جمعۃ المبارک ‘ 21؍ جمادی الاوّل 1436ھ ‘ 13؍ مارچ 2015ء

جمعۃ المبارک ‘ 21؍ جمادی الاوّل 1436ھ ‘ 13؍ مارچ 2015ء

33ارب ڈالر کا کوئلہ کرپشن سکینڈل۔ عدالت نے من موہن سنگھ کو طلب کر لیا۔
من موہن سنگھ نے 2005 میں مبینہ طور پر کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا کیا تھا تب بھی من موہن کا اقتدار ڈانواں ڈول ہوا تھا لیکن وہ اقتدار کے ساتھ چمٹے رہے۔ جیسے ہمارے ہاں عمران خان چمٹے ہوئے ہیں۔ اس وقت بی جے پی نے تحویل اراضی کے کالے قانون سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے کانگرس کی دکھتی رگ کو چھیڑا ہے۔ من موہن نے صنعت کار کے ایم برلا کی کمپنی ہنڈالکو کو اڑیسہ کے کوئلہ بلاک الاٹ کرنے میں مبینہ طور پر منہ کالا کیا تھا۔ جبکہ ان کا منہ تو پہلے ہی کالا تھا۔ وہ تو صرف ان کی پگڑی اور چشمے نے چھپا رکھا تھا۔ کشمیر سے لے کر گجرات کے فسادات تک ان کی خاموشی نے انکے چہرے کے سارے ماسک اتارے دیئے تھے ایسے ان حالات میں مودی کوکانگرس کو چھیڑنے کی ضرورت تو نہیں کیونکہ کانگرس اس وقت تین میں ہے نہ تیرہ میں۔ شعر میں ذرا تصرف سے عرض ہے… ؎
رند خراب حال کو ’’مودی‘‘ نہ چھیڑ تو
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
مودی ایک خاص ایجنڈے کے تحت اقتدار میں آئے ہیںجس کیلئے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور من موہن کی عقل تو ویسے ہی پگڑی کی بنا پر ختم ہو چکی تھی اسی لئے انہوں نے کوئلوں میں منہ مارا ورنہ سردارجی کا کوئلوں سے کیا تعلق ہے۔
٭…٭…٭…٭
چوتھی کتاب لکھ رہا ہوں:۔ رضا ربانی
شکر ہے عوام کو کوئی کتاب دوست رہنما بھی میسر آیا، ورنہ آج کے عوامی سیاست دان تو دور کی بات ہے‘ مصنف بھی کتاب دوست نظر نہیں آتے۔ بس ہر کسی نے انٹرنیٹ پر ہی ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔ رضا ربانی مصنف بھی ہیں۔ انہیں کتاب لکھنے والی سوچ سے ہی مسائل حل کرنا ہونگے۔ ہمارے سیاسی رہنمائوں میں آج تک کوئی ایسا رہنما نہیں آیا حقیقی مصنف ہو۔ اب رضا ربانی ہی بتائیں کہ وہ ایسی کون سی کتاب لکھ رہے ہیں جس سے قوم کو فائدہ ہو گا۔ بے نظیر بھٹو پر بھی ایک کتاب لکھی گئی تھی جو جہانگیر بدر کے نام سے چھپی تھی۔ لکھنے والے کوئی اور صاحب تھے۔ اس کتاب سے بھی زرداری صاحب نے بقول اصلی مصنف کے کروڑوں روپے کمائے تھے۔ ایک لاکھ کتاب چھپ کر جب سامنے آئی تو انہوں نے اپنی پارٹی کے ہر ممبر کو کتاب خریدنے کا حکم دیا تھا، کتاب کی قیمت ہزار روپے تھی اور اس میں سے پارٹی فنڈ کے نام پر 8 سو روپے پارٹی کے شریک چیئرمین کی جیب میں گئے تھے جبکہ صرف دو سو روپے ساری محنت کرنیوالے مصنف کو ملے تھے۔ رضا ربانی ایسی کتاب مت لکھیں۔ ہمارے ہاں مصنف بھی کرائے کے مل جاتے ہیں لیکن رضا ربانی ایسے آدمی نہیں وہ خود ہی کتاب لکھ کر لوگوں کی رہنمائی کرینگے۔ یوںلگتا ہے کہ رضا ربانی اس شعر پر عمل کرتے ہیں۔ … ؎
