اتوار ‘ 10 ؍ربیع الاوّل 1435ھ 12 ؍ جنوری 2014ء

2013ء میں چین نے سپر طاقت امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا، بیرونی تجارت کے حجم میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ گیا !
خاموش مزاج اور متحرک چینی قوم جس طرح دنیا بھر کے مسائل میں ٹانگ پھنسانے کی بجائے سر جھکائے خاموشی سے مصروفِ عمل رہی یہ ترقی اسی جہدِ مسلسل کا ثمر ہے۔ کہاں وہ وقت تھا کہ چینیوں کو ’’افیونی قوم‘‘ کہا جاتا تھا، سویا ہُوا شیر کہا جاتا تھا (قارئین اسے مسلم لیگ ن والا شیر نہ سمجھ لیں جو لکڑ ہضم اور پتھر ہضم ہے سارے انتخابی وعدے بھی کھا گیا) پھر بقول شاعر ’’گراں خواب چینی سنبھلنے لگے‘‘ والی حرکت لانگ مارچ کی شکل میں ماؤزے تنگ اور چو این لائی کی قیادت میں شروع ہوئی تو پھر یہ سیلِ بے کراں بن کر پورے چین پر چھا گئی اور آج صورتحال یہ ہے کہ ہر امریکی پر چینی قرضے کے 5 ہزار 5 سو ڈالر واجب الادا ہیں اور معاشی اعتبار سے چین مستحکم ہو چکا اور امریکی معیشت تنزلی کا شکار ہے۔ اس کی وجہ سب کو معلوم ہے کہ امریکہ نے دنیا بھر میں ہر جگہ فساد اور فتنہ والے علاقوں میں ’’مان نا مان میں تیرا مہمان‘‘ والی پالیسی مدنظر رکھتے ہوئے سینگ پھنسائے ہوئے ہیں اور وہ یہ سب کچھ امن اور دنیا کے سکون کے نام پر کر رہا ہے مگر انجام سب کے سامنے ہے۔ جہاں جہاں یہ حضرات ’’انکل سام‘‘ اپنا سبز قدم رکھتے ہیں وہاں سے امن غائب ہوتا ہے اور بدامنی ڈیرے ڈال دیتی ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ امریکہ چین سے سبق حاصل کرے اور ہر ملک کو اپنے مسائل خود حل کرنے دے۔ اگر زیادہ گڑبڑ والا معاملہ ہو جائے تو اقوام متحدہ آخر کس مرض کی دوا ہے، وہاں دنیا بھر کے نمائندے بیٹھے ہیں جو مل جُل کر اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں۔ ہزاروں میل دور بیٹھے امریکہ بہادر کو کیا پڑی کہ وہ ہر جگہ کود کر اپنی دیوالیہ معیشت کو اور دیوالیہ کرنے پر تُل گیا ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
وزیر مملکت اور سیکرٹری کی غیر حاضری، سینٹ قائمہ کمیٹی مواصلات کا اجلاس احتجاجاً ملتوی !
