ہفتہ ‘ 25 ؍ ربیع الثانی 1439 ھ‘ 13 ؍ جنوری 2018ء

ہفتہ ‘ 25 ؍ ربیع الثانی 1439 ھ‘ 13 ؍ جنوری 2018ء

لندن: وزیر اعلیٰ ممتابینر جی کے ساتھ دورے پر گئے بھارتی صحافی نے ہوٹل سے چاندی کے چمچے چرا لیے 

ممتا بنیر جی بھارتی بنگال کی وزیراعلیٰ ہیں اور ان دنوں لندن کے دورے پر ہیں۔ ان کی ٹیم میں شامل سینئر صحافی نے ہوٹل میں کھانے کی میز پر نظر بچاتے ہوئے چاندی کے چند چمچ چرا لیے۔
خبر میں دو باتوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ صرف چند چمچ ہی چرا پائے۔ شاید اس لیے کہ ان کی جیب میں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں تھی۔ رہی عزت کے خاک میں ملنے کی بات تو واقعی اس سے پہلے بھارت سے لندن کے دورے پر آئے کسی سیاستدان کے ساتھیوں میں سے کسی نے ایسی حرکت نہیں کی۔ چوری کی عادت بعض لوگوں کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے ہاتھ میں کھجلی ہوتی رہتی ہے۔ وہ کہیں نہ کہیں سے کچھ نہ کچھ لے اڑتے ہیں۔ موصوف اتنے بھی گئے گزرے نہیں ہوں گے کہ انہوں نے پہلے چاندی کے چمچے نہیں دیکھے ہوں گے۔ یوں محسوس ہوتا ہے وہ عادت کے ہاتھوں مجبور ہو گئے۔ انہوں نے تو اپنا شوق پورا کر لیا۔ لیکن بے چاری وزیراعلیٰ ممتا بینر جی کی عزت بقول رپورٹر خاک میں مل گئی۔ خبر ادھوری ہے اس لیے کہ یہ تو بتایا ہی نہیں گیا کہ چوری پکڑی گئی تو ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہوئی یا معافی تلافی سے ہی خلاصی ہو گئی!
٭…٭…٭…٭
وائٹ ہائوس کی جانب سے جاری بیان میںکہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا جمعہ کو میڈیکل چیک اپ ہوا لیکن ان کے طبی معائنے میں دماغی معائنہ شامل نہیں تھا۔
ان کے سٹاف کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ ان کے دماغی توازن کی خرابی کا غلط پراپیگنڈہ کیا گیا ہے۔ وہ ذہین انسان ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ ٹھیک کہتے ہوں لیکن دماغی توازن کی خرابی اور ذہانت کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ طب یونانی میں ایسے لوگوں کو مراقی کہاجاتا ہے جو جنون کی ایک قسم ہے۔ طب کی تشریح کی مطابق ایسے لوگ ذہین ہوتے ہیں لیکن جب ان پر مراق کے دورے پڑتے ہیں تو بڑے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ خونریزی اور جنگ و جدل پر اتر آتے ہیں۔ ہمارے ایک نامور حکیم کے مطابق ایسے لوگ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں اور بعض اوقات نبوت کے دعوئوں پر اتر آتے ہیں۔ دو مراقی آپس میں اس بات پر الجھ پڑے، ایک کہہ رہا تھا میں نبی ہوں، دوسرا کہہ رہا تھا تو جھوٹ کہہ رہا ہے، میں نے تو تجھے بھیجا ہی نہیں۔ صدر ٹرمپ کا دماغی معائنہ نہ ہونے کی خبر امن عالم کے خواہشمندوں کے لیے صدمے کا باعث ہو گی۔ موصوف محض ٹویٹ پر اپنی خارجہ پالیسیاں بیان کر رہے ہیں، نہ کسی سے صلاح نہ مشورہ۔ پوری انتظامیہ حیران ہے کہ انہیں اعتماد میں لیے بغیر اتنی بڑی بات کہہ دی گئی ہے کہ جس کا فوری نتیجہ یہ ہو گا کہ افغانستان میں سارے کیے کرائے پر پانی پھر جائے گا۔ کیونکہ خطے کا امن پاکستان کی معاونت کے بغیر ناممکن ہے۔ اس تمام بحث کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صدر ٹرمپ کا دماغی معائنہ، میڈیکل چیک اپ سے زیادہ ضروری تھا۔
٭…٭…٭…٭
لاہور ائر پورٹ پر چیک حسینہ سے 9 کلو ہیروئن پکڑی گئی‘ تفتیش کے لیے تین محکمے لڑ پڑے
