جمعرات ‘15 ذیقعدہ 1435 ھ ‘ 11 ستمبر2014ئ

جمعرات ‘15 ذیقعدہ 1435 ھ ‘ 11 ستمبر2014ئ

ہالی وڈ میں طاہر القادری کی زندگی پر فلم بنائی جائے گی : ترجمان پی اے ٹی!
فی الحال تو اس فلم کا نام تجویز ہو رہا ہو گا جس کیلئے فلمساز اور ڈائریکٹر صبح شام آنے جانے والوں، بشریات، آثار قدیمہ اور علم الانساب کے ماہرین سے مشورے ہو رہے ہوں گے بلکہ علم الاخلاقیات اور رموزِ خواب جاننے والوں کو بھی دعوت دی گئی ہو گی کہ وہ اس فلم کا نام جلد از جلد تجویز کریں تاکہ آنے والے قریبی دنوں میں اسکی شوٹنگ شروع کی جا سکے کیونکہ فی الحال اسلام آباد ڈرامے کی مسلسل اقساط دیکھنے کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت مولانا کے فنِ اداکاری و صدا کاری سے آشنا ہو چکی ہے اور فلم بنانے والوں کو اس ڈرامے سے فلم کیلئے باقی چٹخارے دار مصالحہ یا مواد مل جائے گا اور حقیقی رقص و موسیقی بھی اس ڈاکومنٹری میں حقیقت کا رنگ بھر دے گی اور یوں سپرہٹ فلم تیار ہو سکے گی۔
اب دیکھنا ہے کہ مولانا کا کردار کون ادا کرتا ہے۔ ویسے تو مولانا نے خود ہی اگر اس فلم میں کام کریں تو انکی اور فلم کی شہرت کو چار چاند لگ جائینگے ورنہ ممتاز بھارتی اداکار امریش پوری اگر زندہ ہیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ وہ ایسے اداکار ہیں جو مولانا کی طرح بول بھی سکتے ہیں، آنکھیں بھی گھما سکتے ہیں اور داڑھی کے گیٹ اپ میں ہاتھ ہلا ہلا کر تو واقعی وہ مولانا لگیں گے۔ فی الحال تو فلم کا نام تجویز کرنا ہے۔ اس بارے میں عوام الناس ہی کوئی رائے دیں تو بہتر نام تجویز ہو سکتا ہے جو چند ایک نام زبان زدعام ہیں ہم انکے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
دھرنوں کی شہرت، مودی اوباما ملاقات پر سکھوں کا وائٹ ہاﺅس کے باہر دھرنے کا اعلان!
تحریک سکوائر سے دھرنوں کی جو سیریز شروع ہوئی اس کی شہرت اب چہار دانگ عالم پھیل چکی ہے۔ اسلام آباد دھرنے کی تازہ اقساط نے اس سیریز کی شہرت کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔ بہت سے ممالک میں اب اس سیریز کی نقالی کیلئے مختلف سیاسی اور غیر سیاسی تنظیموں کی طرف سے کوشش کی جا رہی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ اصل بہتر رہے گی یا نقل زیادہ اچھی ثابت ہو گی مگر سکھوں کی طرف سے بھارتی وزیراعظم اور امریکی صدر کی ملاقات کے موقع پر وائٹ ہاﺅس کے باہر دھرنا لگتا ہے ایک ہاﺅس فل کامیاب کامیڈی شو ہو سکتا ہے کیونکہ عمران اور قادری کے مقابلے میں اگر کوئی اداکاری اور صدا کاری کر سکتا ہے تو وہ سکھ ہی ہو سکتے ہیں یقین نہ آئے تو لطائف کا خزانہ کھنگال کر دیکھئے سب سے زیادہ لطائف سکھوں، پٹھانوں اور مولویوں کے بارے میں ہی ہوں گے ان میں سکھ سرفہرست ہیں اور اصل مزہ تب آئیگا جب رنگ برنگ پگڑیاں باندھے سکھ کرپان لہراتے ہوئے مودی‘ اوباما ملاقات کے رنگ میں بھنگ ڈالتے سڑکوں پر بیٹھیں گے۔ اگر انہوں نے اسلام آباد کی طرح سڑکوں پر بھی بول و براز اور کوڑا کرکٹ جا بجا پھیلا دیا تو وائٹ ہاﺅس کا ماحول تو اسکی تاب ہی نہیں لا پائے گا اور ساری ملاقات کا مزا کرکرا ہو جائےگا۔
