اتوار ‘ 19 ربیع الاوّل 1436ھ‘ 11 جنوری 2015ئ

اتوار ‘ 19 ربیع الاوّل 1436ھ‘ 11 جنوری 2015ئ

عمران خان اور ریحام کی شادی کی تقریبات کی اختتامی تقریب انکے ولیمہ کے ساتھ اختتام کو پہنچ گئی۔ 

اس پریم کہانی کا آغاز بھی نہایت دلچسپ ہے۔ ریحام خان عمران کا انٹرویو لینے بنی گالہ آئیں اور ”بہت دیر کی مہرباں آتے آتے“ والے جملے سے عجب پریم کی غضب کہانی کا آغار ہوا۔ انٹرویو کے دوران کیوپڈ نے ایسا تاک کے تِیر مارا کہ کہ انٹرویو لیتے لیتے ریحام عمران کا دل بھی لے بیٹھی اور عمران خان زیرِ لب ”ہم دل دے چکے صنم تیرے ہو گئے ہیں ہم تیری قسم“ والا گیت گنگناتے نہایت خاموشی سے ریحام کا دل جیت گئے اور یوں 3 بچوں کی ماں اور 2 بچوں کے باپ نے اپنے نئے مشترکہ گھر کی بنیاد رکھ دی۔ ریحام سے شادی کا کھلم کھلا اعلان کرنے کی ہمت تو خان صاحب سے نہ ہو سکی شاید اس لئے کہ کہیں ان کی خواتین پرستاروں پر بُرا اثر نہ پڑے، ان کے دل نہ ٹوٹ جائیں۔ البتہ مغربی میڈیا نے ”مسز خان“ کہہ کر پوری قوم کو آگاہ کیا۔ پھر کیا تھا پوری قوم کو شادی کا بخار چڑھ گیا اور دکھوں و غموں کو بھول کر یہ قوم میڈیا کے ساتھ مل کر جشنِ شادی منانے لگی۔ لاہور، کراچی سمیت کئی شہروں میں تحریک انصاف والیوں نے ڈھولک بجائی، سہرے کے گیت گائے، مٹھائی بانٹی، پھر کیا تھا بنی گالہ میں نکاح کے موقع پر جو ریحام خان سامنے آئی وہ بی بی سی والی یا اینکر پرسن والی بے باک ریحام سے مختلف ریحام خان تھی شادی کے بعد میڈیا کے سامنے سر پر دوپٹہ اوڑھے قمیض شلوار میں ملبوس ریحام مکمل مشرقی روپ میں ابھریں۔ عروسی جوڑا پہنے وہ کسی جودھ پوری رانی کی طرح لگ رہی تھی، پُراعتماد تو ہیں ہی، کیمرے کے سامنے کا بھی انہیں پہلے سے تجربہ تھا، انکے سامنے تو عمران خان شرمائے شرمائے نظر آئے، چاروں طرف سے مبارک سلامت کا شور تھا، پُراعتماد ریحام مسکرا رہی تھی اور عمران شرما رہے تھے۔
شاید یہی وہ تبدیلی تھی جس کا ذکر کئی ماہ کے دھرنے میں عمران بار بار کرتے رہے تھے، یہ تبدیلی ریحام کی شکل میں عمران کی زندگی میں آ گئی تو بنی گالہ کا بجلی کا بل بھی عمران کو جمع کرانا پڑا جو انہوں نے سول نافرمانی کے نام پر ادا نہیں کیا تھا اور بجلی کاٹی جا چکی تھی، اِدھر بل جمع ہوا اُدھر بجلی بحال ہوئی۔ یوں بیوی اور روشنی دوبارہ عمران کے گھر آگئیںکہتے ہیں ہر کامیاب مرد کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے تو اب دیکھنا ہے پُراعتماد ریحام خان جس نے خوش قسمتی سے ”عمرانیات“ میں ڈگری بھی لی ہوئی ہے ہمارے عمران خان کے مستقبل کے وزیراعظم بننے کے خواب کو پورا کرنے میں کونسا کردار ادا کرتی ہے۔ ویسے تو انہوں نے عام روایت کے برعکس خود بنی گالہ عمران کے گھر آ کر نکاح کیا گویا دلہن بارات لے کر دولہا کے گھر آئی اور پھر جس طرح میڈیا پر وہ چہک چہک کر سوالات کے جواب دے رہی تھیں اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں میاں بیوی میں پہلے سے ہی ہم آہنگی تھی۔ شاید اس لئے نکاح کے موقع پر جب قاری صاحب نے نکاح کی خوشی میں چھوہارے لُٹائے تو دلہن نے کمال مہارت سے ایک چھوہارا کیچ کر لیا اور ”ونس مور“ کہہ کر دوسرے کی فرمائش بھی کر ڈالی۔ اسکے بعد دعوتِ ولیمہ میں بھی جو ایک مدرسہ میں ہوئی جہاں دونوں میاں بیوی نے زیر تعلیم بچوں کے ساتھ مل کر کھانا کھایا۔ یہ ایک اچھی بات ہے قوم کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہئے اور سادہ شادیوں کو رواج دیکر فضول پیسے برباد کرنے سے بچا بھی جا سکتا ہے۔ وہاں یہ ہم آہنگی بھی عروج پر نظر آئی جب کھانے کے دوران عمران ہاتھ صاف کرنے کیلئے بار بار دلہن کو ٹشو پیپر پکڑاتے رہے۔ اب لگتا ہے کہ جلد ہی ریحام خان سیاست ہو یا گھر ہر جگہ انگلی پکڑ کر عمران کو سیدھا چلنا بھی سکھا دیں گی۔ ریحام کوئی بھولی بھالی خاتون نہیں ایک ذہین و فہیم خاتون ہیں، لگتا ہے کہ اب گھر کے ساتھ میڈیا کا کام بھی عمران خان کو انہی کے سپرد کر دیں تو زیادہ بہتر ہو گا کیونکہ اس کا انہیں عمدہ تجربہ بھی ہے۔ اس شادی خانہ آبادی پر نوبیاہتا جوڑے کو ملک بھر سے مبارکبادیں مل رہی ہیں، تاہم کچھ جل بھن بھی گئے ہیں۔ بقول شاعر ....
مبارک ہو دولہا دلہن کو یہ شادی
کوئی جل گیا اور کسی نے دعا دی
والی کیفیت طاری ہے۔ عائلہ، مِیرا اور زویا جیسی خواتین کی طرف سے کوسنے بھی ملے اور دعائیں بھی۔ خطرہ ہے کہ ایسی ہی کئی دل جلی خواتین اب کہیں بن باس نہ لے لیں اور جوگن بن کر باقی زندگی ویرانوں میں بسر کریں۔ سیاستدانوں کی اکثریت نے دعا دی کیونکہ ان کی اکثریت بھی بار بار اپنے سر سہرا سجا دیکھنے کے خواب دیکھتی ہے۔ البتہ نبیل گبول بے چارے کا معاملہ الٹ ہے وہ شاید انتقاماً اور شادی نہ کر لیں کہ تُو نہیں اور سہی، اور نہیں اور سہی۔ اب وزیراعظم میاں نواز شریف خود بنی گالہ مبارکباد دینے جا رہے ہیں اور شاید منہ دکھائی میں وہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کی سلامی دے کر دلہن کے ساتھ دولہا کا بھی دل جیتنے کی کوشش کرینگے، بس خطرہ ہے کہیں وہاں جا کر نواز شریف صاحب کے دل میں بھی ایک بار پھر دولہا بننے کے ارمان نہ مچلنے لگیں۔ انکے اور عمران کی عمر میں بھی تو صرف 2 سال کا فرق ہے۔ ادھر جاوید ہاشمی بھی پریشان ہیں کہ اب اکثر لوگوں کی گھر والیاں انہیں شک کی نظروں سے دیکھ رہی ہیں کہ کہیں انکے میاں بھی عمران خان بننے کی کوشش تو نہیں کر رہے۔ خدا خیر کرے۔ عمران اور ریحام کو شادی کی خوشیاں مبارک