جمہوریہ چیک کی جواں سال خوبرو 21 سالہ ماڈل گرل ٹیریزا کا شمار اپنے ملک کی خوبصورت ترین ماڈلز میں سے ہوتا ہے۔ وہ ان دنوں وزٹ ویزا پر پاکستان آئی ہوئی تھی۔ گزشتہ روز جب وہ لاہور ائر پورٹ سے ابوظہبی کے لیے روانہ ہوئی تو اس کے بیگ سے 9 کلو ہیروئن نکلی جس کے بعد اے ایس ایف، انٹی نارکوٹکس اور کسٹم اہلکاروں کے درمیان لڑکی کو حراست میں لینے پر تلخ جملوں کا تبادلہ شروع ہو گیا تاہم کسٹم اہلکاروں نے اسے حراست میں لے لیا۔ رپورٹر کے مطابق تینوں محکمے تفتیش سے زیادہ چیک حسینہ کو اپنی اپنی تحویل میں لینے میں دلچسپی رکھتے تھے اور جب اسے کسٹم نے تحویل میں لیا تو دوسرے دونوں محکموں کے اہلکاروں نے اپنا حق ثابت کرنے کے لیے قانون کی پوتھیاں کھول لیں۔ خوبصورت لوگوں کا پکڑا جانا قانون کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے ان کے سفارشی لوگوں میں بڑے بڑے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کا مقدمہ لڑنے کے لیے چوٹی کے قانون دان نکل کھڑے ہوتے ہیں بلکہ ان بکھیڑوں میں حکمرانوں کے تعلقات تک خراب ہو جاتے ہیں۔ میثاق جمہوریت ایسی دستاویزات دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ ٹیریزا کا تعلق یورپ کے دور افتادہ ملک سے ہے۔ اتنی دور سے اس کا مقدمہ لڑنے کون آئے گا۔ قانون اپنی جگہ، لیکن مہ رخوں سے بڑے بڑے جابر بادشاہوں نے بھی رعایت برتی ہے۔ ایران کے بادشاہ علی محمد قاچار کے سامنے فارسی کی مشہور اور خوبرو شاعرہ 19، 20 سالہ قرۃ العین کو پیش کیا گیا۔ اس کے جرم کی سزا موت تھی لیکن شاہ نے دیکھتے ہی کہا بگزارید کہ روئے زیبا دارد! چھوڑ دو کہ خوبصورت ہے۔
٭…٭…٭…٭
سعودی عرب: ٹیکسی کمپنیوں نے لیڈیز کی بھرتی شروع کر دی۔ سعودی خواتین نے آج سٹیڈیم میں میچ دیکھا۔
سفری سہولتیں فراہم کرنے والی عالمی کمپنیوں کریم اور اوبر نے سعودی عرب میں خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرنے اور ان کے لیے مختلف شہروں میں تربیتی سنٹرز کا آغاز کر دیا ہے۔ ادھر گزشتہ روز (جمعہ) کو جدہ میں الملک عبداللہ مدینتہ الریاضہ (سپورٹس سٹی) کے الجوہرہ سٹیڈیم میں سعودیہ کی دو مشہور ٹیموں کے درمیان فٹ بال میچ کھیلا گیا۔ میچ دیکھنے والوں میں خواتین بھی شامل تھیں جو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ آئی تھیں۔ مملکت سعودیہ میں خواتین کو پہلی بار سٹیڈیم جا کر میچ دیکھنے کی اجازت ملی ہے۔ سعودی معاشرے کو سمجھنے اور جاننے والوں کے نزدیک یہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ آئندہ جون تک سعودی خواتین ڈرائیونگ بھی کرنے لگیں گی۔ اس تبدیلی کا سہرا مملکت کے نوجوان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے سر ہے۔ سعودی طالبات، جامعات میں لڑکوں کے برابر تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ البتہ درمیان میں خفیف سا پردہ ہوتا ہے۔ گزشتہ ایک دو برسوں سے خواتین بعض کمرشل اداروں کو بھی بڑی کامیابی سے چلا رہی ہیں۔ سعودی معاشرے میں یہ تبدیلیاں اگرچہ آہستہ آہستہ لائی جا رہی ہیں لیکن اسکے اثرات مملکت کی فلاح و بہبود اور ترقی پر بہت مثبت ہوں گے۔ عرب لیگ کے ارکان کی تعداد، 21 یا 22 ہے۔ ان میں صرف سعودی عرب ایسا ہے جہاں اب تک عورتوں کو اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت نہ تھی۔ بعض عرب ممالک میں عورتوں کو اتنی آزادی ہے کہ وہ اس لحاظ سے یورپی ملکوں کے ہم پلہ ہیں۔
٭…٭…٭…٭