جمعۃ المبارک 20؍جمادی الثانی 1436ھ ‘ 10؍ اپریل 2015ء

 جمعۃ المبارک 20؍جمادی الثانی 1436ھ ‘ 10؍ اپریل 2015ء

ریحام خان تحریک انصاف کی الیکشن مہم میں شرکت کیلئے کراچی پہنچ گئی۔ عمران پر پھول نچھاور کریں ۔ الطاف حسین 

یہ واقعی ایم کیو ایم کیلئے بڑا امتحان ہے کہ انکی حریف جماعت کا قائد اور انکی اہلیہ تک اپنے امیدوار کی حمایت میں منعقدہ جلسے اور جلوس میں شرکت کرنے کراچی آ گئے۔ مگر ایم کیو ایم کے قائد ہنوز لندن میں ہی براجمان ہیں۔ اب مقابلے کا اصل مزہ تو اس میں ہے کہ الطاف بھائی بھی تمام خودساختہ پابندیوں کے بندھنوں کو توڑ کر اپنے امیدوار کی انتخابی مہم میں شرکت کیلئے کراچی آ جائیں تو الیکشن کا مزہ دوبالا ہو جائیگا۔ بس ایک کمی رہ جائیگی کہ انکے ساتھ ریحام کی طرح اپنے شوہر کا ہر قدم پہ ساتھ دینے والی کوئی باعزم خاتون نہیں ہوں گی۔ اس معاملے تحریک انصاف والوں کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔ دیکھتے ہیں اس کا ووٹروں پر کتنا اثر ہوتا ہے۔ ریحام نے کھل کر سیاسی زندگی میں پہلا قدم رکھا تو رکھا بھی ہنگامہ خیز معرکہ میں یہ انکی بہادری کی دلیل ہے۔ فتح یا شکست مقدر کی بات ہے۔ مگر اس طرح مخالفوں کے کچھار میں اترنا دل گردے کی بات ہے۔
عمران خان خوش قسمت ہیں کہ انہیں بیوی ملی تو وہ بھی انہی کی طرح دلیر ہے۔ جس نے کھل کر کہا ہے کہ میں کسی ایسے شخص کی دعوت پر کراچی نہیں جا رہی جو خود ملک سے باہر ہو۔ اپنے بہن بھائیوں کے بلانے پر کراچی جا رہی ہوں۔ رہی بات الطاف کی پھول نچھاور کرنے کی تو اس پر ہمیں مارا جو تو نے پھول وہ پتھر سے کم نہیں والی بات یاد آ جاتی ہے۔ اب اگر الطاف بھائی ’’خان آوے گا میں پھلاں نال دھرتی سجاواں گی‘‘ کی پیشکش کر رہے ہیں اگر اس پر عمل بھی ہو جائے تو بگڑی بات بن بھی سکتی ہے۔
٭…٭…٭…٭
پاکستانی کرکٹروں کو بھی سٹیج ڈراموں کا چسکا لگ گیا۔ فن کاروں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔
خوشی ہوئی یہ بات پڑھ کر کہ کروڑوں لوگ جن کرکٹروں کے کھیل کی داد دیتے ہیں۔ انکے ہر ایکشن پر تالیاں بجاتے ہیں۔ وہ بھی صاحب دل ہیں فن اور فن کاروں کے قدر دان ہیں۔ مالی لحاظ سے بھی یہ سب دھن والے ہیں اس حساب سے اگر یہ کچھ پیسے سٹیج آرٹسٹوں کو دان کرتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ آخر یہ پیسہ ہوتا کس کام کیلئے۔ خرچ کرنا ہی اس کا اصل مصرف ہے۔ جب بے حساب کروڑوں کی آمدنی ہو تو اس میں چند لاکھ دل جوئی کیلئے ہنسی خوشی کیلئے خرچ کرنا اچھا لگتا ہے۔ اب یہ تو سٹیج فنکاروں کی خوش قسمتی ہے کہ ان کو ایسے نامور قدردان دستیاب ہیں جو وقت نکال کر یاروں دوستوں کے ساتھ ڈرامہ دیکھنے آتے ہیں۔ حالانکہ اب سٹیج ڈراموں میں بچا ہی کیا ہے۔ فحش گوئی اور بے ہودہ رقص اور مسخروں کی مدد سے لوگوں کا دل بہلانے کا نام اب سٹیج والوں نے ڈرامہ رکھ دیا ہے۔ یہ بذات خود بڑا ڈرامہ ہے اور ہمارے کھلاڑی یہی ڈرامہ دیکھنے یا دل پشوری کرنے وہاں جاتے ہیں۔
