بدھ ‘ 7؍ صفر المظفر 1435ھ ‘11 ؍ دسمبر 2013ء

خسرہ ویکسین کا استعمال جائز ہے۔ دارالعلوم حقانیہ کا فتویٰ اگر ایسی ہی بات ہے تو ہم مولانا سمیع الحق سے لگے ہاتھوں درخواست کرینگے کہ قبلہ اب پولیو پر بھی نظر کرم فرمائیں اور اس سے بچاؤ کی ویکسین کو بھی مشرف بہ اسلام کرکے اسکے جائز ہونے کا فتویٰ بھی جاری فرمائیں۔ لاکھوں بچوں کا مستقبل معذور ہونے سے بچ جائے گا اور یہ سب آپ کو دعائیں دیںگے۔
خسرہ سے تو تحفظ ممکن ہے مگر پولیو جیسی معذوری سے کوئی فرار نہیں۔ بڑے بڑے پیسے والے لوگ خواہ مذہبی ہوں یا لبرل فتوؤں سے بے نیاز ہوتے ہیں اور اپنا علاج معالجہ بڑے بڑے ہسپتالوں میں غیر ممالک میں مہنگی سے مہنگی غیر ملکی ادویات خرید کر کرالیتے ہیں۔ خدارا آپ ان غریبوں پر توجہ دیں جو بڑی سے بڑی بیماری کیلئے اسپرین کی گولی یا پیناڈول کا شربت استعمال کرنے پر مجبور  ہیں۔ کہتے ہیں…؎
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر
ویسے لگتا ہے اس بار کہیں دارالعلوم کے اردگرد کے گھروں میں خسرہ  تو نہیں آگیا جس کی تباہ کاری دیکھ کر ہمارے مفتیوں نے اس سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ انکے گھر اس بلا سے محفوظ رہیں کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں ’’کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے‘‘ دعا ہے۔ خدا ان سب سمیت باقی لوگوں کو بھی خسرہ سے محفوظ فرمائے۔ اور یہ اب پولیو کی ویکسین لگانے کا اور اسکے جائز ہونے کا فتویٰ بھی دیدیں۔
٭…٭…٭…٭
کشمیر کے ذکر پر بھارتی ہائی کمشنر تقریب سے اُٹھ کر چلے گئے !
کم از کم یہ بات تو واضح ہوئی کہ بھارت کسی بھی فورم پر کشمیر کا تذکرہ پسند نہیں کرتا ورنہ ایک سفارتکار میں اتنی تو تہذیب ہونی چاہئے کہ وہ آدابِ محفل کا خیال رکھے اور کسی بھی حالت میں سفارتکاری کے ادب و آداب سے روگردانی نہ کرے کیونکہ اس سے ناصرف اس کا بلکہ اس ملک کا امیج بھی خراب ہوتا ہے جس کا وہ سفیر ہے۔ ہمیں افسوس اس امر پر ہے کہ اگر کشمیر اتنا ہی ناپسندیدہ موضوع ہے تو بھارت اس سے جان کیوں چھڑا نہیں لیتا اگر وہ کانٹا ہے تو اسے نکال کیوں نہیں دیتا۔ 65 سال کا تجربہ بتا رہا ہے کہ ’’اٹوٹ انگ‘‘ کی یہ فرضی داستان دفعہ ’’370‘‘ کے نازک موڑ سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ تمام قاہرانہ اقدامات، ترقیاتی پیکیج بھی اس نفرت بھری داستان کو ایک قدم بھی آگے نہ سرکا سکے۔ سب منظر نامے اسی مقام پر منجمد ہیں جہاں 1947ء سے آغازِ داستان کے وقت تھے۔ ساحر لدھیانوی نے کیا خوب کہا تھا …؎
تعارف روگ بن جائے تو اس کو بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
بہتر ہے بھارت بھی اس حقیقت کو مان لے، جان لے کہ کشمیر کل بھی اس کیلئے جنت نہ تھا آج بھی نہیں ہے اور آئندہ بھی کبھی اس کا نہیں بن سکے گا، جب تک کشمیر کے چپہ چپہ پر مزارِ شہدا آباد ہیں کشمیر اور بھارت میں نفرت ختم نہیں ہو گی۔
٭…٭…٭…٭