لیڈی ڈیانا نے کمیلا پارکر سمیت کئی لوگوں کو قتل کی دھمکیاں دی تھیں، کتاب میں انکشاف! کون کم بخت ایسی بے پَر کی اُڑا رہا ہے۔ ایک شہزادی کے مرنے کے بعد .... جب تک وہ زندہ رہی لاکھوں دلوں کی دھڑکن بنی رہی جس کی نگاہ¿ شرر سے لاکھوں افراد جیتے جی قتل ہو جاتے تھے تو بھلا وہ کسی کو قتل کی دھمکیاں کیوں دیتی۔
وہ تو شاعروں کے شعر کی طرح ایک مکمل حُسنِ قاتل تھی، یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کی اپنی زندگی حسرت و یاس کے بے شمار افسانوں کے ساتھ مل کر افسانہ بنی رہے اور بہت سے لوگ اسکے ہاتھوں قتل ہونے کیلئے اپنی گردن خود پیش کرنے کو تیار رہتے تھے۔ رہی موجودہ پرنسس کمیلا پارکر کو فون پر قتل کی دھمکیاں دینے کی بات تو بھلا کہاں شہزادی ڈیانا اور کہاں مائی کمیلا پارکر ۔یہ تو شہزادہ چارلس کی نظروں کا قصور ہے یا عقل کا فتور ہے کہ وہ شہزادی کو چھوڑ کر ایک دیہاتی مائی پر دل و جاں سے فدا ہو گیا ورنہ کوئی بھی صاحبِ عقل اور درست نظر انسان ڈیانا کے مقابلہ میں کمیلا پارکر کو دیکھ کر دل تو تھام سکتا ہے اس کا ہاتھ نہیں تھام سکتا اس لئے ہم اس لغو الزام کو مسترد کرتے ہیں۔ بقول شاعر ”یہ ہَوائی کسی دشمن نے اُڑائی ہو گی“ ۔ آج بھی بہت سے لوگ ڈیانا کو پریوں کی شہزادی کی طرح ایک محبت کرنیوالی شہزادی تسلیم کرتے ہیں جیسا قصے کہانیوں کی کتابوں میں ہوتا ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث انکے کام فوج کو کرنا پڑتے ہیں : ماجدہ زیدی‘ کنول نسیم!
ہمیں (ق) لیگ کی ان خواتین کا بیان دلسوز پڑھ کر ایسے ہی شک پڑا ہے کہ کہیں یہ بھی کسی نئے سیٹ اپ پر تو نگاہیں نہیں جمائے بیٹھیں اور ”کارسازوں“ کو یہ احساس دلا رہی ہیں کہ ”ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں“۔ یہ دونوں خواتین اقتداریوں میں پہلے بھی مٹرگشت کرتی رہی ہیں اس لئے ان کا کہا پتھر پر لکیر سمجھیں‘ ویسے بھی جب سیاستدان اپنے حقیقی کام کاج چھوڑ کر سیاست کو عبادت کی بجائے تجارت کا ذریعہ بنائیں گے تو پھر انکے حصے کے کام دوسروں کو کرنا ہی ہونگے، اب اس سیلاب بلاخیز کو ہی لے لیں، ناقص انتظامات اور نامکمل معلومات کے باعث جب یہ بستیاں ویران کرتا، موت اور بیماریاں بانٹتا جا رہا ہے تو حکومت کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے ہیں جو پہلے ہی اسلام آباد میں قابض مخالفین کے خوف سے تھرتھرا رہے تھے، اب تو ہوش و حواس بھی سیلاب نے اُڑا دئیے ہیں۔ اگر ہر کام فوج نے کرنا ہے تو پھر باقی قدرتی آفات سے بچاﺅ کے محکمے اور فلڈ کنٹرول کے ادارے کس مرض کی دوا ہیں، یہ کس چیز کی تنخواہ لیتے ہیں، ان بے لگام مفت خور محکموں کو لگام ڈالنا پڑیگی تاکہ ایسی صورتحال میں یہ عوام کی مدد کریں اور فوج کو اسکے اپنے کام کرنے دے۔ بات بے بات پر فوج کو پکارنا ویسے بھی خطرناک ہے اور اسکا تجربہ ہمیں بخوبی ہے۔