پیر ‘ 9 ربیع الثانی 1435ھ‘ 10 فروری 2014ئ

پاکستان کو آبدوزوں کی فروخت میں کمیشن کا الزام، سابق فرانسیسی صدر سرکوزی کی عدالت میں طلبی !
یہ ہے مغربی دنیا کے ایک ترقی یافتہ عالمی طاقت ملک میں قانون کی حکمرانی کی ایک جھلک، جہاں عوام ہوں یا حکمران کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا، گھپلا یا کرپشن کرنے، میرٹ کی دھجیاں اُڑانے کی اجازت نہیں۔ اس کے برعکس ہمارے حکمرانوں کی زندگیاں، کرتوت اور نامہ اعمال دیکھ لیں ہر طرح کی کرپشن اور اخلاقی گراوٹ میں مبتلا ہونے کے باوجود وہ خواہ عہدے پر فائز ہوں یا ہٹائے جا چکے ہوں اپنے آپ کو قانون سے بالاتر تصور کرتے ہیں اور خود کو ”استثنیٰ“ کے دائرہ میں لا کر اپنے ہر جرم کی سزا سے خود کو محفوظ و مامون سمجھتے ہیں۔ ایک طرف وہ عوام کے سامنے اسلام سے محبت، سیرت نبوی سے ہدایت اور خلافتِ راشدہ کی برکات کے دعوے کرتے ہیں ان کی مثالیں دیتے ہیں دوسری طرف کھلے عام قانون، انصاف اور میرٹ کو پامال کرنے نظرآتے ہیںآبدوزوں کی فروخت کے اس کیس میں ہمارے سابق صدر کا بھی نامِ نامی اسمِ گرامی آ رہا ہے۔ اب ”دیکھئے ہوتا ہے کیا قطرے پر گہر ہونے تک“ فرانسیسی عدالت میں کون کون سے نئے رازوں سے پردہ اٹھتا ہے، کون کونسانیا چہرہ بے نقاب ہوتا ہے، وہاں کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں سب برابر ہیں یقین نہ آئے تو ایک اور خبر دیکھ لیں۔
سپین کی شہزادی کرسٹینا نے فراڈ اور منی لانڈرنگ کیس میں گزشتہ روز عدالت کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کرایا۔ سرکوزی ہوں یا کرسٹینا کسی نے بھی شاہی خاندان یا حکمران ہونے کے ناطے اپنے لئے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کیا، یہ فرق ہے جو ہمارے اور مغربی معاشرے میں قانون کی حکمرانی کے حوالے سے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ جس روز ہمارے معاشرے اور ملک میں خود کے قانون سے بالاتر ہونے کا خبط ختم ہو گیا اس دن سے ہمارا معاشرہ بھی ترقی ، خوشحالی اور انصاف کی طرف سفر شروع کر دے گا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
پاکستان کو اسلام کے نام پر مساجد اور تعلیمی اداروں پر حملے کرنے والوں سے خطرہ ہے : یوان ریڈلی !
برطانوی نومسلم صحافی خاتون نے بلاشبہ درست خدشہ ظاہر کیا ہے کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا، یہاں 95 فیصد سے زیادہ مسلمان آباد ہیں، لاکھوں مساجد و مدارس میں دن رات اسلام کی تعلیم و تبلیغ کا کام سرانجام دیا جاتا ہے۔ سکولوں اور کالجوں میں مسلم اساتذہ مسلمان بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم سے بھی روشناس کراتے ہیں اور تمام تر دنیاوی قباحتوں کے باوجود یہاں ایک مسلم معاشرہ موجود ہے جہاں اسلام کی حقانیت پر یقین رکھنے والے ایمان لانے والے کروڑوں افراد اسلامی احکامات کے مطابق رہتے ہیں اب اگر کچھ لوگ اپنی مرضی کے مطابق زبردستی اسلحہ کے زور پر قتل و غارت کے راستے اس معاشرے کو غیر اسلامی قرار دے کر تہس نہس کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ یہاں درجنوں نہیں سینکڑوں دینی و مذہبی جماعتیں، تنظیمیں ان کے سکول اور مدارس کام کر رہے ہیں اور یہ سب آئین میں رہتے ہوئے کام کر رہی ہیں اور انہیں عوام میں بھرپور پذیرائی حاصل ہے۔ آج تک ان سے کسی کو کوئی شکایت نہیں رہی، اب اگر کوئی گروہ یہاں دوسرے مسالک کی مساجد اور مدارس پر حملہ کرتا ہے تو وہ اسلام کی خدمت نہیں کر رہا بلکہ اسلام کے نام پر معاشرہ میں تفرقہ پیدا کر رہا ہے زہر گھول رہا ہے۔ یہ کون ہیں ان کی نقاب کشائی خود محترمہ یوان ریڈلی نے بھی کسی خوف یا مصلحت کے تحت نہیں کی کہ شاید ان کے میزبان بھی ناراض نہ ہو جائیں۔ اس لئے ہم بھی فیصلہ عوام پر چھوڑتے ہیں کہ وہ ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جن کی طرف محترمہ یوان ریڈلی نے اشارہ کیا ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
امریکی شہر پورٹ آرتھر کی چابی شاہد آفریدی کے سپرد!
بوم بوم آفریدی کھیل میں اِن ہوں یا آﺅٹ اُن کی شہرت ماند نہیں پڑتی۔ آفریدی آجکل شمالی امریکہ کی ایک فلاحی تنظیم ”اسلامک سرکل“ کی دعوت پر ریاست ٹیکساس کے شہر پورٹ آرتھر آئے، یہاں کے لوگ بھی ان کے پرستار نکلے۔ جب انہیں پتہ چلا تو شہر کی میئر ڈیلورس نے ان کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیا جس میں انہیں اعزازی طور پر ”پورٹ آرتھر“ کی چابی پیش کی اور اعلان کیا کہ ہر سال 5 فروری کو پورٹ آرتھر میں ”آفریدی ڈے“ کے طور پر منایا جائے گا۔ ایک طرف ہمارے ہیرو کی یہ عزت افزائی ہو رہی ہے اور دوسری طرف ہمارے ہاں دیکھ لیں ہمارے ایک ہیرو عمر اکمل کی ٹریفک وارڈن کے ہاتھوں جو ”عزت افزائی“ ہوئی وہ بھی سب نے دیکھی، شاید اسی ”لترول“ کے خوف سے گزشتہ روز ہمارے ایک اور سپر سٹار وسیم اکرم نے بھی تیز رفتاری پر ٹریفک وارڈن کے شکنجے میں پھنسنے کے بعد چھیڑ چھاڑ کرنے سے گریز کیا اور نہایت فرمانبرداری سے 500 روپے چالان پر جرمانہ ادا کردیا، ان کو تیز رفتاری سے گاڑی چلانے پر دھر لیا گیا تھا اور انہوں نے حوالات کی ہَوا کھانے کے عمر اکمل کے فارمولے سے اجتناب کر کے اچھا شہری ہونے کا ثبوت دیا۔ بہتر ہے کہ ہمارے باقی سب ہیرو بھی یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ دنیا بھر میں ملک سے باہر بے شک لوگ ہم پر جان چھڑکتے ہوں مگر ہم اپنے ملک میں، وہ باقی عوام کی طرح وردی والوں کے رحم و کرم پر ہی ہوتے ہیں۔ وہ جو چاہیں سلوک کریں ہم کچھ نہیں کرسکتے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