بدھ ‘29 ؍ شعبان المعظم‘1431 ھ‘ 11 ؍ اگست 2010ء

صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے‘ مسئلہ کشمیر کے حل تک خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا‘ انتہاء پسندی کیخلاف جنگ میں کسی لیکچر کی ضرورت نہیں‘ ہم اپنی حکمت عملی کے تحت کام کرینگے۔
صدر صاحب جوں جوں اپنے دورے میں آگے بڑھتے جا رہے ہیں‘ ان کا جھاکا اترتا جا رہا ہے اور انکے بیانات میں پاکستان کی بہترین سفارت کار کی جھلک نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب تک لبھورام کشمیر کا ’’کھیڑا‘‘ نہیں چھوڑتا‘ خطے میں جنگ کے خطرات منڈلاتے رہیں گے۔ بھارتی شردھالوئوں نے ہمارے کمبل کو جپھا مار رکھا ہے‘ اس کیلئے دریا میں کودنا پڑیگا۔ مظلوم نہتے کشمیریوں پر مظالم میں اضافہ کر دیا گیا ہے‘ وہ دنیا کا چکر لگا رہے ہیں‘ پیچھے ملک خوفناک سیلاب کی زد میں ہے‘ انہیں سیلاب زدگان کیلئے بھاری امداد لے کر لوٹنا چاہیے اور بیرون ملک پاکستان کی جو رقوم پڑی ہوئی ہیں‘ انہیں بھی واپس لائیں کیونکہ یہاں وزراء کرام لوگوں کو سیلاب میں بھوکا مرتا دیکھ کر رو رہے ہیں‘ صدر صاحب کی یہ بات بڑی جرأت مندانہ ہے کہ ہمیں انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے کوئی لیکچر نہ دے‘ ہم خود اپنی حکمت عملی طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے‘ ناکام مذاکرات کے باوجود بھارت کیساتھ چلنے کو تیار ہیں۔
پورا جملہ یوں ہے کہ ’’ناکام مذاکرات کے باوجود بھارت کے ساتھ ’’ڈٹھے کھوہ‘‘ جانے کو تیار ہیں۔ کیا اب بھی قریشی صاحب کو ’’مذاق رات‘‘ سے کسی سنجیدگی کی توقع ہے؟
کشمیر کے بارے میں حالات و واقعات کے تناظر میں روز بروز یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ کشمیر ’’یدھ‘‘ کے ذریعے حاصل ہو گا۔ ویسے بھی بھارت اس کیلئے تیار بیٹھا ہے‘ صرف موقع کی تلاش میں ہے۔ بھارت نے پہلے ہی کئی قوتوں کو ساتھ ملا لیا ہے‘ پاکستان مظلوموں کیلئے وہ کچھ نہیں کر رہا جو اسے کرنا چاہیے‘ اس لئے اس پر سماوی آفات ٹوٹ پڑی ہیں۔ کشمیری تو اپنی جنگ لڑ رہے ہیں‘ مگر اس میں مزید برکت پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بنیاء لاتوں کا بھوت ہے‘ مذاکرات سے نہیں مانے گا۔ اس لئے ہمارے پیارے وزیر خارجہ اب اسکے ساتھ سر جوڑ کر نہ بیٹھیں‘ منہ موڑ کر کچھ کریں‘ وگرنہ وزیر خارجہ ہونے کے ناطے بیرونی دوستوں سے سیلاب زدگان کیلئے چندہ ہی جمع کریں تاکہ کوئی کارنامہ تو انکے کھاتے میں بھی لکھا جائے۔
٭…٭…٭…٭
مظفرگڑھ میں سیلاب میں گھری خاتون کے ہاں دو جڑواں بیٹوں کی پیدائش۔
بچوں کے پیدا ہونے اور سیلاب کے آنے میں خاصی مماثلت پائی جاتی ہے‘ جس طرح سیلاب نے آنا ہو تو آکے رہتا ہے‘ ویسے ہی جس کاکے نے آنا ہو‘ وہ پیدا ہوکے رہتا ہے۔ سیلاب تو پھر کبھی کبھی کسی خاص موسم میں آتا ہے‘ لیکن بچوں کا سیلاب کسی کے روکے نہیں رکتا۔ سیلاب کو روکنے کیلئے تو کوئی ڈیم نہیں بنایا گیا‘ البتہ پورے ملک کو بچوں کا ڈیم بنا دیا گیا ہے‘ جو روز بروز بھرتا جا رہا ہے اور ’’بے سود‘‘ آبادی کی وزارت کچھ بھی نہیں کر سکتی۔
