ہفتہ‘ 25 شعبان المعظم 1436ھ ‘ 13 جون 2015ئ

ہفتہ‘ 25 شعبان المعظم 1436ھ ‘ 13 جون 2015ئ

فیصل آباد: 60 ہزار کا بل بھیج دیا گیا، شنوائی نہ ہونے پر بیوہ خاتون کی خودکشی 

اس قدر تو ظلم زمین نے پہلے نہیں دیکھا ہو گا۔ ایک بیوہ خاتون جو پہلے ہی دوسروں کے رحم و کرم پر ہے، اس کے گھر کا چولہا کئی کئی دن ٹھنڈا پڑا رہتا ہے اور بچے مانگ تانگ کر پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں۔ اس کی بچیوں کے بالوں میں سفیدی آ چکی ہے لیکن انکے ہاتھ سرخ کرنے کی اس میں استطاعت نہیں۔ وہ شدید گرمی کے باوجود اپنے پورے کنبے کو ایک پنکھے کے نیچے بٹھاتی ہے تاکہ بجلی کا بل کم آئے اور کسی طرح اسے ادا کیا جا سکے لیکن اتنے جتن کرنے کے باوجود اگر بجلی کا بل 60 ہزار آ جائے تو پھر بیوہ نے خودکشی ہی کرنی ہے۔
لگتا ہے عابد شیر علی نے اپنے گھر کا بل بھی بیوہ کے کھاتے میں ڈلوایا ہے کیونکہ 60 ہزار بل تو کسی وزیر شذیر کے گھر کا ہی ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا تھا....
واپڈا والو کچھ تو سوچو
آخر کب تک آنکھ مچولی
کب تک ہم خاموش رہیں گے
آج زباں ہم نے بھی کھولی
بل جو مجھ کو بھیجا تھا تم نے
پورے 60 ہزار کا
بھیا! اس پتلی سی گلی میں
کیا میں نے کوئی مل ہے کھولی
جس طرح عابد شیر علی، خواجہ آصف اور واپڈا کے اعلیٰ حکام کو کئی کئی سو یونٹ معاف ہیں اور وہ بڑے مزے سے ان یونٹوں کی بنیاد پر سارا سارا دن اے سی میں بیٹھے رہتے ہیں، اسی طرح بیوگان کو بھی بل ادا کرنے کی معافی ملنی چاہئے لیکن فیسکو انتظامیہ نے کئی بار چکر لگانے کے باوجود خود مرحومہ فوزیہ کا بل ٹھیک نہیں کیا۔
اگر فیسکو حکام اس بیوہ پر رحم کرتے تو آج فوزیہ کے بچے اپنی ممتا کی جدائی میں تڑپ نہ رہے ہوتے۔ کم از کم اس کی کچھ اقساط ہی کر دی جاتیں تاکہ بیوہ دلبرداشتہ ہو کر خودکشی تو نہ کرتی۔ واپڈا والے اگر بجلی دیں تو بل بھی لیں لیکن بجلی کے بغیر تو بل کوئی نہیں دے گا۔
٭....٭....٭....٭
حمیرا ارشد اور شوہر احمد بٹ میں پھر صلح، جلد خلع کا کیس واپس لے لوں گی: گلوکارہ
شاعر نے کہا تھا....
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
چند روز قبل حمیرا ارشد اور احمد بٹ نے ایک دوسرے کے بارے جو باتیں کہیں، ان کا ذمہ دار کون ہے؟ اے نادانو!”پہلے تولو پھر بولو“ ۔
اگر دونوں پہلے ہی گھر بیٹھ کر معاملات حل کر لیتے تو یوں پوری دنیا میں ان کی جگ ہنسائی نہ ہوتی۔ ہمارے ہاں شوبز کے لوگ چٹ منگنی پٹ بیاہ کرتے ہیں لیکن پھر اسی طرح بات چٹ لڑائی پٹ خلع تک پہنچ جاتی ہے۔ بھلا ہو دوستوں کا جنہوں نے دونوں کے مابین غلط فہمیاں دور کر کے ان کا گھر کو پھر آباد کردیا ہے۔
شیطان اس صلح پر خوب رویا ہو گا بلکہ اسے آگ لگ گئی ہو گی۔ کاش ایسے صلح جوُ انسان سب لوگوں کو مل جائیں تو ہر گھر جنت کا منظر پیش کرتا نظر آئے۔ حمیرا نے ویسے ہی بٹ صاحب کو کہا ہو گا گل سن وے ڈھولنا.... تو وہ بھاگم بھاگ حمیرا کے پاس پہنچ گئے ہونگے۔
احمد بٹ نے بھی اچھی بات کی ہے کہ میاں بیوی میں غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی۔ غلط فہمیاں ہی گھر اجاڑتی ہیں بلکہ خاندان اجاڑ دیتی ہیں اس سے بچنا چاہئے۔ پھر ہر گھر جنت کا منظر پیش کرے گا۔ حمیرا ارشد اور احمد بٹ کو اب ماضی کی تمام غلط فہمیاں بھول جانی چاہئیں تاکہ ان کا مستقبل سہانا ہو سکے۔
٭....٭....٭....٭
کوڑے دانوں پر قومی پرچم کی بے حرمتی، قوم کے جذبات مجروح
لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا سلوگن ہے
کوڑا کوڑے دان میں
شہری اطمینان میں
یہ بات تو کسی حد تک درست ہے لیکن اب انہوں نے کوڑے دان پر قومی پرچم بھی بنا رکھا ہے۔ اب شہری جب کوڑا کوڑے دان میں پھینکتے ہیں تو آدھا کوڑے دان کے اندر اور آدھا کوڑے دان پر ہوتا ہے اور بسا اوقات تو کوڑے دان پر بنے قومی پرچم پر بھی غلاظت اور گندگی چمٹ جاتی ہے۔ اس سے قومی پرچم کی توہین ہوتی ہے۔ ہائیکورٹ نے 2 سال قبل حکم دیا تھا کہ کوڑے دانوں پر سے قومی پرچموں کو ختم کیا جائے لیکن دو سال گزرنے کے باوجود سالڈویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے کوڑے دانوں سے قومی پرچم کو ختم نہیں کیا۔
شہریوں نے بھی متعدد مرتبہ قومی پرچم کی توہین اور بے حرمتی کی نشاندہی کی ہے لیکن اس کے باوجود محکمے کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ کوڑا اٹھانے والے جب کوڑا اٹھاتے ہیں تو اسی پرچم پر پاﺅں رکھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ بارش کے موسموں میں تو قومی پرچم کو دیکھ کر ہر محب وطن شہری کا خون کھول اٹھتا ہے۔
شہر کے پسماندہ علاقوں میں تو مزید پریشانی والی صورتحال ہے اس لئے ہائی کورٹ کے احکام پر فی الفور عملدرآمد کرایا جائے۔ فی الفور کوڑے دانوں سے قومی پرچم کے عکس کو ختم کیا جائے کیونکہ قومی پرچم تو صرف بلند رکھنے اور سینے پر سجانے کیلئے ہے لہٰذا اس کی توقیر کا پاس رکھا جائے۔ حکومت پنجاب بھی اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کا ثبوت فراہم کرے اور شہریوں کے جذبات کو مجروح نہ کیا جائے۔