اتوار ‘ 7 ؍ جمادی اوّل 1435ھ‘ 9؍ مارچ 2014ء

اتوار ‘ 7 ؍ جمادی اوّل 1435ھ‘  9؍  مارچ 2014ء

دنیا میں سالانہ ایک لاکھ 15 ہزار افراد جسمانی اعضا عطیہ کرتے ہیں !
انسانی زندگی کا مقصد ہی دوسروں کے کام آنا ہے اور جو لوگ مرنے کے بعد بھی دوسرے کے کام آئیں ان کی تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ مرنے کے بعد ہمارا دل، جگر، آنکھیں، گردے سب مٹی ہو جاتے ہیں اگر ہمارے ’’سپیئر پارٹس‘‘ کچھ اور لوگوں کیلئے زندگی کی نوید بن جائیں تو اس سے ہمارا کیا جاتا ہے اس کے باوجود یہ بات طے ہے کہ جو لوگ اپنے اعضا عطیہ کرتے ہیں وہ بڑے دل گردے کے مالک ہوتے ہیں ورنہ کئی لوگ تو اپنا بخار بھی کسی کو دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ کراچی کے ایک جوڑے کے بارے پڑھا تھا اخبارات میں کہ بیوی نے اپنے بصارت سے محروم شوہر کو اپنی ایک آنکھ عطیہ کر دی۔ وہ بھی زندگی میں، اس طرح دونوں کی دنیا اور زندگی روشن ہو گئی۔ کبھی کبھار سُننے میں آتا ہے کہ ماں یا بہن نے اپنا گردہ بیٹے یا بھائی کو عطیہ کر دیا کیونکہ انسان ایک گردے پر بھی زندہ اور صحت مند رہ سکتا ہے۔ یہ محبت اور قربانی کی زندہ مثالیں ہیں۔ کیا یہ ایک اچھی بات نہیں کہ ہمارے بعد بھی کوئی ہماری نگاہوں سے اس دنیا کو دیکھتا رہے، اس کی رنگا رنگی اور گہما گہمی کو محسوس کرتا رہے، گویا ہم نہ ہو کر بھی موجود ہوتے ہیں۔ کسی حساس سینے میں ہمارا دل دھڑکتا ہے، ہر خوشی اور غم کو محسوس کرتا ہے۔ یوں دردِ دل ہو یا دردِ جگر، آنکھوں سے بہتے غم کے آنسو ہوں یا خوشی کے آنسو یہ سب ہماری وجہ سے اگر کسی کو زندگی کی رونقیں اور توانائیاں فراہم کریں تو یہ بھی کارِ خیر ہے۔ ہمیں اس بارے میں بھی غور کرنا چاہئے کیونکہ اس کام میں ہم ابھی بہت پیچھے ہیں اور کچھ نہیں تو کم از کم آنکھیں تو عطیہ کر سکتے ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
نریندر مودی مسلمانوں سے مخلص ہے تو بابری مسجد دوبارہ تعمیر کرائیں : راہول گاندھی !
سونیا گاندھی کے ہونہار سپوت کے اس سیاسی بیان پر تو سر دُھننے اور ان کی اس سادگی پر قربان ہو جانے کو جی چاہتا ہے۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ حضور اگر یہ کام اتنا ہی اچھا ہے آپ اور آپ کی کانگرس بھارتی مسلمانوںکی اتنی ہی خیر خواہ ہے تو پھر آپ یہ ’’شُبھ‘‘ کام خود انجام دینے کا اعلان کیوں نہیں کر دیتے۔ اگر آپ واقعی یہ اعلان کر کے مسلمانوں کا دل جیت لیں تو پورے ہندوستان کے مسلمان آپ کو ووٹ بھی دیں گے اور نوٹ بھی اور ہر طرف آپ کی جے جے کار ہو گی۔ مگر آپ بھی جانتے ہیں کانگریس بھی جانتی ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں پورے بھارت کے ہندو ووٹر اس پر ناراض ہو کر الیکشن میں آپ کی اور کانگریس کی ’’بَلی‘‘ چڑھا دیں گے کیونکہ یہاں رام مندر کا شوشہ اتنا اُچھالا گیا ہے کہ اب نہ اسے بھارتی سیاستدان اُگل سکتے ہیں نہ نگل سکتے ہیں۔ اس لئے الیکشن کے موقع پر ایسے سیاسی بیانات دے کر صرف مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے سے کچھ نہیں ہو گا، ہاں البتہ کانگریس ان باقی مساجد کو بچانے کی کوئی سبیل پیدا کرے جن کو گرانے کی بی جے پی نے منصوبہ بندی کر رکھی ہے ورنہ ’’پس مرگ واویلا‘‘ سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
