سر را ہے

اقوام متحدہ کی طرف سے بے نظیر بھٹو شہید کو حقوق انسانی ایوارڈ ملنے پر لاہور میں داتا دربار پر ایک تقریب منعقد ہوئی‘ جس میں پنجاب کے سینئر وزیر راجہ ریاض نے بھی شرکت کی۔
محترمہ بے نظیر بھٹو اس لحاظ سے خوش قسمت تھیں کہ انہیں دو ایوارڈ ملے‘ ایک شہادت کا اور دوسرا حقوق انسانی کا۔
ہمارے ملک میں کسی کی صلاحیت کو خراج تحسین پیش کرنے کا رواج حوصلہ افزائی کا چلن کم کم ہے‘ کتنے ہی نوجوان اپنی ذہانت کے بل بوتے پر نئی نئی چیزیں ایجاد کرتے ہیں مگر کبھی کوئی ایسا شعبہ قائم نہیں کیا گیا‘ جو باصلاحیت لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری ایجادات ہوتے ہوتے رہ جاتی ہیں۔
اب تو صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ لڑکا زمین سے تنکا اٹھا کر اسے توڑ دیتا ہے اور بھنگڑا ڈالنے لگتا ہے کہ میں کامیاب ہو گیا۔ بہرحال پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر راجہ ریاض بڑے فعال اور داتا صاحب کے عقیدت مند ہیں‘ انہوں نے نہایت مقدس جگہ پر محترمہ شہیدہ کو ایوارڈ ملنے کی تقریب منائی۔ وہ مبارکباد کے مستحق ہیں‘ یہ اعزاز صرف پیپلز پارٹی کا نہیں‘ پوری قوم کا ہے‘ حکومت کوشش کرے کہ جو بھی ملک و قوم کیلئے عزت و وقار حاصل کرتا ہے‘ اس کی عزت افزائی کرے۔
٭٭٭٭٭٭
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے‘ موجودہ حکمران پرویز مشرف سے بڑھ کر امریکہ کے وفادار نکلے۔
اس ملک میں رہتے ہوئے یہ کہنا کہ فلاں امریکہ کا وفادار ہے اور خود کو غیروفادار سمجھنا دراصل اس قوم کے ساتھ مذاق ہے۔
اگر تحقیق کی جائے تو ہم سب اپنے اپنے انداز میں امریکہ کے وفادار ہیں۔ ایک بڑی مذہبی تنظیم کا یہ کہنا ہے کہ موجودہ حکمران مشرف سے بھی زیادہ امریکہ کے وفادار ہیں‘ اگر ایسا ہے تو یہ تنظیم ساٹھ برس سے اس ملک میں کیا کر رہی ہے؟ اسے چاہئے کہ امریکہ کے غداروں کی حکومت لے آئے‘ ورنہ چپ کرکے بیٹھی رہے اور امریکہ میں بچے پڑھائے‘ وہاں سے علاج کرائے۔
اس ملک کو جہاں تک پہنچایا‘ ہم نے پہنچایا اور پھر گلہ حکمرانوں سے کس بات کا کہ ان کو بھی ہم نے ہی حکمران بنایا۔ اب جس طرح کا بھی سٹاک ہمارے پاس ہے‘ اس میں جو برسر اقتدار ہے‘ اس کا قصور ہے اور جو بے اقتدار ہے‘ وہ بے قصور ہے۔ قوموں پر جب زوال آتے ہیں تو سب مل جل کر اسے لاتے ہیں۔
اسلامی تنظیموں نے جتنا زور باہر والوں کی مخالفت پر لگایا‘ اگر اتنی توجہ اپنی رائے عامہ کو اپنے مشن کیلئے تیار کرتی تو یہاں اسلامی نظام نافذ ہو گیا ہوتا۔ پھر کسی کو یہ گلہ نہ ہوتا کہ یہاں امریکی کیوں دندناتے پھرتے ہیں؟ موجودہ سیٹ اپ جو کچھ کر رہی ہے‘ اگر وہاں تنقید کرنے والوں کو بٹھایا جاتا تو یہ شاید ان سے بھی آگے نکل جاتے۔
٭٭٭٭٭٭
عید پر چار فلمیں ریلیز ہوئیں‘ جن میں سے ایک پنجابی فلم سنسر بورڈ نے منظور نہیں کی۔
خدا جانے جو منظور کیں‘ ان میں کیا تھا‘ بہرحال بڑا تیرا مارا لالی وڈ نے کہ عید پر چار فلمیں ریلیز کر ڈالیں‘ ہماری فلموں میں معافی کے ساتھ ہنر ہوتا ہے اور نہ آج کے دور کا سٹینڈرڈ۔
مسلم امہ کی ترقی کا یہ عالم ہے کہ اب تو سعودی عرب نے بھی تیس سال بعد سینما گھروں پر عائد پابندی ہٹا دی اور دو سینما گھر تو فوری طور پر کھل بھی گئے۔ عالم اسلام اب ضرور روشن خیال ہو گا‘ کیونکہ فارسی میں کہتے ہیں:
’’چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی‘‘
(جب کعبہ سے کفر کی آواز اٹھنے لگے تو مسلمانی کہاں رہ جائے گی؟)
بہرحال یہ بڑی پیش رفت ہے۔ امریکہ اسلام میں بڑی دلچسپی رکھتا ہے مگر وہ صرف اس کو ماڈرنائز کرنا چاہتا ہے‘ وہ چاہتا ہے کہ جتنا رابطہ عیسائیوں کا چرچ سے رہ گیا ہے‘ اتنا ہی تعلق مسلمانوں کا مسجد سے ہو۔ ہمارے فلم سازوں کو ہیروئنوں کو سائز میں لا کر ان کو صحیح قسم کا رقص سکھانا چاہئے‘ یہ پھّٹے توڑ ناچ تو گائے بھینسیں بھی کر سکتی ہیں۔
بالی وڈ نے اپنی ایکٹرسوں کو اس طرح کا بنا دیا ہے کہ جیسے گڑیائیں ناچ رہی ہوں۔ ایک طرف نرگس کا ڈانس دیکھئے‘ دوسری طرف شلپا سیٹھی کا رقص‘ خود بخود پتہ چل جائے گا کہ رقص کسے کہتے ہیں؟
براہ کرم سنسر بورڈ اور ہمارے فلم ساز اس فہرست پر بھی غور کریں کہ یہ فلموں کے نام ہیں یا کوئی لُچا کسی کو گالیاں دے رہا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ’’غنڈہ پنجاب دا‘ لوفر‘ ضدی بدمعاش‘ وحشی گجر‘ غنڈی رن‘ گجر چارسو بیس‘ جٹ دا کھڑاک‘‘۔
٭٭٭٭٭٭
چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ حکمران بھارتی دھمکیوں سے خوفزدہ ہو کر بلاثبوت کارروائی نہ کریں۔
چودھری برادران اقتدار سے تھک کر سو چکے ہیں‘ کبھی کبھی رضائی میں سے سر نکال کر بڑی نیک سی بات کہہ ڈالتے ہیں۔
یہ انہوں نے حکمرانوں کیلے نہایت ہدایت نامہ ٹائپ کی بات کی ہے کہ وہ بھارتی دھمکیوں سے ڈر کر کارروائی نہ کریں‘ سب سے پہلے ثبوت مانگیں حالانکہ حکومت نے پہلے ہی بھارت سے ثبوت طلب کئے ہیں۔