جمعۃ المبارک‘ 18؍ رجب المرجب 1436ھ ‘ 8؍ مئی 2015ء

جمعۃ المبارک‘ 18؍ رجب المرجب  1436ھ ‘  8؍ مئی 2015ء

دبنگ خان 5 سال قید کی  سزا کا فیصلہ سن کر رو پڑے۔
حماقتوں اور غلطیوں کی سزا تو بھگتنا ہی پڑتی ہے۔ اب صلو بھائی اور ان کے چاہنے والے روئیں یا چلائیں بقول شاعر…؎
ٹانگہ آ گیا کچہریوں خالی
تے سجناں  نوں قید بول گئی
بھارت میں ان کے کروڑوں اور کم از کم اتنے ہی پاکستانی پرستار بھی افسردہ ہوگئے ہوں گے۔ صف ماتم تو بالی وڈ میں بھی بچھ گئی ہے 7 ارب روپے ان کی فلموں پر لگے ہیں وہ شوٹنگ نہ ہوئی تو ڈوب گئے۔ یوں ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘ والی بات سچ ثابت ہو رہی ہے۔
اگر سلمان خان اس حادثے کے فوراً بعد متاثرہ لوگوں کے پاس چلے جاتے ان سے معذرت کرتے معافی مانگتے تو انہیں آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ غریب لوگوں کے دل تو ویسے ہی بڑے ہوتے ہیں اور یہ مزدور مرحوم نور اللہ شیخ اور دیگر تو ویسے بھی مسلمان ہونے کے ناطے روپے پیسے سے ہٹ کر فی سبیل اللہ ہی معاف کر دیتے مگر صلو بھائی کے شاید مغروری آڑے آئی اور اب اس کے نتیجے میں انہیں قید اور جیل کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔ ادھر دہلی جیل کا عملہ خوشیاں منا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے اب سلمان کے آنے سے یہاں رونق میلہ لگا رہے گا۔ اب دیکھنا ہے ہائی کورٹ ان کی ضمانت کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔ ہائی کورٹ سلمان کے اچھے اور فلاحی کاموں کو بھی مدنظر رکھ کر نرم فیصلہ بھی دے سکتی ہے۔ ایک طرف تو قانون اور انصاف کا یہ حال ہے کہ سلمان خان جیسا سپر سٹار اس کی گرفت سے نہیں بچ پاتا، دوسری طرف ہمارے ہاں ایک عام ماڈل گرل نے پورے نظام انصاف اور قانون کو انگلیوں پر نچا رکھا ہے۔ پولیس سے لے کر عدالتوں تک کسی میں اس کا سامنا کرنے کی تاب نہیں، جزا اور سزا دونوں اس کے اشارے پر حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔ ہے کوئی ہے جو اس کو بھی اس کے جرم کی سزا دلوا سکے۔ اس سوال کا جواب ہمارے قانون اور انصاف کے رکھوالوں پر قرض ہے۔
…٭…٭…٭…٭…
وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس میں 3 مرتبہ بجلی بند ہوئی۔
یہ ہے  21 وی صدی کے روشن پاکستان کا وہ تاریک رخ جس پر پوری قوم شرمندہ شرمندہ نظر آتی ہے مگر ہمارے حکمران شاید شرم پروف ہونے کی وجہ سے زیادہ ٹینشن نہیں لیتے اور ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں۔ یہ کمال ظرف ہے یا زوال ظرف اس بارے میں ’’ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی‘‘ کہاں گئے وہ ترقیاتی منصوبے جن کا افتتاح کرتے وقت دن بدلنے کے دل فریب دعوے کئے گئے تھے ۔ 2برسوں میں ان میں سے ایک بھی عوام کی حالت بدلنے کے لئے مکمل نہیں ہو سکا۔ جو مکمل ہوا تو اس کا حال نندی پور بجلی گھر کی شکل میں بے حال سا ہے۔ غریبوں کے گھروں میں آج بھی 12 سے 18 گھنٹے بجلی نظر نہیں آتی۔ بلب اور پنکھے حکمرانوں اور نوابوں کی طرح منہ بنائے بلکہ چڑھائے نظر آتے ہیں۔ کنالوں، ایکٹروں میں رہنے والوں کی بات نہیں کی جا سکتی یہ تو خواص ہوتے ہیں۔ چند فیصد لوگ جنہیں بجلی نہ بھی آئے دیگر ذرائع سے بجلی دستیاب ہوتی ہے حکمران بھی انہی میں شامل ہیں اس لئے انہیں تو پتہ ہی نہیں چلتا ہو گا کہ پاکستان میں بجلی وہ بھی موسم گرما میں کتنی بار جاتی ہے اور اس سے کتنی اذیت اٹھانا پڑتی ہے آفرین ہے وزیر اطلاعات و نشریات اور قومی منصوبہ بندی پر  کے انہوں نے 3 مرتبہ یہ کڑوا گھونٹ تو پی لیا مگر اپنی پریس کانفرنس ادھوری نہیں چھوڑی۔ کوئی اور جمہوری ملک ہوتا تو شاید یہ وزراء پریس کانفرنس ہی نہیں‘ ناقص حکومتی کارکردگی پر وزارت بھی چھوڑ کر بھاگ چکے ہوتے مگر ہمارے ہاں ایسی کوئی بدعت رواج نہیں پاتی اور ہم بقول غالب…؎
کتنے شریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا
جیسی باتوں کے عادی ہو چکے ہیں۔
…٭…٭…٭…٭…
چنا 30، دال چنا 20 اور چینی ایک روپے کلو مہنگی ہو گئی۔
ابھی حکومت کی طرف سے عوام کیلئے رمضان پیکیج کے اعلان کی خبروں کی سیاہی بھی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ تاجروں، دکانداروں اور ناجائز منافع خوروں نے اپنی من مانی دکھا دی اور سارے پیکیج کا نشہ ہرن کر دیا۔ ابھی رمضان بہت دور ہے مگر عوام کی کھال اتارنے کے تمام تر انتظامات مکمل ہو چکے ہیں اور رمضان میں استعمال ہونے والی اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں ریہرسل کے طور پر ابھی رجب کے ماہ سے ہی اضافہ شروع کر دیا گیا ہے تاکہ جس نے جتنا شور مچانا ہے مچا لے۔ عوام کی سنتا ہی کون ہے، اس لئے آہستہ آہستہ رمضان تک لوگ قیمتوں میں وقفے وقفے سے ہونے والے اضافوں کے عادی ہو جائیں گے اور پھر تاجروں، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کیلئے رمضان المبارک اور روزہ رکھنے عبادت کرنے والے لوگوں کیلئے رمضان شریف بن کر نازل ہو گا جو ثواب میں اضافے کی امید پر کڑے سے کڑے حالات میں بھی سحر اور افطار کے وقت دسترخوان پر شربت، پکوڑے، سموسے اور پراٹھے کے بنا روزہ رکھنے اور کھولنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اگرچہ اب یہ سب کچھ خواب خیال ہو چکے ہیں۔ نجانے کیوں یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ایسی ثقیل و مرغن غذائوں سے روزے کا ثواب کم اور جسمانی نقصان زیادہ ہو سکتا ہے مگر انہیں اپنی صحت کی فکر نہیں، یہ تو آفرین ہے ان ناجائز منافع خوروں پر جو عوام کی صحت کا اتنا خیال رکھتے ہیں اور ان اشیاء کی قیمتیں چڑھا دیتے ہیں ورنہ اگر یہ ارزاں اور عام آدمی کی دسترس میں رہیں تو سوچئے روزہ داروں اور ان کے دسترخوانوں کا کیا حال ہو گا اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ بسیار خوری کی وجہ سے ہسپتال اور نجی کلینک روزہ داروں سے بھر جائیں گے! اور روزہ رکھنے والے خال خال ہی نظر آئیں گے۔