فروری میں دو دن بسنت یعنی پتنگ بازی کی اجازت دی جائے۔ منچلے کی فریاد پر دیکھتے ہیں انتظامیہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔ ورنہ ہمیں تو کسی تیز دھار ڈور یا کیمیکل والی ڈور سے کٹتے ہوئے گلوں سے بہنے والا خون یاد آجاتا ہے۔ اب اسی خوف سے درخواست گزار نے شہر سے باہر کھلے میدانوں اور پارکوں میں پتنگ بازی کی اجازت طلب کی ہے۔ اس سے ہمیں قیام پاکستان سے قبل کی بسنت یاد آنے لگی ہے۔ جب حضرت مادھو لال حسین کے مزار کے اردگرد شالامار ژ باغ اور حضرت میاں میر کے مزار کے آس پاس کھلے میدانوں کھیت کھلیانوں میں بسنتی چولوں اور سرسوں کے پھولوں کی بہار نظر آتی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد بھی 1990ء کی ہائی تک یہ میلہ بسنت پتنگ بازی کے تہوار کے طور پر عالمی شہرت رکھتا تھا۔ دنیا بھر سے لوگ لاہور کے اس تہوار کو دیکھنے آتے تھے۔ تب تک یہ کھیل تھا اس میں قاتل ڈور شامل نہیں ہوئی تھی۔ پھر نجانے کسی بدبخت نے کیمیکل والی ڈور اور دھاتی تار کو بطور ’’مانجا‘‘ استعمال کرنے کی ذلت اٹھائی اور اس قاتل نے درجنوں گھروں کے چراغ گل کر دئیے جس کے نتیجے میں یہ خوبصورت تہوار بھی اس بدصورت عمل کی نذر ہو گیا۔ حکومت اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت اسکے اچھے اور برے دونوں پہلو مدنظر رکھے اور عوامی جذبات دیکھ کر فیصلہ کرے اور گنجان آباد علاقوں میں کسی بھی صورت پتنگ بازی کی اجازت نہ دی جائے اور کیمیکل اور دھاتی ڈور رکھنے استعمال کرنے اور تیار کرنیوالوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔
٭…٭…٭…٭
نیشنل پارک بہاولپور سے 93 کالے ہرن غائب ہو گئے۔ اتنی بڑی تعداد میں ہرنوں کی اس پراسرار گمشدگی کی اصل وجہ جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ  یہ بہت نایاب نسل کے ہرن ہیں۔ خودبخود مٹر گشت کرتے تو نہیں نکلے ہونگے یا کہیں کسی اور پارک میں چرنے تو نہیں گئے ہونگے۔ اس ہرن کا گوشت نہایت لذیز اور مقوی ہوتا ہے اس لئے شکاری اسکے شکار میں کوشاں رہتے ہیں کچھ عرصہ قبل نامور بھارتی مسلمان فلمی اداکار کو اسکے شکار پر عدالتی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ بھارت میں بھی اسکے شکار پر پابندی ہے۔ ویسے حیرت ہے لوگ چشم آہو اور ہرنی کی چال پر جان چھڑکتے ہیں جبکہ ہم ان دونوں کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اب معلوم نہیںکس نے دیدہ دلیری سے نیشنل پارک سے اتنے سارے ہرن شکار کر لئے اور ان بے چارے ہرنوں کا گوشت شکاریوں کی کسی پارٹی میں کام آیا ہو گا یا کسی بڑے صاحب کے گھر کے کھانوں کی زینت بنا ہو گا۔ گویا یہ ہرن نہ ہوئے بکرے اور دنبے ہوئے جنہیں کاٹ کاٹ کر پکایا اور کھایا جاتا رہا اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی اب یہ حکومت اور انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ اس حرکت میں ملوث افراد کے پیٹ پھاڑ کر ان میں سے ہرن برآمد کرائیں اور انکے نام سامنے لائیں جو محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے ہوتے ہوئے یہ ہرن ہڑپ کر گئے۔