پاکستان میں جس طرح سے آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے‘ اس سے دگنی رفتار میں مہنگائی‘ بیروزگاری‘ قدرتی آفات اور دیگر کئی مصائب بھی بڑھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اشرافیہ کے علاوہ جتنے لوگ ہیں‘ ذہنی بیماریوں کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ حکمرانوں سے اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے …ع
تم کیسے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے
٭…٭…٭…٭
سردار آصف علی نے کہا ہے‘ میں جعلی ہوں نہ میری ڈگری جعلی ہے‘ جعلی ڈگریوں کا ایشو اتنا بڑا ایشو نہیں ہے۔
سردار آصف علی بڑے پڑھے لکھے انسان ہیں‘ ان سے تو کسی نے نہیں کہا کہ وہ جعلی سردار ہیں یا انکی ڈگری جعلی ہے‘ پھر کیوں ان کو اس کی وضاحت کرنا پڑی۔ وہ اس سلسلے میں کچھ نہ کہتے تو ان کا اصلی پن اور نمایاں ہوتا‘ البتہ ان کا یہ کہنا ضرور جعلی ہے کہ جعلی ڈگریوں کا ایشو اتنا بڑا ایشو تو نہیں‘ گویا وہ جعل سازی کو ناپسند کرتے ہیں وگرنہ اسکی مذمت کرتے اور قوم کو بتاتے کہ جعل ساز اگر لیڈر بنیں گے تو ملک سے کرپشن اور جعل سازی کا خاتمہ ہو گا‘ اس وقت وزیراعظم اور سردار صاحب دونوں جعلی ڈگری کے ایشو کو اہمیت نہیں دے رہے‘ کہیں یہ دونوں حضرات جعلی ڈگری ہولڈرز ایسوسی ایشن کے سربراہ تو نہیں؟
جعل سازی بہرصورت جعل سازی ہے اور رنگ بازی ہے‘ اس لئے سردار صاحب اس کو ایشو سمجھیں اور نہ صرف ارکان اسمبلی بلکہ ہر شعبے سے اس کے خاتمہ کیلئے کوشش کریں۔ کیونک جو لوگ جعلی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں‘ وہ کسی بھی شعبے میں جا کر کرپشن ہی کرینگے‘ جو کہ ملک و ملت کیلئے نقصان کا باعث بنیں گے اور معاشرہ جعل سازوں کی آماجگاہ بن جائیگا۔
٭…٭…٭…٭
وفاقی وزیر قانون نے کہا ہے‘ میڈیا پر پابندی کوئی اور لگا رہا ہے‘ ہم اسکی آزادی کے حق میں ہیں‘ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے لیڈر پرویز رشید نے کہا ہے‘ حکومت پنجاب آزادی صحافت کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔
یہ تو دو مولویوں میں مرغی حرام والا کیس ہے‘ اگر کوئی بھی میڈیا پر پابندیاں نہیں لگا رہا تو پھر کیا من موہن سنگھ پابندیاں لگا رہے ہیں؟ میڈیا ایک ایسی چیز ہے جس کا عقیدہ ہے کہ …؎
صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے پابہ گِل بھی
انہی پابندیوں میں حاصل آزادی تو کرلے
بابر صاحب کو شہباز شریف اپنے ساتھ ہیلی کاپٹر میں ضرور بٹھا لیا کریں‘ اس لئے کہ ان کو بہت حسرت ہے کہ میاں صاحب ہیلی کاپٹر میں جھولے لے رہے ہیں۔ میڈیا پر پابندی لگانے والوں کا سب کو پتہ ہے‘ مگر حیرت ہے کہ میڈیا نے اپنی آزادی پھر بھی ڈنکے کی چوٹ ظاہر کردی۔