جمعرات‘11 رمضان المبارک‘ 1435ھ ‘ 10 جولائی 2014ئ

جمعرات‘11 رمضان المبارک‘ 1435ھ ‘ 10 جولائی 2014ئ

آپ شہید نہ ہونا کیونکہ پھر ”شغل میلہ“ کون لگائے گا۔ صحافی کے سخت سوال پر طاہرالقادری کی ”ہنسی“ نکل گئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خود مولانا بھی حقیقت سے آشنا ہیں۔ تب ہی تو اس سوال پر جُز بُز ہونے کی بجائے مسکرا اٹھے اور کہا کہ میرے علاوہ اور بھی ہیں ”شغل میلہ“ لگانے والے۔ یعنی ”ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا“ رہی بات شہید ہونے کی تو مولانا ابھی اس مقام سے بہت دور ہیں کیونکہ ”شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن“ والی منزل کے مسافر سکیورٹی اور بلٹ پروف گاڑیاں طلب نہیں کرتے۔
ہمارے ملک کی سیاست میں مولانا کے علاوہ جلسوں میں ”شغل میلہ“ لگانے کیلئے شیخ رشید کا نام بھی سرفہرست ہے اور وہ اپنے فن میں طاق ہیں۔ ایسا ”شغل میلہ“ لگاتے ہیں کہ میلے میں لٹنے والوں کو بھی اپنے لٹنے کا پتہ نہیں چلتا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مولانا خود اپنے میلے میں رنگ جماتے ہیں بلکہ شیخ رشید دوسروں کے میلے لوٹتے ہیں۔ جسے بعض کم عقل لوگ ”بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ“ کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ شیخ جی بھی اب شادی کی منزل کراس کر چکے ہیں اور چاہتے ہوئے بھی عمر رفتہ کو آواز نہیں دے سکتے۔ حالانکہ ابھی تک خود کو نوجوانوں کی طرح بنائے رکھنے کی وہ بھرپور کوشش کرتے ہیں۔
 رہے عمران خان اور نواز شریف تو ان میں میلہ لگانے کی صلاحیت ہو یا نہ ہو۔ لوگ البتہ انہیں دیکھنے کیلئے ضرور جمع ہو جاتے ہیں۔ جیسے بچے تماشہ دیکھنے کیلئے جمع ہوتے ہیں اسکے بعد سٹیج سے عمران خان کی گرم گفتاری اور نواز شریف کی نرم گفتاری کا ہر شخص اپنی عقل کے مطابق مطلب نکالتا ہے۔ کیونکہ ان دونوں کو خود بھی پتہ نہیںہوتا کہ کیا بول رہے ہیں۔
٭....٭....٭....٭
بھارت میں شراب کی دکانوں پر آلو اور پیاز کی فروخت، ایس ایم ایس سے قیمتیں معلوم ہوں گی، یہ ہے عوامی مسائل حل کرنے کی بروقت کوشش۔ آج کل بھارت میں آلو اور پیاز کی قیمتیں بڑھنے سے عوام پریشان ہیں کیونکہ سبزی خوروں کی اکثریت والے اس ملک میں زیادہ زور آلو، گوبھی، دال اور پیاز پر دیا جاتا ہے اور یہاں کی پسندیدہ غذا ہی ”آلو کی بھجیا“ ہے اور اسے پورے بھارت میں مختلف انداز سے کہیں چاول اور کہیں روٹی کے ساتھ کہیں سموسہ بنا کر کہیں چاٹ میں اور کہیں بن میں لگا کر کھایا جاتا ہے، اب جو بازاروں میں یہی انمول سبزی کمیاب ہو گئی تو عوام لگے حکومت کا سیاپا کرنے، اسکے ساتھ پیاز کی گرانی کا گراف بڑھنے سے عوام کا پارہ بھی تیزی سے بڑھنے لگا تو ہماری حکومت کی طرح وہاں کی حکومت نے سستے بازار، اتوار بازار جمعہ بازار یا رمضان بازار کا ڈرامہ رچا کر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش نہیں کی کیونکہ وہاں کی حکومت