بدھ ‘10 ؍ رمضان المبارک‘ 1435ھ ‘ 9؍ جولائی 2014ء

بدھ ‘10 ؍ رمضان المبارک‘ 1435ھ ‘ 9؍ جولائی 2014ء

ڈی جی ہیلتھ آفس ڈینگی مچھروں کی آماجگاہ بن گیا۔ اسے کہتے ہیں چراغ تلے اندھیرا جس محکمے کا نام اور کام صحت کی حفاظت ہے۔ اسی کے زیر سایہ صحت کے دشمن عوام کی جان سے کھیلنے والے ان ڈینگی مچھروں کی نرسریاں کھلی ہوئی ہیں اور وہ اطمینان سے اپنے سیزن کیلئے افزائش نسل کے پروگرام میں مصروف ہیں تاکہ مہنگائی کے ہاتھوں آدھ موئے لوگوں کا خون پی پی کر ناجائز منافع خوروں کی طرح صحت مند نظر آئیں۔ یوں تو محکمہ صحت سارے شہر میں پانی کھڑا نہ ہونے کی مہم چلاتا ہے جو عملاً نظر کم آتی ہے۔ البتہ اشتہارات میں بھرپور ہوتی ہے تاکہ حکومت خوش ہو کہ کام ہو رہا ہے اور یوں محکمے کی آمدنی کا بڑا حصہ اس کام کی نذر ہو جاتا ہے۔ اگر محکمہ صحت والے اپنے صحت مند کام چور ورکروں کی فوج ظفر فوج کو باہر نکالے جو سارا دن اپنے دفاتر میں بیٹھے بیٹے سانڈ بن چکے ہیں اور گپیں ہانکتے رہتے ہیں تو شاید کم سے کم اخراجات میں سٹوروں میں پڑی ادویات خوردبرد کرنے کی بجائے استعمال کرکے عوام کو ڈینگی سے بچا سکتے ہیں۔ شہروں اور دیہات میں کھڑے پانی کو ختم کرنے کے کام کی رفتار بھی تیز ہو جائیگی اور ساون بھادوں میں مچھروں کی یلغار بھی کنٹرول ہو گی مگر یونین سازی کے مارے ان سیاسی سفارش اور رشوت پر بھرتی ہونیوالے ’’مفت بروں‘‘ کو کون جگائے جو یونین عہدیداروں کی سفارش لگا کر پھر سو جاتے ہیں کیونکہ انکی سرشت میں ہلنا جلنا شامل نہیں۔ یہ لوگ ’’کام جوان کی موت ہے‘‘ کے زریں اصول کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور سرکاری تنخواہیں مفت میں وصول کرتے ہیں۔ انہوں نے حرام خوری کو حرز جاں بنا رکھا ہے۔ گزشتہ سال کی طرح اس وقت بھی مون سون شروع ہونیوالا ہے۔ ڈینگی کیخلاف عام سپرے اور فوگ سپرے لاہور میں تو کہیں بھی ہوتے نظر نہیں آیا۔ شاید ایم پی اے اور ایم این اے حضرات کے گھروں اور علاقوں میں ہوا ہو۔ اس کا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ بوگس چیکوں کی طرح بوگس کارروائیاں ڈالنے میں بھی ہمارے سرکاری محکمے ماہر ہیں۔  اور رہے بے چارے حکمران تو ان کو وہی کچھ نظر آتا ہے جو یہ سیکرٹری اور ڈی جی انہیں دکھاتے ہیں۔ وہ خود تو آنکھیں اور کان کھولنے سے بھی قاصر ہو چکے ہیں۔ عوام کے دکھ اور مسائل ان سے دیکھے اور سنے نہیں جاتے۔
٭…٭…٭…٭
ایچی سن کالج میں کوٹہ سسٹم ختم تحریری امتحان میں کامیاب امیدواروں کو داخلہ ملے گا۔ اب دیکھنا ہے کہ ہر کام میں اپنا حصہ رکھ کر عیش کرنیوالے یہ مراعات یافتہ طبقے اس پابندی کو کتنا عرصہ برداشت کرتے ہیں کیونکہ اپنے مفادات پر ضرب ان سے برداشت نہیں ہوتی۔ انکے نالائق بچے بھی اس طرح کوٹہ سسٹم کی آڑ میں اعلی تعلیمی اداروں سمیت ہر محکمے میں زبردستی داخل ہو کر میرٹ کا جو قتل عام کرتے ہیں وہ آج ہم سب کے سامنے ہے۔ عام پاکستانی کا ذہین سے ذہین بچہ بھی ایسے اعلی تعلیمی اداروں کے قریب نہیں پھٹک سکتا مگر لینڈ کروز، پراڈو اور مرسیڈیز میں سفر کرنیوالے کند ذہن نالائق بچے بھی یہاں کوٹے کی مہربانی سے داخل ہو جاتے ہیں اور بعد میں روایتی بھیڑ چال کی وجہ سے انہی بچوں کو آگے اعلی ملازمتوں کیلئے باپ دادا کی سفارش پر یا سفارشی کوٹہ پر منتخب کیا جاتا ہے اور یوں یہی نااہل سفارشی مخصوص ذہنیت رکھنے والے لوگ جن کو عوام یا عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہوتا عوام پر حکومت کرنے لگتے ہیں۔ انکی ساری توجہ اپنی ذات اور اپنے جیسے ایلیٹ کلاس کے لوگوں کی طرف ہوتی ہے۔ جن کا کام عوام کے پیسے پر عیاشیاں کرنا ہوتا ہے اور ملکی خزانے کو یہ شیر مادر سمجھ کر بے دردی سے لوٹ کر اپنے بیرون ملک اکائونٹ بھرتے ہیں۔ چنانچہ سیاست ہو یا بیورو کریسی ہر جگہ انہی کا راج قائم رہتا ہے۔ یہ لوگ عوام کی سوچ کو صرف روٹی پانی تک محدود کر چکے ہیں تاکہ کسی کا ہاتھ اور سوچ ان کے گریبانوں تک نہ پہنچ سکے۔ اگر حکومت ایچی سن کالج کی طرح تمام محکموں اور اداروں میں بھی میرٹ پالیسی کو لاگو کرے اور اس قانون پر عمل کرے تو کوٹہ سسٹم کے نام پر پرورش پانے والے ان موذی عوام دشمن اور ملک دشمن کیڑوں مکوڑوں سے بھی جلد نجات کی راہ مل سکتی ہے۔
٭…٭…٭…٭
موصل و دیگر شہروں میں داعش کے شدت پسندوں کی مذہبی تاریخی عمارات مسمار کردیں۔ موصل پر قبضہ کئے چند روز بھی نہیں ہوئے تھے کہ ’’داعش‘‘ کے شدت پسندوں نے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ وہی شام میں شدت پسندوں والے کام شروع کر دیئے۔ مساجد، مقابر اور امام بارگاہوں کی ایسی تباہی تو عراق میں غیر ملکی حملے میں بھی نہیں ہوئی ہو گی جو ہمارے ان شدت پسندوں بھائیوں کے ہاتھوں ہو رہی ہے۔ تاریخی مقامات مذہبی عبادت گاہیں گرانے تباہ کرنے میں جانے انہیں کون سا نیک کام یا کارنامہ نظر آ رہا ہے۔ ایسی سخت گیر پالیسیوں اور ایک دوسرے کو قابل گردن زدنی قرار دینے کی وجہ سے ہی ہمارے یہ شدت پسند انقلاب لانے میں کامیاب نہیں ہوئے البتہ اپنے عالیشان بھرے ہوئے تاریخی شہروں کو کھنڈر ضرور بنا دیتے ہیں۔ اس طرح دوسرے مسالک کے مسلمانوں کے دلوں میں نفرت و بغاوت پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ دونوں ایک وقت آتا ہے کہ آپس میں برسرپیکار ہوتے ہیں۔ یوں انقلاب دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے اور بلیوں کی لڑائی میں سارا پنیر بندر کھا جاتا ہے۔
افغانستان میں بھی طالبان کے دور میں جبر کی پالیسی اپنائی گئی اس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ افغانستان میں شمالی اتحاد کے زیر کنٹرول علاقوں میں عملاً طالبان کی رٹ نہ ہونے کے برابر تھی وہ خم ٹھونک کر انکے مقابلے میں اتر آئے اور خانہ جنگی کی نوبت آ گئی اور یہ کہانی بھی دو بلیوں میں بندر کے انصاف جیسے انجام سے دوچار ہوئی۔ اب عراق میں مولانا بغدادی نے اپنی امارت قائم کرکے وہاں جو اقدامات شروع کئے ہیں ان سے ہمیں ان کا خاتمہ بالخیر زیادہ دور نظر نہیں آ رہا اور یہاں بھی وہی دو بلیوں اور بندر والی کہانی کا انجام نظر آ رہا ہے۔ ایک بات سمجھ نہیں آ رہی کہ اب افغان امیرالمومنین نے عراقی امیرالمومنین کے ہاتھ پر بیعت کی ہے یا عراقی نے افغانی کے ہاتھ پر بیعت کی ہے کیونکہ ایک وقت میں دو امیر اور ایک نیام میں دو تلواریں نہیں ہو سکتیں۔