گزشتہ ماہ قومی اسمبلی میں وزیر داخلہ بھی وزراء کی غیر حاضری پر خاصے برہم ہوئے مگر نتیجہ کیا نکلا؟ وزیراعظم نے بھی اسمبلی اور سینٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس میں وزراء اور ذمہ دار حکام کی حاضری یقینی بنانے کو کہا مگر ’’حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بِن کِھلے مرجھا گئے‘‘ کوئی عمل نہ ہو سکا۔ ایسی افراتفری اور لاتعلقی کے حکومتی ادارے اور ان کے سربراہ جواب دہی اور معلومات کی فراہمی تک سے بیزار نظر آنے لگے ہیں، اکثر و بیشتر یہی حال نظر آتا ہے البتہ چند ایک ملک و قوم کا درد رکھنے والے البتہ اپنے امور کی انجام دہی احسن طریقے سے کر رہے ہیں جن کیلئے ساغر صدیقی نے درست کہا ہے … ؎
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحبِ اسرار نظر آتے ہیں
اب حکومت کو چاہئے کہ وہ ان وزراء اور افسران کو فارغ کرے جو امورِ مملکت چلانے میں سنجیدہ نہیں اور یہ عہدے ایسے افراد کو دئیے جائیں جو سنجیدگی سے اپنا کام کرنا چاہتے ہوں۔ بے شک دیگر مصروفیات بھی اہم ہیں مگر ہر کام ایک شیڈول اور نظم و ضبط کے تحت ہی اچھا لگتا ہے۔ بے ترتیبی تو انتشار پیدا کرتی ہے۔ آخر ان وزیروں اور سیکرٹریوں کے پی ایس اور پی اے کس مرض کی دوا ہیں، روزانہ نہیں انہیں تو ہفتہ بھر کا شیڈول پہلے سے تیار کرنا ہوتا ہے تاکہ صاحب ترتیب سے کام کریں اور اجلاسوں میں شرکت کریں۔ پھر یہ ایک وقت میں دو یا تین کام کیسے نکل آتے ہیں۔ اس راز سے پردہ اٹھانا ضروری ہے کیونکہ اہم قومی امور کیلئے بُلائے گئے ان اجلاسوں پر لاکھوں روپے خرچہ آتا ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
پنجاب یوتھ فیسٹیول میں 37 کلو وزنی 3 سالہ عیان صدیقی نے دھوم مچا دی !
صحت مند بچوں کے مقابلے ایک اچھی کاوش ہیں اس سے والدین میں بچوں کی صحت اور ان کی خوراک پر توجہ زیادہ بہتر ہو جاتی ہے۔ یوں تو ہر شخص کو اپنا بچہ سب سے پیارا لگتا ہے مگر صحت مند بچوں کے اس طرح کے مقابلے میں حقیقت میں صحت مند بچے ہی شامل ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچپن میں گرائپ واٹر کی بوتلوں پر صحت مند بچے کا لوگو جس میں ایک بچہ سانپ اپنی مُٹھی میں دبائے ہوتا تھا اچھا لگتا تھا، یہ الگ بات ہے کہ اس کا ذائقہ آج بھی بھلا لگتا ہے اگرچہ اب ہماری پینے پلانے کی عمر نہیں رہی۔ اس کے بعد ’’رہے دنیا میں تو بے مثال، میرے بچے میرے نونہال‘‘ والا نونہال والوں کا یہ گانا تو اب عیان صدیقی پر مکمل فٹ بیٹھتا ہے کیونکہ واقعی اتنا گول مٹول جاپانی سومو پہلوان جیسا صحت مند بچہ تو بے مثال ہی ہوتا ہے۔ خدا کرے وہ بھی سومو پہلوان بن کر پاکستان کا نام روشن کرے، ہر مقابلہ جیتے۔
ہاں البتہ بعد میں سکول اور خاص طور پر کالج لائف میں یہ فربی پریشان کرتی ہے کیونکہ سکول کے دوست موٹو یا موٹے کہہ کر خوب تنگ کرتے ہیں اور ہم اس تجربے سے گزر چکے ہیں اس لئے سمجھ لیں اپنا افسانۂ غم بیان کرتے ہیں پھر کالج لائف میں سمارٹ بننے کیلئے جو جو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ان کا تو ذکر ہی چھوڑیں کیونکہ یہی وہ دور زریں ہوتا ہے۔ جب دنیا حُسین معلوم ہوتی ہے، کائنات جوان لگتی، امنگیں رقص کرتی ہیں جس کی سُر تال پر فربہ اندام قدم سے قدم ملا کر چل نہیں سکتے اس لئے ایک شوخ و شنگ اور جوان رعنا نظر آنے اور کسی کی نظر میں بسے رہنے کی تمنا میں ہر نوجوان پہلے تو وحید مراد، ندیم، شاہد اور آج کل عامر خان، سلمان خان اور شاہ رُخ بننے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ خدا نظرِ بد سے بچائے عیان صدیقی جیسے صحت مند بچے کیلئے مشکل ہو سکتے ہیں۔