جمعة المبارک22 محرم الحرام 1439ھ‘ 13 اکتوبر2017

جمعة المبارک22 محرم الحرام 1439ھ‘ 13 اکتوبر2017

پاکستان میں بے ایمانی واحد کام ہے جو انتہائی ایمانداری سے کیا جاتا ہے: رپورٹ
یہی تو وہ کام ہے جس کیلئے دنیا میں بدنام ہیں۔ مگر اسے ہم سے زیادہ نیک نیتی اور ایمانداری سے کوئی سرانجام دے ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ یہ ازلی صلاحیت ہے جو ہم جیسے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ سچ کہیں تو بہت سے ماتھوں پہ شکن پڑ جائے گی۔ یہ جو لوگ نسلی اور اصلی ہوتے ہیں ناں۔ وہ ایسا کرتے ہوئے گھبراتے ہیں جبکہ ہم جیسے لوگ ایسا کرنے کے بعد فخریہ بتاتے ہیں کہ یار آج 50 ہزار کی دیہاڑی لگی یا آج ایک کروڑ روپے بنائے۔ آپ لائنوں میں لگ کر دفتروں میں دھکے کھا کر گھنٹوں خوار ہوں تب بھی آپ کا جائز کام مہینوں تک پورا نہیں ہو سکے گا۔ اسکے برعکس آپ صرف جیسے ہی مٹھی گرم کرینگے چپڑاسی سے لیکر اعلیٰ افسر تک چہرے پر مسکراہٹ لئے آپ کو خوش آمدید کہتا ملے گا اور منٹوں سیکنڈوں میں آپ کا کام واقعی نہایت ایمانداری سے اپنا فرض سمجھ کر کریگا۔ یہ بیماری ہر جگہ عام ہے۔ اس وائرس سے کوئی محفوظ نہیں۔ اب تو عوام الناس بھی دھکوں سے بچنے کیلئے وقت ضائع کرنے کی بجائے بے ایمانی کی طاقت سے اپنا جائز کام بھی بروقت نکلوانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جو چیز دنیا بھر میں جرم ہے وہ ہمارے ہاں مجبوری اور ضروری بن گئی ہے۔بے ایمانی کرنےوالوں کو ”کما¶ پوت“کہہ کر سراہا جاتا ہے۔ اب تو لوگ بے ایمانی کو بھی حق سمجھنے لگے ہیں۔ اسکے بعد باقی کیا رہ جاتا ہے اسلئے چلیں اسی بات سے خوش ہو لیتے ہیں پاکستان میں کوئی کام تو ایسا ہے جو ہم ایمانداری سے کرتے ہیں۔
٭....٭....٭
حمزہ شہباز سے امریکی قونصل جنرل کی ملاقات‘ باہمی دلچسپی اور سیاسی امور پر گفتگو کی۔
باہمی دلچسپی کا تو ہمیں پتہ نہیں البتہ سیاسی امور پر آج کل حمزہ شہباز کی نظر ضرور ہو گی۔ کچھ عرصہ پس پردہ رہنے کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاسی میدان میں انکی بھرپور انٹری ہوتی نظر آ رہی ہے۔ انکی غیر موجودگی میں بہت سے لوگ انکے خلاف طرح طرح کی باتیں یا افواہیں پھیلاتے نظر آ رہے تھے مگر اب انکی آمد سے ان تمام افواہوں نے دم توڑ دیا ہے۔ لندن سے وطن واپس آتے ہی انہوں نے نہایت اطمینان پہلے اپنے سفر کی تھکن اتاری۔ جب طبیعت بحال ہوئی تو سیاسی پلیٹ فارم پر امریکن قونصل جنرل سے ملاقات میں 4 سال میں مسلم لیگ (ن) حکومت کی ترقی کی بھرپور ترجمانی کرتے نظر آئے۔ انکی باڈی لینگوئج سے پتہ چل رہا تھاکہ وہ واپس فارم میں آ چکے ہیں اور ایک بار پھر حکومت پنجاب کا نظام اندرونی طور پر اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں۔ دیکھنا ہے اب ان کا یہ نیا دور کیسا رہے گا۔ ویسے بھی اگلے الیکشن میں ایک سال سے بھی کم کا عرصہ حائل ہے اور مقابلہ بھی سخت ہے۔ پہلے ہی ان پر مرغیوں کے گوشت اور انڈوں کی مہنگائی‘ ایل ڈی اے سمیت دیگر سرکاری محکموں میں بھرتی کے حوالے سے کافی کہانیاں عوام میں گردش کر رہی ہیں۔ اگر وہ ان کا مداوا کر لیں تو شاید اگلے خادم اعلیٰ کا اعزاز انہیں حاصل ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ حکومت کا تاج جو حکمرانوں کے سر پر سجتا ہے وہ عوام کے ووٹوں سے ہی تشکیل پاتا ہے۔ سو کیوں نہ پھر عوام سے ہی دوستی کی جائے تاکہ وہ اپنے ہاتھوں سے یہ تاج حکمرانوں کے سر پر سجائیں۔ اسی لئے کہتے ہیں
