پیر، 23؍جمادی الثانی 1436ھ ‘ 13؍ اپریل 2015ء

پیر، 23؍جمادی الثانی 1436ھ ‘  13؍ اپریل  2015ء

اوباما کی کاسترو سے تاریخی ملاقات، امریکہ اور کیوبا میں نئے تعلقات کا آغاز۔   
یہ ایک تاریخی  موقع ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پہلی بار امریکہ اور کیوبا جن کے درمیان ’’اٹ اور کتے‘‘ کا بیر تھا۔ آج گزشتہ حالات واقعات کو بھلا کر ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے ہیں۔ صدر اوباما نے امریکہ کے روایتی دشمن ملک کے صدر فیڈل کاسترو سے ملاقات کرکے شمالی اور لاطینی امریکہ کے درمیان طویل نفرتوں کی سرنگ میں روشنی اور امن کی کھڑکی کھولی ہے۔ اس سے قبل ایران کے ساتھ بھی طویل سرد  جنگ کے بعد صلح اور دوستی کی راہیں استوار ہو چکی ہیں۔ افغانستان میں  طالبان کے بارے میں بھی صلح پسند بیانات آ رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اپنے دشمنوں کو رام کرنے کی پالیسی میں کامیاب ہو رہا ہے۔  شاید وہ بھی اب ’’مار نہیں پیار‘‘ کے فلسفے کا قائل ہو گیا ہے ۔  
ہمارا پیارا پاکستان تو ہمیشہ سے امریکہ کا منظور نظر رہا ہے۔ دوستی ہو یا دشمنی اس کے دونوں مزاجوں سے آشنا ہے اور بخوبی جانتا ہے کہ ’’نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی‘‘ اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تعلقات دوستی کے باوجود کھنچے کھنچے سے نظر آتے ہیں۔ پاکستان امریکی دوستی کی بھاری قیمت ادا کرنے کے باوجود بھی ابھی امریکہ کے منظور دوستوں میں جگہ نہیں پا سکا۔ بقول شاعر… ؎
ہم باوفا تھے اس  لئے نظروں سے گر گئے
شاید انہیں تلاش کسی بے وفا کی تھی
اب دیکھنا ہے کہ ایران اور کیوبا کا شمار کس کھاتے میں ہوتا ہے۔ ایران سے امریکہ کی شاہ کے دور تک خوب یاری رہی۔ اس وقت ایران کو مڈل ایسٹ میں پولیس مین کا درجہ حاصل تھا۔ پھر انقلاب ایران کے بعد نفرتوں کا دور آیا اور اب صلح کا دور دورہ ہے۔ جس سے اردگرد کی عرب ریاستوں کو پریشانی لاحق ہو رہی ہے۔ رہی بات کیوبا کی تو اب امریکہ کو لاطینی امریکہ کی طرف سے سکون ملے گا مگر کیوبا کا کیا حال ہو گا۔ یہ پاکستان والوں سے زیادہ کون جانتا ہے۔ جو اس  دوستی کا سب سے زیادہ مزہ چکھ چکا ہے۔ کیوں کہ ’’ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو‘‘ والی بات امریکہ کی دوستی پہ صادق آتی ہے۔  
…٭…٭…٭…٭…
تحریک انصاف کے کارکنوں نے بقایا جات کی وصولی کے لئے اسمبلی سیکرٹریٹ کے چکر لگانا شروع کر دیئے۔  
اب قومی اسمبلی ہو یا صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ یہاں چکر لگانے والے ارکان اسمبلی لگتا ہے کہ کچھ زیادہ ہی اپنی غیر حاضری کے دنوں کی تنخواہیں اور دیگر واجبات جو لاکھوں میں وصول کرنے کے لئے بے چین ہیں۔ اگر یہ انہیں مل جاتے ہیں تو پھر ’’آم کے آم گٹھلیوں کے دام‘‘ والی بات درست ثابت ہو گی اور ان کی موجیں ہی موجیں ہوں گی۔ کیوں کہ ’’مفت ہاتھ آئے تو برا کیا‘‘ہے۔ لیکن اگر ان کی چھٹیاں بنا تنخواہ منظوری کا آرڈر آ گیا تو پھر ان بے چارے غریب ارکان اسمبلی کا کیا حال ہو گا۔ یہ تو صدمے سے ہی آدھ موئے  ہو جائیں گے۔  