کھیلوں کی دنیا کے ستارے ہوں یا فلمی دنیا کے ستارے انکے درمیان خوشگوار تعلقات عرصہ دراز سے پاکستان اور ہندوستان کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں ہر جگہ مناسب جگہ پاتے رہے ہیں جس سے مفت میں ان دونوں کی پبلسٹی ہوتی ہے اور آج کل کے اشتہاری دور میں یہ کچھ برا یا مہنگا سودا بھی نہیں کہ تھوڑا پیسہ لگا کر زیادہ نام کمایا جائے۔ ویسے بھی لوگ درست کہتے ہیں۔ … ع
’’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا‘‘
٭…٭…٭…٭
بھارتی نژاد برطانوی انجینئر نے کیجریوال سے گاڑی واپس مانگ لی۔
لگتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر عام آدمی پارٹی کے ستارے گردش میں ہیں۔ عجیب بات ہے جب یہ جماعت اقتدار میں ہوتی ہے تو لوگ اس سے دور ہو جاتے ہیں اور جب سے حکومت یہ باہر ہو تو عوام اسکے قریب آ جاتے ہیں۔ اس حساب سے تو یہ ایک انوکھی جماعت ہے۔ جو ’’جھاڑو‘‘ ہاتھ میں لے کر انقلاب یا تبدیلی کا نعرہ لے کر نکلی، عام آدمی کی زندگی بدلنے کا عزم لے کر نکلی تھی۔ مگر یہ جھاڑو اس کی اپنی قسمت پر زیادہ پھرتا نظر آنے لگا ہے۔ دہلی سے کرپشن یا گندگی کم ہوئی یا نہیں کیجریوال کی اپنی پارٹی اور ذات پر اس جھاڑو کا اثر زیادہ ہوا ہے۔ پارٹی کے قائد کجریوال کو الیکشن کے دنوں میں مہم چلانے کیلئے جس انجینئر نے گاڑی تحفہ میں دی۔ اب وہ بھی لگتا ہے پارٹی سے یا کجریوال سے ناراض ہو گیا اور اس نے گاڑی واپس مانگ لی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ … ؎
زیست ہمسائے سے مانگا ہوا زیور تو نہیں
ایک دھڑکا سا لگا رہتا ہے کھو جانے کا
معلوم نہیںکیجریوال اب کیا کرتے ہیں۔ ویسے تو ملنے والی چیز واپس کرنے کا کلچر تو ہمارے سیاست دانوں میں بالکل نہیں ہے۔ بڑے بڑے عالم سے لے کر ان پڑھ جاہل تک جب اقتدار سے علیحدہ ہوتے ہیں تو سرکاری طور پر ملنے والی مراعات، گاڑی اور تو اور صوفے اور پردے، کراکری کا سامان تک اپنا حق سمجھ کر واپس نہیں کرتے۔ آج بھی ہمارے کئی سابق وزیر اور مشیر ایسے ہیں جو ابھی تک سرکاری مال غنیمت پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں اور کوئی انہیں پوچھنا والا نہیں۔
رہی بات تحفے تحائف کی تو اس کیلئے ہم ’’مال مفت دل بے رحم‘‘ والی مشہور کہاوت ہی دھرا سکتے ہیں۔ ویسے بھی دیا ہوا تحفہ واپس مانگنا بھی تو غلط اور شرم کی بات ہے۔ اس انجینئر سے تو ہماری حکومت لاکھ درجے بہتر ہے جو کم از کم دی ہوئی چیز تو واپس نہیں مانگتی ہے۔
٭…٭…٭…٭