جانتی ہے کہ بھارتی عوام چاہے بھوکے ننگے ہوں یا خوش پوش سب باشعور ہیں اور حکومتوں کو لگام ڈالنا خوب جانتے ہیں اس لئے فوری طور پر شراب خانوں میں جہاں مئے اور جام کی حکمرانی صدیوں سے قائم ہے وہاں آلو اور پیاز کے کا¶نٹر بھی بنا ڈالے یوں انگور کی بیٹی کی محبت میں سرشار بادہ خواروں کی اکثریت وہاں سے نکلتے ہوئے تھیلوں میں مئے گلفام کی جگہ آلو اور پیاز لئے گھر روانہ ہوتی ہے یوں اپنے شوق کی تسکین کے بعد وہ بیوی کی جو گھر اور کچن کی دیوی ہوتی ہے کے چرنوں میں آلو اور پیاز کے تھیلے نذر کرکے اسکی محبت بھری نظروں سے سرشار ہوتے ہیں جس سے گھر اور کچن دونوں کا ماحول خوشگوار ہو جاتا ہے۔اسی پر بس نہیں اب ایس ایم ایس سے آپ کھڑے کھڑے کہیں بھی درست ریٹ معلوم کر سکتے ہیں اور فرق ہونے کی صورت میں شکایت بھی کر سکتے ہیں۔
یہ ہوتا ہے جمہوری حکومتوں کا چلن کیونکہ انہیں علم ہے کہ ووٹ کی تلوار عوام کے ہاتھ میں ہے جبکہ ہمارے حکمران اعلانات، فوٹو سیشن، نمائشی دورے اور سب اچھا کی رپورٹ جاری کرکے خوش ہو جاتے ہیں، اس وقت آلو اور گوبھی جیسی سبزیوں جو عام دنوں میں 20 سے25 روپے تک فروخت ہوتی ہیں‘ کے ریٹ سرکار نے عوام کو خوشحال اور زردار سمجھتے ہوئے 45 روپے اور 60 روپے مقرر کئے ہیں مگر انہی بھولے بادشاہ ہوں کے اپنے لگائے سستے بازاروں میں یہی آلو اور گوبھی 60 سے 80 روپے کلو کے حساب سے بک رہی ہے، اس سے بڑھ کر ”اندھیر نگری اور چوپٹ راج“ کی مثال کہاں فٹ ہو گی۔
٭....٭....٭....٭
کشمیر پر اقوام متحدہ کا مبصر مشن نئی دہلی میں سرکاری بنگلہ خالی کر دے۔ بھارت۔ اب اقوام متحدہ بھی غیرت دکھائے اور جواباً بھارت کو بھی کشمیر خالی کرنے کا حکم دے جس کا اعلان اور وعدہ بھارت نے اقوام متحدہ میں کیا تھا اور اقوام متحدہ نے اس بارے میں قراردادیں بھی منظور کی ہیں۔ بھارت کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین کرتا آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ خاموشی سے یہ سننے کی بجائے اگر روز اول سے ہی سخت اقدامات کرتی تو آج نوبت اس حد تک نہ آتی مگر اقوام متحدہ میں شامل بڑے ممالک نے بھارت کو بلاوجہ اپنی محبوبہ بنا کر سر پر چڑھا رکھا ہے جو کبھی انہیں الو بناتی ہے اور کبھی گھوڑا۔ اور یہ طاقتیں اس حسینہ کے چہرے پر سجے جمہوریت کے جھوٹے نقاب پر فدا ہو جاتی ہیں اور اسکے پیچھے چھپا اس کا اصل بھیانک روپ نہیں دیکھ رہیں جس نے ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کی خواہشات کا قتل عام کرکے انہیں جبراً اپنا غلام بنا رکھا ہے اور اقوام عالم کے سامنے وعدوں کے باوجود ابھی تک انہیں آزادی کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے۔
اب اگر اقوام متحدہ اپنے مشن کو بے گھر کرنے کے حکم پر غیرت کا مظاہرہ کرے اور جواباً بھارت کو اسکی زبان میں جواب دے تو شاید اس کشمیریوں کے قاتل کو ہوش آئے کیونکہ ”لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے“۔