غنیم وقت کے حملے کا مجھ کو خوف رہتا ہے
میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں
ماضی میں تو انہیں خطرہ تھا کہ شاید کسی وقت بھی ان کی پارٹی سے چھٹی نہ کرا دی جائے تو وہ کاغذ اور سیاہی سے اپنے فن کے سپاہی بناتے رہے۔ اب تو وہ صدر بھی بنیں گے اور ان کا حکم بھی چلے گا۔ اور وہ دوسرے لوگوں کی چھٹی کرائیں گے۔
٭…٭…٭…٭
جاوید ہاشمی نے لاجز میں 3 کمروں کا غیر قانونی قبضہ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔
ہاشمی صاحب آپ کا کام تو کعبہ میں اذان دینے کا تھا، لیکن آپ دہر میں ناقوس پھونکنا شروع ہو گئے ہیں۔ نوازشریف کے بعدعمران خان سے بھی بغاوت کرکے آپ نے ملتان کا رخ کیا۔ ممبری آپ کی ختم، سیاست آپ کی ہچکولے لے رہی ہے۔ لیکن آپ نے ابھی تک پارلیمنٹ لاجز کے 3 کمروں کا غیر قانونی قبضہ نہیں چھوڑا اس سے تو یہی لگتا ہے کہ ملتان میں اوقاف کی زمین پر آپ پر جو قبضے کا الزام لگا تھا وہ بھی بادی النظر میں درست تھا۔ جاوید ہاشمی کی پہچان ایک بہادر آدمی ہاشمی ہاشمی سے تھی لیکن وہ قبضوں میں بھی بہادری دکھاتے نظر آرہے ہیں۔ ان پر شیفتہ کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ … ؎
وہ شیفتہ کہ دھوم ہے حضرت کے زُہد کی
میں کیا کہوں کہ رات مجھے کس کے گھر ملے
آپ کیلئے اپنا ہی گھر اچھا ہے۔ ساری عمر آپ نے ایک شریف آدمی کی طرح گزاری اب آخری وقت میں تو دامن پر داغ دھبے نہ لگائیں۔ ملتان میں اوقاف کی زمین پر آپ نے قبضے کی تردید کی ہے تو برائے مہربانی اب پارلیمنٹ لاجز والے قبضے کی بھی وضاحت فرما دیں ورنہ چوری ایک روپے کی ہو یا ایک کروڑ کی وہ بدنام کر جاتی ہے۔
٭…٭…٭…٭
اپنے ہی ہاتھ کر گئے رحمان ملک ہارتے ہارتے بچے۔
گزشتہ الیکشن میں رحمان ملک نے اسلم گل کے ساتھ ہاتھ کروایا تھا۔ اب انہیں خود ان مسائل سے گزرنا پڑا، ٹھیک کہتے ہیں… ’’جیسا کرو گے، ویسا بھرو گئے‘‘۔
اسلم گل ایک شریف آدمی تھے۔ انکے پارٹی قیادت کے ساتھ سیاسی تعلقات اس قدر نہ تھے ورنہ وہ بھی سیٹ جیت سکتے تھے۔ رحمان ملک کو جب اس بات کا علم ہوا کہ دو ووٹ کم ہیں تو انکے اوسان خطا ہو گئے ہوں گے۔ اور وہ بھاگ کر ن لیگ کے قدموں میں آ گرے۔ اب وہ پورے چھ سال آنکھ اٹھا کر ن لیگ کی طرف دیکھ نہیں سکتے کیونکہ انہی کے صدقے جیتے ہیں۔ اب وہ رحمان ملک ہار جاتے تو بہت لوگوں کو ٹائی واپس کرنا پڑتی۔ رحمان ملک ٹائیاں تقسیم کرنے میں اپنا ایک نام رکھتے ہیں۔ اس الیکشن کے ساتھ ہی انکی سیاست کا جنازہ نکل جانا تھا۔ رحمان ملک کے ٹھاٹ باٹھ دیکھ کر غریب ہاری کہتا ہے… ؎
بھوک پھرتی ہے میرے ملک میں ننگے پائوں
رزق ظالم کی تجوری میں چھپا بیٹھا ہے
رحمان ملک کو اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ایک موقع انہیں مل گیا، اگر اب بھی وہ اپنی پھرتیوں سے باز نہ آئے تو پھر سندھی ایم پی اے ووٹر انہیں پرچی کی بجائے چٹا جواب دینگے۔
٭…٭…٭…٭