اتوار ‘ 16؍ جمادی الاوّل 1436ھ ‘ 8؍ مارچ 2015ء

 اتوار ‘ 16؍ جمادی الاوّل 1436ھ ‘ 8؍ مارچ 2015ء

کلثوم پروین نے 3 مختلف جماعتوں کی ٹکٹ پر سنیٹر منتخب ہونے کی ہیٹ ٹرک مکمل کر لی۔ 

یہ ہے یوم خواتین کی اصلی نے وڈی خوشخبری۔ اب خواتین اس سے زیادہ اور کیا برابر چاہتی ہیں۔
یہ اعزاز اب شاید ہی کوئی خاتون توڑ سکے کیونکہ اتنی پارٹیاں بدلنا نہایت جان جوکھم کا کام ہے اور لوگ بھی نابینا نہیں آج کل تو ذرا سی بات پر شور مچا دیتے ہیں مگر ہم مزید کلثوم پروین کو متحرک سیاسی زندگی بسر کرنے پر داد دیتے ہیں کہ انہوں نے اتنی مختلف الخیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ نبھایا کیسے۔ پہلے ق لیگ کے ٹکٹ پر پھر بلوچستان نیشنل پارٹی اور اب مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر وہ سینٹ یعنی ایوان بالا میں تیسری مرتبہ قدم رنجہ فرمائیں گی۔ ان کی اس سیاسی صحرا نوردی پر تو بڑے بڑے جغادری سیاست دان بھی انگشت بدنداں ہوں گے۔ اگرچہ ہمارے ہاں کئی مرد سیاست دان بھی پارٹیاں بدلنے کے فن میں طاق ہیں۔ اب انہیں پتہ چلا ہو گا کہ اس کام میں اب ان کا کوئی حریف بھی صنف نازک میں سے میدان میں آ گیا، اس طرح تو محترمہ پروین تو ایوان بالا میں برملا کہہ سکیں گی۔ … ؎
یہ محفل جو آج سجی ہے اس محفل میں
ہے کوئی ہم سا، ہم سا ہو تو سامنے آئے
اور امید ہے کہ کوئی بھی ان سا نہیں ہو گا۔ یہ تو سینٹ کی خوش قسمتی ہے کہ وہاں ایسی ریکارڈ ہولڈر خواتین بھی ملک و قوم کی رہنمائی کیلئے دستیاب ہیں۔
٭…٭…٭…٭
خصوصی عدالت سے سزا سنتے ہی اغوا برائے تاوان کے 2 مجرم فرار۔ ایک طرف حکومت خطرناک مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ دوسری طرف ہماری پولیس یعنی محافظ شیر جوانوں کی یہ حالت ہے کہ مجرم ان کی قید سے ایسے اڑ جاتے ہیں جیسے محاورہ کی زبان میں طوطے ہاتھ سے اڑ جاتے ہیں۔
اب کوئی ان مٹی کے مادھوئوں سے پوچھے کہ خصوصی عدالت سے سزا سنتے ہی کیا یہ دونوں مجرم ہوا میں تحلیل ہو گئے یا نمک کی طرح پانی میں گھل گئے یا ان کے ہاتھوں میں لگی ہتھکڑیاں کسی جادو کے زور پر خودبخود کھل گئیں۔ یہ عجب رٹا رٹایا جملہ ہے کہ مجرم پولیس کی حراست سے فرار۔ اب اس جملے پر کوئی اعتبار نہیں کرتا۔ ویسے ہی جیسے پولیس مقابلے میں کوئی بھی شخص حقیقی پولیس مقابلہ ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔
عدالتوں، کچہریوں اور تھانوں سے مجرم یا ملزم کا فرار عملے کی باہمی رضامندی کے بنا ممکن نہیں۔ اب مجرموں کو تو مزے سے چھوٹ مل گئی۔ سزا بھگتیں ان کے دشمن۔ گلگت جیل سے فرار ہونے والے بڑے مجرم کب پکڑے گئے ہیں کہ یہ اغوا برائے تاوان کے چھوٹے مجرم پکڑے جائیں گے۔ یہ بدبخت تو اپنے محفوظ ٹھکانوں پر پہنچ کر اپنے مربیوں کے ساتھ جشن رہائی منا رہے ہوں گے جن کے تعاون سے یہ کام خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچا۔
