بدھ ‘ 26 صفر المظفر 1434ھ ‘9 جنوری2013 ئ

بدھ ‘ 26 صفر المظفر 1434ھ ‘9 جنوری2013 ئ


 پاکستانی ٹیم مین آف دی سیریزکی ٹرافی بھارت بھول آئی۔ شکر کریں کہ ٹیم صحیح سلامت واپس لوٹ آئی اور صرف ٹرافی بھولی ورنہ بقول شاعر....
 الٰہی ایک دل کس کس کو دوں میں
 ہزاروں بت ہیں ،یہ ہندوستان ہے
 پاکستانیوں کیلئے بھارت کے اندر بھارت سے جیت کا نشہ اور خوشی میں ایسی ہوتی ہے کہ پوری قوم خوشی سے پھولے نہیں سماتی۔خاص طورپر کرکٹ کا میدان تو رزم گاہ حق و باطل کا نظارہ پیش کرتا ہے۔کروڑوں دل میچ کے ہرلمحہ میں دھڑکتے اور بند ہوتے ہیںیہی وجہ ہے کہ ایک بے چارہ کشمیری تیسرے میچ میں پاکستانی ٹیم کی شکست پر صدمے سے جان گنوا بیٹھا جسے ہم شہید کرکٹ بھی کہہ سکتے ہیںاس میچ میں بھی جیت یقینی نظر آرہی تھی۔انگلینڈ کے سابق وکٹ کیپر پال نکسن نے بھی انٹر نیٹ پر لکھا ہے کہ پاکستانیوں نے جان بوجھ کر آخری میچ ہارا خاص طورپر آخری اوورز میں جس طرح وکٹیں گریں اسے دیکھ کر لگتا بھی کچھ ایسا ہی ہے....
 کئی جواب تھے تیرے سوال کے لیکن
میں چاہتا ہی نہ تھا لا جواب کرنا تجھے
 ہماری ٹیم نے بھارتی ٹیم کو بھارت میں شرمندگی سے بچانے کیلئے اسے آخری میچ میں جیت کا تحفہ دیا۔اب دیکھیں بھارتی سرزمین پر بھارتی ٹیم کیخلاف کلین سویپ کا موقع پھر ہمیں کب ہاتھ آتا ہے امید پر دنیا قائم ہے۔ جبکہ ظالم بھارت نے تو ہمارے پیار بھرے تحفے کی بھی قدر نہیں کی اور پاکستان کے ساتھ مزید کھیلنے سے انکار کردیا....ع
حیف در صحبت یاراں کہ قرارآخر شد
٭....٭....٭....٭....٭
پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرنےوالے والدین کے پاس معذور افراد کو بھیجا جانے کا فیصلہ۔
پولیو سے معذور ہونیوالے بچوں کو دیکھ کر رونا آتا ہے۔ وہ ایسے والدین کے پاس جائیں جو اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے بھاگتے ہیں، ان بیوقوف والدین کے سارے تحفظات سنی سنائی باتوں پر ہیں۔آج تک پولیو کیمپین کے خلاف جتنی بھی باتیں ہوئی ہیں یا ہورہی ہیں وہ سب کی سب سنی سنائی ہیں، ان میں حقیقت نہیں۔ حکومت بھی ذرا عوام کے ذہنوں کو سکون دینے اور تسلی پہنچانے اشتہاری کیمپین چلائی جائے اور عوام بھی اپنی بے خبری ختم کرنے کیلئے با اعتماد sources سے پولیو اور پولیو ڈراپس کی تاریخ کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ وہ خود کو ہی جہالت میں دھکیل رہے ہیں۔خیبر پی کے اور دیگر اضلاع میں یہ خاص طورپر ضروری ہے تاکہ آنیوالی نسل معذور ہونے سے بچ جائے ،ہم پر الزام تو بہت ہیں، ویسے ایک کم ہوگیا تو عزت میں اضافہ ہوگا۔ عوام اس پر بھی تو ذرا غور کریں اور ہر صاحب عقل پولیو قطروں کو پلانے کی مہم کا ساتھ دے۔
٭....٭....٭....٭....٭
سردی کا 50 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، شدید دھند، نظام زندگی مفلوج۔
سردی کے ساتھ ساتھ مہنگائی کا بھی ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ نان 10 روپے اور روٹی 8 روپے کی مل رہی ہے۔ انڈوں کو ہاتھ لگانے سے تو کرنٹ لگتا ہے۔ غریب آدمی اب انڈوں کے صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔ لنڈا بازار میں بھی آگ لگی ہوئی ہے۔ سویٹر اور جرسی کو ہاتھ لگائیں تو لڑنے کو پڑتی ہے۔ بس غریب آدمی تو غشی کے دورے کھانے لگتا ہے۔ حکومت کو اب چاہئے کہ فوم کے صوفے، پلاسٹک کی شیٹوں پر کچھ ریلیف دیکر غریب عوام کیلئے ان تک رسائی آسان بنائے۔ انسان صبح مسور کی دال جیسا منہ بنا کر اٹھتا ہے، بس پھر مت پوچھیں سارا دن سردی میں ٹھٹھر کر ہی شام ہوتی ہے۔ کاروباری حضرات ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، شدید دھند میں خریدار تو باہر آنے کا نام ہی نہیں لیتے، لیکن ان دنوں ٹال والوں کی خوب چاندی ہوئی ہے۔ شاہ نور میں خان بابا کے ٹال پر کوئلے اور لکڑی لینے والوں کی قطاریں اس قدر لمبی ہیں کہ گمان گزرتا ہے شاید عوام شاپروں میں سی این جی گیس حاصل کرنے کھڑے ہیں۔ گزشتہ روز تو خان بابا کے ہاتھوں کو دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی بھٹے پر کوئلے کا کام کرتا ہو۔ نئی نسل کیلئے ایک عجیب سی چیز سامنے آئی ہے۔ لوڈشیڈنگ کے باعث 19 ویں صدی کی کوئلوں والی استری 21 ویں صدی میں پھر لوٹ آئی ہے۔ جناب ابھی تو بہت کچھ واپس آئیگا، سی این جی کی لوڈشیڈنگ اور پٹرول کی قیمتوں کے باعث گدھا گاڑیوں پر بھی سفر کرنا پڑے گا۔
٭....٭....٭....٭....٭
 وزیراعلیٰ کے نغمے پر پنڈال جھوم اٹھا۔ محسوس ہوتا ہے کہ شہباز شریف آج کل کچھ زیادہ ہی سُر یلے ہوگئے ہیں کہیں انہوں نے تان سین کے قبر پہ لگے درخت کے پتے تو نہیں کھا لئے۔ کہتے ہیں ان کے کھانے سے گلے میں نکھار آجاتا ہے بندہ سُریلا ہوجاتا ہے۔لا کالج کے فنکشن میں جب قانون کے طلبہ اور ماہرین بھی جب انکے نغمہ سرا ہونے پر جھوم اٹھے....
اس غیرت ناہید کی ہر تان سے دیپک
شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو
ہمیں تو ڈر تھا کہ ملکہ ترنم نور جہاں اور شہنشاہ غزل مہدی حسن کے چلے جانے سے موسیقی کی دنیا سونی ہوجائیگی ۔نصیبو لعل اور نوراں لعل اس اجڑی بستی میں بُوم اور شوم کی طرح رُولا ڈالتی رہیں گی مگر شکر خداوندی ہے کہ ہمیں شہباز شریف کی شکل میں ایک خوش گلو بھی دستیاب ہے جس نے موسیقی کی اجڑی بستی پھر بسا ڈال دی۔
٭....٭....٭....٭....٭