بدھ‘ 19؍ جمادی الاوّل 1436ھ ‘ 11؍ مارچ 2015ء

 بدھ‘ 19؍ جمادی الاوّل 1436ھ ‘ 11؍ مارچ 2015ء

5 بچے ماں کو دینے کا حکم: ہائیکورٹ میں پھولوں کے آنسو سسکیاں، ابو کے ساتھ جانے کی ضد۔

شاعر نے کہا تھا … ؎
خوشبوئوں کا اک نگر آباد ہونا چاہئے
اس نظام زر کو اب برباد ہونا چاہئے
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہئے
وزیراعلی پنجاب نظام زر کو برباد کرنے کے دعوے کرتے ہیں لیکن ان کی کوششوں کے باوجود نظام زر برباد ہوا نہ ہی ابھی تک کوئی خوشبوئوں کا نگر آباد ہو رہا ہے۔ عطاء الحق قاسمی کو چاہئے کہ اب اپنا کوئی اور شعر وزیراعلی پنجاب کو یاد کروا دیں تاکہ آئندہ ہر محفل میں شہباز شریف وہ شعر پڑھ لیا کریں۔ مذکورہ شعر تو اب بے وقعت سا ہو گیا ہے۔
بچوں کی سسکیاں سن کر یاد آیا کہ اگر عدل صاحب اولاد ہوتا تو اسے پتہ چلتا کہ پھول سے بچوں کو ماں سے یا باپ سے جدا کرنے پر کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ قانونی طور پر تو بچے جوان ہونے تک ماں کے پاس ہی رہتے ہیں۔
لیکن عدالت کو فیصلہ کرتے وقت ان معصوموں سے پوچھ لینا چاہئے کہ انکی رائے کیا ہے؟ وہ کیا چاہتے ہیں؟ ہونا تو یہی چاہئے کہ بچوں کو اختیار دیا جائے کہ وہ کس کے ساتھ جانا چاہتے ہیں اگر وہ باپ اور دادی کے ساتھ رہنا پسند کریں تو انہیں وہاں رہنے دیا جائے لیکن اگر ماں اور نانی کے ساتھ زیادہ محبت ہے تو پھر وہاں رہنے کی اجازت دی جائے۔ نوائے وقت میں دونوں ہاتھ جوڑے ہائیکورٹ کے احاطے میں کھڑی معصوم بچی پتھر سے پتھر دل کو بھی رونے پر مجبور کر رہی تھی۔بچی کی ماں اور باپ سے ایک ہی التجا ہے کہ خدارا آپ راضی ہو جائیں۔
کاش عدل صاحب اولاد ہوتا تو ان بچوں کی آہ و زاری کا کچھ احساس ہوتا۔ خدارا والدین کے درمیان علیحدگی کی صورت میں بچوں کو سختی سے کسی کے ساتھ مت بھیجیں بلکہ انکی رائے لے لیں تاکہ یہ آبگینے ٹوٹنے سے بچ جائیں۔
٭…٭…٭…٭
وزارت صحت نے 50 منصوبوں کیلئے وفاقی حکومت سے 28 ارب مانگ لئے۔
پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا حکومت کی زنبیل میں 28 ارب روپے ہیں۔ اسحاق ڈار آئے روز آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔ اگر خزانے میں اس قدر پیسے ہونگے تو پھر انہیں منتیں اور ترلے کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
محکمہ صحت نے 28 ارب روپے مانگ لئے۔ کیا 28 ارب روپے دینے کے بعد مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں ڈسپرین کی گولی فری مل سکے گی؟ دیہاتوں کے ہسپتال تو جانوروں کے باڑوں میں تبدیل ہو چکے ہیں جب کہ نیم حکیم خطرہ جان کے مصداق لوگ وہاں قبضہ کرکے صحت کے نام پر موت بانٹ رہے ہیں۔
محکمہ صحت کو آپ 28 ارب کی بجائے 28 کھرب بھی دے دیں لیکن اسکی کل سیدھی نہیں ہو گی۔ غریب ایسے ہی تڑپ کر مرتے رہیں گے اور امیر طبقہ بیرون ممالک سے علاج کروا کر صحتیاب ہوتا رہے گا۔ ہمارے ہاں کوئی ہسپتال نیا نہیں بنا سارے پرانے ہیں حکومت کے پاس غریبوں کو دینے کیلئے کچھ نہیں۔ سب انکی اپنی جیب میں جا رہا ہے۔ ہر ہسپتال کی حالت ناگفتہ بہ ہے بلکہ شہر سے باہر نکل کر دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے کہ صحت کے نام پر کیا دو نمبری ہو رہی ہے۔
وفاق ملک میں ایک باپ کا درجہ رکھتا ہے اسے اپنے چاروں صوبوں کو بچوں کی طرح محبت اور پیار دینا چاہئے اور ہر ایک کی ضرورت پوری کرنی چاہئے۔
٭…٭…٭…٭
پنجاب پولیس چاہے تو کتا بھی اقرار جرم کر لے:۔ سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے بجا فرمایا حقیقت بھی یہی ہے۔ پولیس اگر کسی کو اقرار جرم کرانے پر تیار ہو جائے تو اپنے روایتی انداز سے وہ مجرم کو نہ صرف تلاش کر لیتی ہے بلکہ سات تہوں میں سے نکال کر بھی سامنے لے آتی ہے۔
پولیس کے ایک سینئر افسر نے ایک موقع پر کہا تھا کہ اگر پولیس والے جلوس نکالیں تو انہیں منتشر کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ آپ وہاں چندہ جمع کرنا شروع کر دیں۔ یہ لوگ ایسے غائب ہوں گے جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوتے ہیں۔ پولیس کو جس آدمی سے کچھ ملتا ہے وہاں تو ملزم چند سکینڈ میں مجرم بن کر سامنے آ جاتا ہے لیکن جو تفتیش انہوں نے فی سبیل اللہ کرنی ہو وہاں سال بھر انہیں ملزم ہی نہیں ملتا۔
کوٹ رادھا کشن کے واقعہ میں ایک خاتون کو اسکے شوہر کے ہمراہ آگ میں جلایا گیا پولیس عینی شاہد تھی لیکن ابھی تک پولیس کسی کو اقرار جرم نہیں کروا سکی۔ سپریم کورٹ نے درست کہا اگر پولیس کا قبلہ درست ہو جائے تو ملک کے آدھے مسائل ویسے ہی ختم ہو جائیں لیکن پولیس کا پیٹ بھرنے کا نام ہی نہیں لیتا نہ جانے ان کا پیٹ کس قدر بڑا ہے۔ آئی جی پولیس نے اب ہر تھانے میں ایڈمن آفیسر تعینات کئے ہیں‘ اسکے باوجود مقدمہ درج کرانے میں کوئی سہولت نہیں۔ ویسے ہی محرروں کے سامنے پھینک دیا جاتا ہے اور انکی نظر درخواست دہندہ کی جیب پر ہوتی ہے۔ بڑے بڑے آئی جی آئے لیکن محرر سب سے بڑا آئی جی ہے ‘ اب عوام ہی فیصلہ کرینگے کہ یہ آئی جی کون سی قسم کے ہیں؟
٭…٭…٭