سر را ہے

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

پرویز مشرف کی امریکہ آمد کے موقع پر پرانے جوتے جمع کرنے کی مہم جاری ہے‘ تاکہ ان کا پرجوش استقبال کیا جائے۔
کوئی آئی لینڈ کے علاقے میں پاکستانی مردوں اور عورتوں نے پرانی جوتیاں جمع کرائیں‘ جوتے بھی کسی مقام پر پہنچ گئے کہ دنیا کی بڑی بڑی شخصیتوں کو پڑنے لگے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آجکل کے بڑے آدمی بھی جوتیاں کھانے کے لائق ہیں تو ظاہر ہے بڑے آدمی بھی دو نمبر آنے لگے ہیں۔
جوتیوں کا استعمال برصغیر میں عام ہے اور جو بھی کوئی شخص نہ بتانے والا کام کرے تو لوگ اس کو گدھے پر بٹھا کر اسکے گلے میں جوتیوں کا ہار پہنا کر اسے ساری آبادی میں گھماتے ہیں تاکہ لوگ اسے اچھی طرح پہچان لیں۔ ابھی جو جدید انداز شروع ہوا ہے‘ اس میں جوتے باقاعدہ منہ پر مارے جاتے ہیں‘ بش کو جوتے لگے تو نہیں مگر پرچم کو لگ کر پورے امریکہ کو جوتے پڑ گئے جس کے ذمہ دار خود بش ہیں۔
بش اور مش انسانوں کے وسیع پیمانے پر بے گناہ قتل کرنے میں برابر کے شریک ہیں اس لئے ان کیلئے جوتوں کا نذرانہ بہت ضروری ہے۔ دیکھتے ہیں کب مشرف اس مقام پر پہنچتے ہیں جہاں انواع و اقسام کی جوتیاں ان کا انتظار کر رہی ہیں‘ یہ اقتدار تھا جس نے مش اور بش کو تحفظ فراہم کیا‘ اب تو وہ کرسیوں سے محروم بوہڑ کے نیچے آگئے ہیں‘ جہاں نہ صرف جوتیاں کھانے کو مل سکتی ہیں بلکہ گدھے کی سواری کی سہولت بھی موجود ہو سکتی ہے۔
کہتے ہیں حجاج نے ایک درویش سے دعا کی درخواست کی تو اس نے دعا کی کہ یااللہ! حجاج کو اٹھالے تاکہ تری مخلوق سکھ کا سانس لے۔ ظالم جس صدی اور جس ملک میں ہو‘ اس کو بالآخر جوتیاں ہی پڑتی ہیں۔ جیسے نمرود کی ناک میں مچھر گھس گیا اور اس کو جب تک سو جوتے نہ مارے جاتے‘ اسے چین نہ آتا۔
٭٭٭٭٭٭
برطانیہ میں ایک درخت پر جوتیاں لٹکانے کا معمہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا‘ حالانکہ حکومت برطانیہ اس کی تحقیق پر دو لاکھ 65 ہزار پونڈ خرچ کر بیٹھی ہے۔ اس درخت پر گزشتہ 30 سال سے جوتیاں لٹکانے کا سلسلہ جاری ہے۔
برطانیہ نے پاکستان کا جائزہ نہیں لیا وگرنہ اس کا یہ جوتیاں لٹکانے کا مسئلہ حل ہو گیا ہوتا۔ ہمارے ہاں اکثر بعض درختوں اور مزارات پر اس طرح کی حرکتیں دیکھنے میں آتی ہیں‘ مثلاً گھنٹیوں والی سرکار کے قریب درخت میں گھنٹیاں ہی گھنٹیاں لٹکی نظر آتی ہیں‘ اسی طرح انگریز لوگ بھی کافی ضعیف الاعتقاد ہیں اور بھوتوں وغیرہ میں عقیدہ رکھتے ہیں‘ ممکن ہے کسی برطانوی کو نظر آگیا ہو کہ ایک بھوت درخت پر بیٹھا جوتیوں کا مطالبہ کرتا ہے۔
