جمعرات10 جمادی الاوّل 1432ھ‘ 14 اپریل 2011ئ

امریکی صدر اوباما نے شکوہ کیا ہے کہ صدر بننے کے بعد نجی زندگی ختم اور چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور آزادیاں چھن گئی ہیں۔ موجودہ پوزیشن میں لانگ ڈرائیو‘ سپرمارکیٹ اور کار واش جیسی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم ہو گیا ہوں۔
اوباما کے اس بیان سے مستقبل میں امریکی صدارت کے خواہش مندوں کے ارمان خاک میں مل گئے ہونگے‘ پوری دنیا پر حکومت کرنے کی خوشی کے سامنے لانگ ڈرائیو‘ سپر مارکیٹ اور کار واش جیسی چھوٹی خوشیاں تو قربان کی جا سکتی ہیں۔ مثل مشہور ہے:
عدالت میں جج نے چور سے کہا‘ یہاں پانچ آدمیوں نے تمہارے سامنے گواہی دی ہے کہ انہوں نے تمہیں چوری کرتے دیکھا ہے۔ چور ڈھٹائی سے بولا: ”یہ کونسی بڑی بات ہے جناب! میں پانچ سو ایسے گواہ پیش کر سکتا ہوں جو کہیں گے کہ انہوں نے مجھے چوری کرتے نہیں دیکھا۔“ مستقبل کے صدارتی امیدوار مایوس نہ ہوں‘ دنیا بھر کے ہزاروں حاضر اور سابق صدور گواہی دینے کیلئے تیار ہیں کہ انہوں نے نہ صرف صدر ہوتے اپنے آپکو مضبوط بنایا بلکہ دنیا بھر کی خوشیاں اپنے آنگن میں سمیٹے رکھیں۔ اوباما کو کانگریس کے سامنے اس شعر کا ورد کرنا چاہیے....
امریکہ کے دشمن کو ہم اپنے گھر پہ آپ بلا لائے
کیسے کہوں میں دوستو ہم نے کوئی اچھا کام کیا
اوباما آج بھی نجی زندگی کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں‘ تو پوری دنیا میں جنگ و جدل کے جاری پروگرام کو ختم کریں‘ نہ صرف اوباما کی آزادیاں لوٹ آئینگی بلکہ امریکی عوام بغیر خوف و خطر پوری دنیا میں پھر سکیں گے لیکن اوباما صاحب یہ تو فرمائیں‘ پھر دوسری بار صدارتی الیکشن لڑنے کا ارادہ کیوں کر رہے ہیں؟
٭....٭....٭....٭
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ امن و امان کنٹرول کرنے پر پنجاب حکومت کو داد دیتا ہوں‘ کراچی میں ہر قتل کو ٹارگٹ کلنگ قرار دینا درست نہیں۔
پنجاب میں امن و امان کی صورت کبھی کنٹرول سے باہر نہیں ہوئی‘ تین صوبوں سے زیادہ خوشحالی پنجاب میں ہے‘ کبھی وفاقی وزیر داخلہ کی نظر لگ جاتی ہے‘ جس کے باعث اکادکا واقعہ رونما ہو جاتا ہے ....
”ستے خیراں نیں پنجابیاں نوں
اللہ کرے پنجاب دی پگ اچی رہوے“
کم عقلوں کے پنجابی طالبان کی اصطلاح سے پنجاب سے کبھی حالات کشیدہ ہوتے ہیں‘ انہوں نے اتحادیوں کو بھی تو خوش کرنا ہوتا ہے ....