یہ ہے ہمارا روایتی سیاسی کہہ لیں یا غیر سیاسی مزاج۔ کام کریں یا نہ کریں تنخواہ کی وصولی کو ہم اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ہر جگہ یہ مفت خوری ہمارے مزاج میں داخل ہو چکی ہے اور ہم اس کے عادی ہو گئے ہیں۔ اب کیا فرماتے ہیں عمران خان اس مسئلے پر۔ یہ تنخواہ جائز ہو گی یا ناجائز اس کا فیصلہ انہوں نے ہی کرنا ہے کیونکہ تحریک انصاف کے ملا، مفتی، قاضی، عمران خان  ہی ہیں۔ ویسے بھی تو سارے ارکان اسمبلی کب  اجلاسوں میں دستیاب ہوتے ہیں۔ اکثریت اجلاسوں کے دوران غائب ہوتے ہیں۔  رہی بات اپوزیشن ارکان کی تو وہ بھی کبھی کبھار ہی رونمائی کے لئے اجلاسوں میں آتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ سب ارکان تنخواہیں حاصل کرتے ہیں مراعات لیتے ہیں تو پھر تحریک انصاف کے ان اجنبی یا نامحرم کہلانے والے ارکان کا ایسا کیا دوش ہے کہ انہیں تنخواہوں اور مراعات سے محروم رکھا جائے۔ یہ بے چارے بھی باقی ارکان اسمبلی کی طرح  ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے اس مقدس اسمبلی کے ممبران بنے ہیں۔ جسے بے توقیر کرنے میں یہ سب ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔  
…٭…٭…٭…٭…
کراچی میں ایک بار پھر جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم میں ٹھن گئی۔
کراچی کا ضمنی الیکشن ایم کیو ایم کے لئے کافی بھاری ثابت ہو رہا ہے۔ ایک تو اس حلقے سے مستعفی ہونے والے ایم کیو ایم کے امیدوار نبیل گبول پارٹی بھی چھوڑ گئے اور پھر اپنی کامیابی کو بھی دھاندلی قرار دے کر اپنی پارٹی پر دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف والے ایم کیو ایم کے اس محفوظ قلعے میں شگاف ڈالنے میں کامیاب نظر آ رہے ہیں۔ تیسری طرف جماعت اسلامی والوں کے ساتھ لڑائی جھگڑے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس شہر پر قبضہ برقرار رکھنے اور قبضہ قائم کرنے والے لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر گئے ہیں۔  
کراچی پر آج جتنا ایم کیو ایم کا حق ہے کبھی اتنا ہی حق جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان کا ہوتا تھا، کوئی سیاسی جماعت اگر نظر آتی تھی تو پیپلز پارٹی تھی جس کا بلوچ اور سندھی علاقوں میں اثر ہوتا تھا۔ پھر وقت بدلا تو جے یو پی مکمل طور پر غائب ہو گئی مگر چونکہ وہاں کبھی جماعت کا راج ہوتا تھا اس لئے جماعت والے آج بھی وہی راج پاٹ دوبارہ حاصل کرنے کے لئے دوڑتے پھرتے ہیں مگر اب ان کے لئے ’’وہ بات کہاں مولوی مدن جیسی‘‘ والی حالت ہے۔ تو سب اچھا ایم کیو ایم والوں کے لئے بھی نہیں رہا۔ اس ضمنی الیکشن کے بعد ہی کراچی میں کسی نئے سیاسی منظر کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔  
رہی بات جماعت اسلامی کے کارکنوں پر تشدد کی تو حیرت ہے جماعت اسلامی خود بھی اس کام کی ماہر رہی ہے۔ اس کے دور عروج میں کسی کالج یا یونیورسٹی کی بات چھوڑیں کراچی میں کسی جماعت یا تنظیم کی جرات نہیں ہوتی تھی کہ جماعت یا جمعیت کے مدمقابل آئے۔ آج خود جماعت کی وہی حالت ہے جو کبھی اس کے مخالفین کی ہوتی تھی۔ کسی نے شاید اس موقع کے لئے کہا تھا…؎
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب سے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
…٭…٭…٭…٭…