ممکن ہے وہ بھوت بھی بش اور مش کا مخالف ہو اور دونوں کے برطانیہ آنے سے پہلے جوتیاں اکٹھی کر رہا ہو تاکہ بوقت ضرورت کام آئیں اور لوگوں کو جوتیوں کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ویسے برطانیہ کو وہاں خفیہ پولیس ادھر ادھر مقرر کردینی چاہئے جو کسی بھی جوتے لٹکانے والے سے پوچھیں کہ حضور یہ اس درخت پر 30 برس سے جوتیاں لٹکانے کا کیا راز ہے؟ جوتی بھی عجیب چیز ہے‘ پائوں میں ہو تو پائوں کی زینت‘ اور پائوں سے اتر کر ہاتھ میں آجائے تو کسی کیلئے کلنک کا ٹیکہ بن جاتا ہے‘ بشرطیکہ لگ جائے۔
برطانیہ کا درخت ضرور برطانیہ کے باشندوں کے نزدیک انکی مرادیں پوری کرتا ہو گا‘ اس لئے لوگ وہاں جوتیاں لٹکا دیتے ہیں‘ بہرحال اگر بش یا مش برطانیہ آئیں تو ان کی عزت افزائی کیلئے جوتیوں والا درخت نعمت ہے۔ جوتیاں اتارتے جائیں اور دنیا کے دو بڑے سابق حکمرانوں کی نذر کرتے جائیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ جو عزت کپڑوں سے نہیں‘ وہ جوتوں کی بارش سے مل جاتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اس وقت جرائم اور گرانی کا مقابلہ ہے‘ ابھی تک تو یہ مقابلہ برابر برابر جارہا ہے‘ یوں لگتا ہے کہ مجرم کو سزا نہیں ملتی وگرنہ جرائم کب کے گرانی سے مقابلہ جیت چکے ہوتے‘ اس مقابلے نے اب اتنی شدت اور وسعت اختیار کر لی ہے کہ اس میں لوڈشیڈنگ‘ گیس شیڈنگ‘ واٹر شیڈنگ نے بھی شمولیت کر لی ہے‘ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ خیروشر کا مقابلہ ہے‘ کاش ایسا ہوتا‘ مگر یہاں تو خیر نام کی کوئی چیز ہی باقی نہیں رہی۔ بس جرم VS جرم ہی میدان میں ہے۔ ان مقابلوں میں کسی کی جیت بھی حکومت کی ہار ہے‘ اور ہار ان کو ہی ملتی ہے جن کے گلے میں مینڈیٹ کا ہار ہو‘ اور بعض نے تو ہار کے بجائے باقاعدہ سہرے باندھے ہوئے ہیں‘ قوم نفسیاتی طور پر بیمار ہوچکی ہے‘ اس لئے کہ ملک میں شر کی مختلف قوتوں کا باہمی مقابلہ ہے‘ حکومت کہیں سے خیر امپورٹ کرے تاکہ کم از کم خیروشر کا مقابلہ تو ہو۔
٭٭٭٭٭٭
لاہور میں ڈاکے‘ راہزنیاں‘ شہریوں کا کباڑہ ہو رہا ہے۔
لاہور میں کباڑہ کیوں نہ ہو کہ وہ چوروں‘ ڈاکوئوں کی خالہ جی کا باڑہ ہے۔ وزیر اعلیٰ جتنی زیادہ کارکردگی دکھاتے ہیں‘ کباڑہ اتنا ہی بڑھتا جا رہا ہے۔
بجلی‘ پانی‘ پٹرول‘ گیس تو حکومت نے چھین کر بدلے میں مہنگائی دیدی‘ اب بھلا ڈاکوئوں چوروں کیلئے رہ کیا گیا ہے کہ وہ شہریوں کا کباڑہ کریں؟ اس وقت کوئی عورت شہر لاہور میں پرس لے کر ٹھنڈی سڑک پر نہیں نکل سکتی‘ کیونکہ ذرا سی دیر میں اس کا پرس ہو گا‘ نہ کانوں کے بندے ہوں گے۔ شہری لٹ رہے ہیں‘ ڈاکے پڑ رہے ہیں‘ کیا گھروں کے افراد ڈاکوئوں کے ہاتھ قتل ہوتے رہیں گے؟