پیر ‘29 ؍ رجب المرجب1431ھ‘ 12 ؍ جولائی 2010ء

ایک ہفتے میں 14 سبزیوں 3پھلوں اور مرغی کے گوشت میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔
صوبائی دارالحکومت مہنگائی دارالحکومت بنتا جارہا ہے، اس کا بھی اے میاں صاحبان کچھ علاج ہے کہ نہیں کہ بس قراردادوں کے مسئلے میں الجھے رہیں گے ،میڈیا تو اپنا کام کر رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ اشیائے خوردونوش میں اضافہ کی رفتار کیاہے یا میڈیا کی ہر بات بھی کسی کی توہین پر مبنی ہے، خودکشیوں میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوچکا ہے اس سے پہلے کہ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اس کا اندراج ہو حکمرانوں کو مہنگائی پر قابو پا لیناچاہئے، یہ جمہوریت کی حفاظت، یہ سیاسی بازی گری، یہ میڈیا کی پردہ داری پر اعتراضات اور وزراء کے تلخ و شیریں بیانات تو چلتے رہینگے ، مگر امن کا بھی تو خیال کرناچاہئے جنہیں ووٹ دیکر انہیں حکومت کے سنگھاسن پر بٹھایا ہے، آج غریب کی حالت کسی قبر کے اگلے ہوئے مردے جیسی ہوگئی ہے اور وہ خالی پیٹ خودکشی پر آمادہ ہے حکومت کو چاہئے کہ ایک عدد ٹاسک فورس مہنگائی کو قابو میں لانے کیلئے بھی مختص کردے،جن لوگوں کے دانے پورے ہیں اور ان کے پاس دولت کی فراوانی ہے وہ تو شکایت نہیں کرینگے غریب ہی کہیں گے …؎
سیش تارک و بہم موج و گردابے چنیں ٹل
کجا دانند حال ما سکب سارانِ ساحلہا
اندھیر ی رات ہے موجو ں کا ڈر ہے اور ہولناک گرد ہے ساحلوں پر چین کی زندگی گزارنے والے ہم جیسے غریبوں کا حال کیا جانیں۔
٭٭٭٭
ڈاکٹر سعید الٰہی نے کہا ہے پرویزالٰہی نواز دشمنی کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
اب تو یوں لگتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ق کوئی اور چیز ہے اور پرویز الٰہی کوئی اور چیز، وگرنہ دو مسلم لیگیوں میں اتنی دشمنی کیوں کر ہو ہم تو امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اگر ساری مسلم لیگیں متحد ہوجائیں تو پرویز الٰہی مستعفی ہوجائیں گے، میاں نواز شریف واقعتاً شریف ہیں کہ دشمنی کا موقع پاکر بھی دشمنی نہیں کرتے البتہ ہلکی پھلکی سیاسی نوک جھونک جاری رکھتے ہیں تاکہ پرویز الٰہی کی کھجلی میں کمی آئے اب یہ میڈیا کے خلاف قرارداد کا سارا ملبہ بھی پرویز ثانی نے میاں نواز شریف پر ڈال دیا ہے، میڈیا کی آزادی پر تو مسلم لیگ قاف اور نون دونوں متفق ہیں یہ تو جانبین کے کچھ ارکان نے اپنے طور پر ایسا کیا، مگر باہر آکر انکار کردیا مگر میڈیا والوں کو مکے دھکے بھی مارے، میڈیا کو کبھی کسی بھی دور میں کسی نے آزادی نہیں دی، میڈیا نے اپنی آزادی خود حاصل کی ہے اور اب بھی اس کی اتنی طاقت ہے کہ پہلے سے بڑھ کر آزادی کا مظاہرہ کرے، میڈیا اگر اپنی غلطیوں کو نہیں چھپاتا تو وہ حکمرانوں پر پردہ کیوں ڈالے ساری دنیا میں میڈیا کا کلیدی رول ہوتا ہے بلکہ بعض ملکوں میں تو میڈیا کے وژن کی روشنی میں حکومتی پالیسیاں تشکیل پاتی ہیںجن میں امریکہ پیش پیش ہے جومیڈیا کو تھنک ٹینک کا درجہ دیتا ہے، بہرصورت چھوٹے چودھری صاحب مسلم لیگ قاف کے لیڈر بن کر سوچیں اور مسلم لیگ ن سے دوستی نہیں کرسکتے تومخالفت کریں دشمنی تو نہ کریں اس سے بابائے قوم کی روح خوش نہیں ہوگی۔سیاست میں مخالفت ہوتی ہے دشمنی نہیں۔