خیبرپی کے میں بغاوت مسلم لیگ ن کی وجہ سے ناکام ہوئی۔ عمران نوازشریف کا شکریہ ادا کریں:۔ پرویزرشید
اب اگر کوئی اچھا کام سیاسی میدان میں کسی بھی طرف سے ہو ہی گیا ہے تو اس پر مٹی ڈالنے کا ہنر تو کوئی ہمارے بزرگ وزیر اطلاعات سے کوئی سیکھے۔ ابھی ان کے چہرے سے سینٹ میں کامیابی کی مسرت دور نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے دوسروں کے چہروں پر تفکرات کی لکیریں ڈالنا شروع کر دیں اور خیبرپی کے میں تحریک انصاف کو مسلم لیگ ن کا شکر گزار بنانے کا بیڑا اٹھا لیا۔ یوں اگر کہیں سے تھوڑی بہت بہتری کی سیاسی جنگ میں کمی کا امکان بھی نظر آنے لگا تھا اب وہ امکان بھی ناممکنات کی زد میں آ جائے گا۔
کچھ وزیر اور مشیروں نے تہیہ کر رکھا ہے یا یوں کہہ لیں ٹھان رکھی ہے کہ وہ میاں نواز شریف کو آرام سے حکومت نہیں کرنے دیں گے اور اپنی وفاداری کے زعم میں وہ ایک سے بڑھ کر ایک ایسی لاف زنی کرتے نظر آتے ہیں کہ فریق مخالف جو پہلے ہی خار کھائے ہوتا ہے پیچ و تاب کھانے لگتا ہے۔ یوں یہ سیاست کا میدان پانی پت کے میدان میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ رہے یہ وزیر اور مشیر تو یہ جنگ کے بعد مال غنیمت سمیٹنے کے چکروں میں میدان جنگ کے باہر کھڑے ہو کر تماشہ دیکھنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
داعش نے نمرود کے کھنڈرات پر بلڈوزر چلا دیئے۔ اس سے پہلے یہ تنظیم موصل کے عجائب گھر میں ہزاروں سال پرانی تہذیبی علامت، عروج وزوال کی داستان کو اپنے تیئں مٹا کر برباد کرکے بہت ثواب کما چکے ہیں۔ اس کار ثواب میں انبیا کے مزارات، 9صدی ہجری میں تعمیر ہونے والی مسجد، سمیت بے شمار صوفیا کے مقابر بھی شامل ہیں۔ اس سے بڑھ کر ان کی ذہنی پسماندگی کیا ہو گی کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے عمارات اور نوادارات کو بھی اپنے مقاصد کی خاطر مٹانا شروع کر دیا۔ بھلا یہ بے چارے تو خود دیدہ ودل کے لئے عبرت کا سامان مہیا کرتے ہیں۔
داعش ایسے کاموں سے اسلام کا کون سا نقشہ دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتی ہے۔ اسلام کے دامن رحمت میں نبیؐ رحمت سے لے کر آج ڈیڑھ ہزار برس گزرنے کے باوجود تہذیب و ثقافت کی ان علامتوں کو کسی نے برباد نہیں کیا۔ اب یہ داعش نجانے کس اسلام کی بات کرتے ہیں جس میں مسلمانوں کو ذبح کرنے، زندہ جلانے، عورتوں کو فروخت کرنے، اغوا کرنے کا کارخیر بھی اسلحہ کے زور پر کیا جا رہا ہے۔ اب نمرود کے کھنڈرات بھی بزبان غالب… ؎
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں میرا بھلا نہ ہوا
والا نوحہ غم پڑھ رہے ہوں گے۔ نمرود ان حرکتوں پر شرمسار ہو گا یا خندہ زن اس کا فیصلہ قارئین خود کر لیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