جب گلستان میں بہاروں کے قدم آتے ہیں
یاد بھولے ہوئے یاروں کے کرم آتے ہیں
ایک انجینئر غصے سے سپروائزر سے کہنے لگا‘ سمجھ نہیں آتا عقل تقسیم ہوتے وقت تم کہاں تھے؟ سپروائزر سادگی سے کہنے لگا‘ جناب اس وقت تو میں آپکے ساتھ دورے پر گیا ہوا تھا۔
سیالکوٹی ملک بھی ماہرین داخلہ امور کو لیکر کراچی اور لندن کے دورے کرتے رہتے ہیں‘ انہیں کیا علم کہ کراچی میں کیا ہو رہا ہے۔ کراچی پولیس سپروائزر بھی وزیر داخلہ کو مذکورہ جواب ہی سنائیں گے کیونکہ پولیس کو بھی علم نہیں کہ کراچی میں قتل ہو رہے ہیں یا ٹارگٹ کلنگ کا بازار گرم ہے۔ غالب نے کہا تھا....
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
٭....٭....٭....٭
وزیر اعلیٰ پنجاب نے میراں ملاں کے معذور بزرگ چوکیدار کی طرف سے 10 مرلہ زمین عطیہ کرنے کے اعلان پر اسے گلے لگا لیا۔
میراں ملاں کے معذور بزرگ نے ایسی مثال قائم کی ہے جو بڑے بڑے محلات کے باسیوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ میاں شہباز شریف کو بزرگ چوکیدار کے اس جذبے کو سراہتے ہوئے اسے ان دس مرلوں پر مکان بنا کر دینا چاہیے‘ شاید اس غریب کے پاس صرف 10 مرلے ہی زمین ہو ....
بن مانگے دیکر اراضی کہنے لگے حضور
حاتم طائی سے کہنا سخاوت اسے کہتے ہیں
جنہیں اللہ نے کثیر مال و زر دیا ہوا ہے‘ وہ اس پر بچھو بن کر بیٹھے ہیں‘ نہ زکوٰة ادا کی جا رہی ہے‘ نہ غرباءکا حصہ نکالا جارہا ہے‘ یہی مال قبر میں سانپ اور بچھو بن کر ڈسے گا‘ تب نہ تو عزیزوں اقارب آئینگے‘ نہ ہی کار کوٹھی اور ٹھاٹھ باٹھ کسی کام آئیگی۔ خواجہ حیدرعلی آتش نے کیا خوب کہا ہے....
بہار آئی ہے نشہ میں جھومتے ہیں
مریدانِ پیر مغاں کیسے کیسے
نہ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا
تڑپتے رہے نیم جاں کیسے کیسے
نہ گورِ سکندر نہ ہے قصرِ دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا‘ اے ابن آدم‘ میں نے تجھے گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار کرایا‘ عورتیں تیرے نکاح میں دیں‘ تجھے مہلت دی کہ تو ہنسی خوشی آرام و راحت سے زندگی گزارے‘ اب بتا اس کا شکریہ کہاں ہے؟ بزرگ چوکیدار نے تو جواب تیار کرلیا‘ میں اور آپ کہاں کھڑے ہیں‘ ذرا سوچیں....؟
٭....٭....٭....٭
فرانس میں خواتین کے حجاب پر پابندی کیخلاف مظاہرے جاری‘ گرفتار خواتین نے کہا ہے کہ وہ سزا بھگت لیں گی‘ نقاب نہیں چھوڑیں گی جبکہ امریکہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو مذہبی عقائد کے مطابق لباس پہننے کا حق حاصل ہے۔
گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کی جانب دوڑتا ہے۔ یورپ کا جو زوال شروع ہوا تو اس نے اسلام پر حملے شروع کر دیئے ہیں۔ کیا کسی مسلم ملک نے انکی عورتوں کے بے ہودہ لباس پر اعتراض کیا ہے؟ امریکہ اگر مذہبی عقائد کےمطابق لباس پہننے کا حق تسلیم کرتا ہے تو مجہول حسب و نسب کے مالک فرانسیسیوں کو لگام دے۔ اقوام متحدہ کو یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نظر نہیں آتی‘ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے اسلام نہ پہلے کبھی دبا ہے‘ نہ اب دبے گا ....
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک رکھی ہے
اتنا ہی ابھرے گا جتنا دبائیں گے