ہم فقیروں سے دوستی کر لو
گُر سکھا دیں گے بادشاہی کا
نائجیریا میں نرسری کے بچوں کےلئے تیار کردہ پرچہ حل کرنے میں ہزاروں اساتذہ فیل
افریقہ کے اس ملک کی حکومت ہماری حکومتوں کی طرح کمزور لاچار اور بے بس نہیں۔ نہ ہی وہاں کا محکمہ تعلیم ہمارے محکمہ تعلیم کی طرح کرپشن اور اقربا پروری کا شکار ہے۔ وہاں نرسری کے بچوں کےلئے تیار پرچے جب ہزاروں پرائمری کے اساتذہ حل کرنے میں فیل ہو گئے تو انہیں یک جنبش قلم نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا۔ کوئی سفارش کوئی ہڑتال کوئی دھمکی ان نرسری فیل اساتذہ کو بچا نہیں سکی۔ اگر یہی کچھ ہمارے ہاں ہوتا تو بجائے ان نااہل اساتذہ کے‘ پرچہ تیار کرنےوالے کو ہی برطرف کیا جاتا اور غلطی اس کی شمار کی جاتی۔ اب ہمارے ہاں جو کچھ میڈیکل کے طلبہ کے انٹری ٹیسٹ میں ہو رہا ہے اس پر جو ایکشن لیا گیا اس سے کیا ہوا۔ کمیٹی اور کمشن تو بنایا ہی اس کام کیلئے جاتا ہے جس کو دبانا ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سرکاری اور نجی کالجز میں جو میڈیکل کے اساتذہ پڑھاتے ہیں اگر ان کو بھی یہ پرچہ مقررہ مدت میں حل کرنے کےلئے دیا جائے تو یہاں کا رزلٹ نائیجیریا سے بھی بدتر نکلے گا۔ اگر اسی طرح بتدریج بی اے، ایف اے‘ میٹرک اور مڈل کے پرچے اس لیول کے اساتذہ کو حل کرنے کےلئے دیئے جائیں تو جو کچھ ہو گا اس کو لکھنے کی ہمارا قلم تاب نہیں رکھتا کیوں کہ ”یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں“ والی بات سب کے سامنے ہے۔ خدا کرے ہمارا محکمہ تعلیم یا حکومتیں بھی نااہل افراد کو برطرف کرنے کی کوئی سبیل نکالیں تو بہت جلد ہر محکمہ کی اصلاح ممکن ہو سکے گی۔
٭....٭....٭
ایکسائز والوں نے ابرار الحق کی غیر نمونہ نمبر پلیٹ گاڑی سے اتار لی۔
یہ تو بڑی زیادتی کی ہے ایکسائز والوں نے۔ کیا ان لوگوں کو باقی گاڑیوں پر لکھا گیا آئی لو یو، دیکھ مگر پیار سے، موڈی شاہ، ضدی جٹ، سٹوڈنٹ پاور، ٹچ می ناٹ، جگری یار، بٹ بہادر، ماں باپ کی دعا اور نجانے کیا کیا لکھا اور پرنٹ کیا ہوا نظر نہیں آتا۔ اب ابرار الحق نے تو ایسا کوئی انوکھا یا نیا کام نہیں کیا تھا۔ قانون نافذ کرنا ہے تو سب کیلئے یکساں ہونا چاہیے۔ کالے شیشے اتاریں غیر نمونہ نمبر پلیٹ اتاریں، کوئی نہیں روکے گا۔ مگر سب کےلئے ہو یہ نہیں کہ کوئی کہتا پھرے یہ انتقامی کارروائی ہے اور تحریک انصاف کا رہنما ہونے کی وجہ سے میری نمبر پلیٹ اتاری گئی۔ مگر آفرین ہے ابرار الحق پر انہوں نے کہا کہ یہ میرے ڈرائیور کی غلطی تھی کہ اس نے غلط نمبر پلیٹ لگوائی۔ انکی یہ بات درست بھی ہے کیونکہ اگر ابرار الحق نے نمبر پیٹ پر کچھ لکھوانا ہوتا تو وہ نمبر پلیٹ ہی نہیں گاڑی کی بیک سکرین پر بھی۔ جی ٹی روڈ تے بریکاں لگیاں“ یا پھر ”کنے کنے جانا اے بلو دے گھر“ جیسے مشہور عام بول لکھوا سکتے تھے جنہیں پڑھتے ہوئے واقعی ٹریفک میں خلل پڑ سکتا تھا۔ یا پھر ابرار الحق اپنی تصویریں لگا دیں تو بھی رش لگ سکتا ہے۔ یہ گاما جٹ جیسی غیر شاعرانہ نمبر پلیٹ ویسے بھی انہیں زیب نہیں دیتی اس سے لاکھ درجہ بہتر ہوتا اگر یہ ڈرائیور بھی صاحب ذوق ہوتا اور جٹ لکھنا ضروری سمجھتا تو پھر وہ ابرارالحق کا ہی
”جٹ چڑھیا کچہری بلے بھئی بلے“
والا مصرعہ لکھوا دیتا۔ اس پر اگر جرمانہ یا چالان بھی ہوتا تو مزہ آ جاتا۔ یہ اس جملے کے حسب الحال بھی ہوتا۔ خیر جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ اب باقی لوگ بھی جلد از جلد اپنی نمبر پلیٹیں درست کروا لیں....