نوشہرہ ورکاں میں صفائی نہ رکھنے پر ہیڈ مسٹریس نے 30 طالبات کے بال کاٹ دئیے ! اور پھر بال بیچ کر گرما گرم چنے کھائے۔
یہ صفائی کا انوکھا اور نرالا انداز واقعی لاجواب ہے ’’نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری‘‘ کا فارمولا تو اس ہیڈ مسٹریس سے ہی سیکھنا چاہئے جس کے اس اقدامِ قاہرانہ پر ہمیں ایک مشہور ڈٹرجنٹ پاؤڈر کا اشتہاری جگلر یاد آ رہا ہے جو کچھ اس طرح ہے … ؎
میری پڑوسن دیکھ کے حیران رہ گئی
مجھ سے پوچھنے لگی یہ بتائو تو سہی
ایسی عمدہ دھلائی تمہیں کس نے سکھائی
میں نے کہا ہنس کے یہ تو چیز ہے ایسی
اب یہ جگلر پڑھ کر ہم اس ہیڈ مسٹریس سے یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ جناب عالیہ ایسی کڑی سزا دینے سے بہتر تھا کہ آپ ان تمام بچوں کی جوئیں جمع کر کے انہیں سعودی عرب سپلائی کر دیتی کیونکہ وہاں اس کے بہت خریدار ہیں وہاں کی خواتین جوئوں کی افزائش میں دلچسپی لیتی ہیں اور شوق سے بڑے سٹورز سے جوئیں خرید کر اپنے سروں میں ڈلواتی ہیں یوں جو رقم ان جوئوں کی فروخت سے حاصل ہوتی وہ اس رقم سے ان بچیوں کو نہلانے دُھلانے اور صاف رکھنے کا انتظام کر دیتیں۔ اس طرح غریب والدین کا بھی بھلا ہو جاتا۔ اب اس طرح بچیوں کے بال کاٹنا تو قانوناً اور اخلاقاً درست نہیں۔ شکر ہے کہ جذباتی مائوں نے ہیڈ مسٹریس کو نوچ نوچ کر بالوں سے محروم نہیں کر دیا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
ناک سے تیز رفتار ٹائپ کرنے والے نوجوان کا نام گینز بک میں درج !
اگر ناک سے لکیریں نکالنے کا مقابلہ ہو تو اس میں شاید ہمارے ہاں کے سینکڑوں لوگوں کے نام گینز بُک میں درج ہو سکتے ہیں مگر ٹائپ کرنے کا یہ مقابلہ بھارتی شہری خورشید نے جیت کر ثابت کر دیا ہے کہ ناک صرف کٹنے کیلئے یا لکیریں لگانے کیلئے ہی نہیں ہوتی اس سے بہت سے اچھے کام بھی لئے جا سکتے ہیں اور اپنی ناک اونچی بھی رکھی جا سکتی ہے ورنہ ہمارے ہاں تو جنہیں ناک پونچھنا بھی نہیں آتی وہ بھی اپنا بڑاپن ثابت کرنے کیلئے ناک اونچی رکھنے کیلئے نمود نمائش رکھنے کی بیماری کا شکار ہیں اور اس کے باعث دوسرے لوگ بھی طرح طرح کی پریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ حکومت اپنی ناک اونچی رکھنے کیلئے جھوٹے دعوے کرتی ہے اور پھر ناک کٹنے سے بچانے کیلئے ان سے معافی کی صورت تلاش کرتی پھرتی ہے۔ عوام مہنگائی اور بیروزگاری، لوڈشیڈنگ اور بلوں کو دیکھ کر ناک سے لیکریں نکالتے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ ہماری انہی پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر آئے روز ہماری ناک کٹتی ہے اور ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ ہم کوئی موم کی ناک تھوڑی ہیں جسے جو جہاں مروڑ دے۔ ہماری بھی کوئی ناک ہے اور یہ ہماری مرضی ہے کہ ہم اپنی ناک اونچی رکھنے کیلئے جو چاہے کرتے پھریں کہتے پھریں، کسی کی کیا مجال جو ہماری ناک کا بال بھی بانکا کر سکے۔