٭٭٭٭
وفاقی وزیر پانی و بجلی نے کہا ہے لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کے سلسلے میں نئی تاریخ نہیں دوں گا، تاجر واپڈا کی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں خریدلیں۔
وفاقی وزیر پانی و بجلی کے پاس لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی تاریخیں ختم ہوگئی ہیں اس لئے انہوں نے نہایت شرافت کے ساتھ مزید تاریخوں سے انکار دیا ہے یہ اُن کی عظمتِ وزارت ہے کہ وہ اپنی ناکامی کو چھپاتے نہیں جونکہ پانی بھی بجلی سے لوگوں کو ملتا ہے اس لئے وہ صرف وزیربجلی ہی کافی و شافی ہیں، انہوں نے یہ بڑا اچھا کیا کہ واپڈا کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو سیل پر لگا دیا، اب یہ تاجروں کی مرضی ہے کہ وہ انہیں خریدیں یا نہ خریدیں، امید تو یہی ہے کہ وہ ایسا نہیں کرینگے، جہاں تک بھارت کے ساتھ پانی کے تنازع کا تعلق ہے تو وزیر موصوف نے کہا ہے کہ بھارت ایسا نہیں کرسکتا کہ پاکستان کا پانی روکے کیونکہ سندھ طاس معاہدہ موجود ہے۔ یہ سندھ طاس معاہدہ یا سودے بازی ہی تو ہے کہ بھارت نے پاکستان کا پانی بند کررکھا ہے اور ڈیم پر ڈیم بناتاچلا جارہا ہے ہم نے کشمیر کے معاملے میں بھی عالمی سطح پر بڑے رابطے کئے مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے دو پات اب پانی کے مسئلے میں ہم کیا کرلیں گے، امریکہ نے بھارت کو بالادستی دے رکھی ہے پاکستان ریگستان بنتا جارہا ہے اور بھارت کی زمینوں میں ہمارے پانی سے فصلیںلہلہا رہی ہیں یوں لگتا ہے کہ ہمارے وزراء مسئلے کا حل نکالنے کے بجائے رات رات بھر لوگوں کو چپ کرانے کیلئے جوابات گھڑتے رہتے ہیں وزیرپانی و بجلی نے بڑی امید دلائی ہے کہ بجلی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہوجائے گا، بھارت کے ساتھ پانی کا معاملہ تو اپنی جگہ اپنے ملک میں بھی پانی کا تنازعہ شروع ہوچکا ہے آخر بے بس وزیر کیا کریں۔
٭٭٭٭
خبر ہے کہ سعودی عرب میں طوطے تلاوت کرنے لگے۔
ایک سعودی عرب ہی کیا پورے عالم اسلام میں طوطے تلاوت کرتے ہیں۔ خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب یہ طوطے تلاوت کرتے ہیں تو گانا بھول جاتے ہیں، مگر عام حالات میں یہ گانا گاتے ہیں، طوطا ایک ایسا پرندہ ہے کہ اُسے جو بھی یاد ہوجائے اسے سمجھ نہیں سکتے، یہی وجہ ہے کہ مسلم امہ پر باطل بھرپور وار کررہا ہے مگر ستاون اسلامی ملکوں کے طوطے خاموش ہیں، مسلمانوں کو طوطے کی رٹ چھوڑ کر اس آیت پر عمل کرناہوگا کہ خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جنہیں خود آپ اپنی حالت بدلنے کی فکر نہ ہو، طوطے تو چوری کھا کر کچھ بھی کہہ سکتے ہیں جبکہ مسلمانوں کو چوری کھانے والے طوطوں کی نہیں اصل مجنونوں کی ضرورت جو لیلائے مقصد کو پالیں، اور دنیا پر ثابت کردیں کہ وہ طوطے نہیںشاہین ہیں، مگرلوگوں کی محفل میں بیٹھ کر یا اس کے کہنے میں آکر طوطے بن گئے ہیں جو چوری کھاتے اور بلا سوچے سمجھے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، اگر یہ ذرا سا بھی زور لگائیں توپھر ہنس کی چال بھول کر کوے کی چال چلنے لگیں گے اور تمام اونچی چٹانوں پر عقابوں کا قبضہ ہوجائیگا۔