ کرتے ہوئے ہلاک ہو گئی۔
حیرانی ہے‘ ائرکنڈیشنڈ ماحول میں بھی غیرملکی کتیا گرمی کی شدت سے ہلاک ہو گئی‘ ظاہر ہے وزیراعظم جیسی عظیم ہستی کی حفاظت کرنا کوئی آسان کام تو نہیں‘ آہ بیچاری بدیسی کتیا!
حضرت عمرؓ اکیلے رات رات بھر پٹرولنگ کیا کرتے تھے کہ مدینہ کے باشندے کس حال میں ہیں‘ کہیں کوئی چور‘ ڈاکو تو مصروفِ کار نہیں‘ انکی حفاظت اللہ کرتا تھا اور ادھر ہماری حفاظت امریکی کتے کتیائیں کر رہی ہیں۔ اللہ ہی اس ملک‘ اس قوم اور بابائے قوم کے چمن کا حامی و ناصر ہو کہ آثار اچھے نہیں اور ہم بھی اچھے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ بھی اچھا نہیں۔ گرمی کی شدت میں جو مزدور بیس بیس اینٹیں رکھے سیڑھی چڑھتے ہیں تو ملک الموت کے ماتھے پر بھی پسینہ آجاتا ہے۔ اس کو کہتے ہیں گرمی کی شدت‘ مگر وہ پھر بھی ہلاک نہیں ہوتے اور اگر ہو بھی جاتے ہیں تو کوئی خبر نہیں چھپتی اور یوں کام کے بوجھ اور شدتِ حرارت سے روز غریب لوگ لقمہ اجل بنتے ہیں۔ کوئی بدیسی تو کجا‘ کوئی دیسی کتیا بھی انکی خدمت پر مامور نہیں ہوتی۔ بہرحال وہ قوم کبھی نہیں مر سکتی جس کے حکمران سلامت رہیں‘ گرمی سے بچے رہیں‘ انکے گھر کے چراغ جلتے رہیں‘ ان کو ٹھنڈی ہوائیں چھوتی رہیں‘ ہمیں اپنی نہیں اپنے حکمرانوں اور انکی حفاظت پر مامور بدیسی کتیاﺅں کی فکر ہے کہ ان کو تتی ہوا بھی نہ لگے۔
ایک فلپائنی نوجوان دنیا کا سب سے پست قامت شخص قرار دیدیا گیا‘ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اسکا قد 59.93 سینٹی میٹر ‘ بائیس اعشاریہ چھ انچ ہے اور عمر اٹھارہ سال۔
اگر اٹھارہ سال کی عمر میں پست قامتی کا یہ عالم ہے تو آگے چل کر یہ شخص تو زمین میں غرق ہو جائیگا کیونکہ بعض لوگوں کا قد اوپر کی جانب بڑھنے کے بجائے نیچے کی جانب بڑھتا ہے۔ جیسے ہمارے ملک کا قد آدھا رہ گیا ہے اور آدھا کرنیوالوں کا قد اونچا ہو گیا ہے۔ پست قامت ہونا کوئی عیب نہیں‘ پستہ عادت ہونا بری بات ہے۔ بعض لوگ شمشاد قد ہونے کے باوجود چھوٹے دل و دماغ اور نااہلی کا نمونہ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ سارا کام نفس امارہ سے لیتے ہیں اور خوب کامیاب بھی رہتے ہیں کیونکہ شر‘ خیر کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ بہرصورت دنیا کے انتہائی پستہ قامت نوجوان کو ہم اسکی اٹھارویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دنیا کے تمام چھوٹے قد کے لوگوں کے حق میں دعاگو ہیں کہ ان کا قد بڑھے۔ مگر اتنا بھی نہیں کہ انکے بارے میں کہا جائے‘ ”کل طویلِ احمق“ ہر زیادہ لمبا آدمی احمق ہوتا ہے بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ:
”شالا کوئی لمبا تھیوے احمق نہ تھیوے“
چھوٹے قد والوں کو اگر کبھی بغور دیکھیں تو وہ دونوں جانب بازو پھیلا کر اور سینہ پُھلا کر چلتے ہیں تاکہ لوگ سمجھیں کہ وہ بھی ہے‘ اب اس دنیا کے سب سے چھوٹے قد کے انسان کیلئے اسکے قد کی لڑکی تلاش کرنے کا کام انسانی حقوق کی عالمی تنظیم اپنے ذمہ لے تاکہ انسانوں کی یہ نسل ناپید نہ ہو مگر اس کام کو امریکی عمل دخل سے پاک رکھا جائے ورنہ یہ نسل بھی ختم ہو جائیگی۔
٭....٭....٭....٭
صدر اوباما نے رواں سال اپنا مجوزہ دورہ¿ پاکستان منسوخ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
دورے کی منسوخی نے ثابت کر دیا کہ وہ واقعی سیاہ فام مسلم النسل نصرانی امریکی صدر ہیں اور ایسا سیاہ رو پاکستان کی اجلی دھرتی پر قدم بھی کس منہ سے رکھے۔ آج پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے۔ ملک میں بجلی ہے‘ نہ پانی‘ بے گناہ مارے جا رہے ہیں‘ لاشیں ہیں‘ جنازے ہیں‘ مہنگائی ہے‘ ہر طرف دہائی ہے‘ تو یہ سب صدر امریکہ کے دم قدم سے ہے‘ شاید وہ جان گئے ہیں کہ وہ پاکستان کے مجرم ہیں اور عوام مجرم کا کیسا سواگت کرینگے اسی لئے تو شکاری نے کتے چھوڑ دیئے ہیں اور خود کمین گاہ میں بیٹھ گیا۔
حکمرانوں کی اندرونی کیفیت کیا ہو گی کہ آقا نے انکی کٹیا میں آنا گوارا نہ کیا‘ نہ جانے ان کا کیا بنے گا‘ البتہ پاکستان کے عوام خوش ہیں کہ اچھا ہوا امریکی صدر نے دورہ منسوخ کر دیا‘ وہ نہیں آرہے‘ سو لاکھوں پائے۔ براہ کرم اب اپنے ایجنٹوں اور فوج کو بھی واپس بلا لیں۔ ہم اخلاقی طور پر امریکی سفارت خانے کو برداشت کر سکتے ہیں‘ وہ اگر ایجنسیوں سے خالی ہو تو غلامان امریکہ اب کورس میں گائیں....
آجاﺅ تڑپتے ہیں ارماں
اب رات گزرنے والی ہے