پیر ‘ 20؍ شعبان المعظم 1436ھ ‘ 8؍ جون 2015ء

 پیر ‘ 20؍ شعبان المعظم 1436ھ ‘ 8؍ جون 2015ء

آپریشن بلیو سٹار اور بھنڈرانوالہ کی برسی پر امرتسر ’’خالصتان‘‘ زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ 

سانحہ امرتسر یعنی گولڈن ٹمپل کی تباہی کا زخم سکھوں کے سینے پر اس وقت تک ہرا رہے گا جب تک ایک آزاد ’’خالصتان‘‘ وجود میں نہیں آتا۔ 1947ء میں سردار تارا سنگھ کی غلطی نے سکھوں کو آزاد خالصتان کی منزل سے دور کر دیا۔ اس وقت واقعی سکھ رہنمائوں کے 12 بج گئے تھے مگر 1984ء میں اندرا گاندھی نے گولڈن ٹمپل کو آپریشن بلیو سٹار کے نام پر برباد کر کے سکھوں کو ان کی اصلی اوقات یاد کرا دی۔ یہ تو بھنڈرانوالہ جیسے محب وطن سرفروش تھے جو سر پر کفن باندھ کر بھارت کے سینے پر مونگ دلنے گولڈن ٹمپل امرتسر میں اکٹھے ہوئے اور عملاً انہوں نے پورے مشرقی پنجاب کو اپنے کنٹرول میں لے لیا مگر غدار سکھ فوجی افسروں نے اندرا گاندھی کے حکم پر اپنے ان آزادی پسند بھائیوں کو گولڈن ٹمپل میں بمباری کر کے موت کی نیند سلا دیا اور سنہری معبد کو کھنڈر بنا دیا۔ اسکا بدلہ بھی جلد اندرا گاندھی کے قتل کی شکل میں چند سکھ فوجی جوانوں نے لے لیا مگر جوابی قتل عام نے سکھوں کا رعب ختم کر دیا اور خالصتان کی منزل بہت دور ہو گئی۔ آج بھی سکھ نوجوان اپنی اسی جنت گمشدہ کی تلاش میں سرینگر، جموں، لاہور، ٹورنٹو، لندن میں بھنڈرانوالہ کی تصویر اٹھائے ’’خالصتان زندہ باد‘‘… ’’بھنڈرانوالہ زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے رہے ہیں مگر قوم بنی اسرائیل کی طرح ان کی ہنوز دشت نوردی ختم نہیں ہوئی۔ کاش انہیں ایک بار پھر جنرل ضیاء جیسا مربی اور بھنڈرانوالہ جیسا سرفروش مل جائے تو ایک بار پھر؎
بولو سوہنے لال ست سری اکال
واہے گورو جی دا خالصہ واہے گورو جی فتح فتح
والا شبدھ کیرتھن سچ ثابت ہو سکتا ہے۔ آج کل پھر خالصتانی خون جوش مار رہا ہے جس سے مشرقی پنجاب میں خالصتان کا خواب بھارت کے سینے پر سانپ بن کر پھر لوٹنے لگا ہے۔ دیکھنا ہے اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگانے والے مودی اور بی جے پی اس بار کونسا ناٹک کر کے خالصتانیوں کو بیوقوف بناتی ہے۔
…٭…٭…٭…٭…٭…
نیٹو اور مغربی ممالک کو روس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں: پیوٹن
بجا فرمایا ہے روسی صدر نے… اچھا تھا اگر وہ کھل کر ان ممالک کے نام بھی بتا دیتے جنہیں روس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت ہے ورنہ مسلم ممالک خود ہی سمجھ جائیں تو بہتر ہے۔ سرد جنگ کے دور میں سامراج مخالف مسلم ممالک روس کے حامی تصور کئے جاتے تھے جن کے ساتھ روس کے اچھے تعلقات تھے مگر اشراکیت کے لیبل کی وجہ سے بیشتر اسلامی ممالک روسی ریچھ سے خوفزدہ ہو کر امریکی چھتری تلے جا کر یوں بیٹھے جیسے کڑک مرغی انڈوں پر بیٹھتی ہے اور ابھی تک اٹھنے کا نام نہیں لے رہے۔ وقت بدلا یہ لادین سرخ ریچھ پرامن مفلوک الحال افغانستان میں گھس گیا، پھر کیا تھا مردان کوہستانی اور مہربانان پاکستانی نے اہل کتاب اتحادیوں کی مدد سے اسکا وہ حشر کیا کہ اب یہ سرخ ریچھ صرف تاریخ کے تذکروں میں ملتا ہے۔ بس غلطی یہ ہو گئی کہ ہم بھول گئے کہ سفید بھیڑیئے کو اپنے سے دور رکھنے کیلئے سرخ ریچھ کا ڈراوا ضروری تھا۔ اب ریچھ گیا تو سفید بھیڑیئے نے پورے جنگل یعنی دنیا میں جو حشر اٹھا رکھا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔
اب ایک بار پھر سرخ ریچھ میں طویل نیند کے بعد بیداری کے اثرات نظر آنے لگے ہیں تو امریکہ اور مغرب ڈریں یا نہ ڈریں، مسلم ممالک کی تو جان پہ بن آئی ہے کہ کہیں ایک بار پھر سامراجیت اور اشتراکیت کے دنگل میں ان کی شامت نہ آ جائے۔
رہی بات امریکہ اور مغرب کی تو انہیں ایک طرف چینی اژدھے کی پھنکار اور دوسری طرف داعش کی للکار کے بعد اب ریچھ کی چنگھاڑ بھی سنائی دی تو ڈر ہے کہیں خوفزدگی یا دیوانگی کی حالت میں یہ سب مل کر پوری دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی بھٹی نہ بنا دیں۔
…٭…٭…٭…٭…٭…
کشمیری مہاجرین کے مسائل، مولانا فضل الرحمن نے کشمیر کمیٹی کا اجلاس بلانے کا اعلان کر دیا۔
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے… چیئرمین کشمیر کمیٹی کو بالآخر عرصہ دراز بعد کشمیر اور کشمیریوں کا خیال آ ہی گیا۔ اس بار ان کا زور کشمیری مہاجرین کے مسائل پر ہے حالانکہ ان کا کام مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہے کشمیریوں کے مسائل حل کرنا نہیں، یہ کام تو وزارت امور کشمیر، بحالی و آباد کاری کشمیری مہاجرین جیسے اداروں کے سپرد ہے جو گذشتہ 67 برسوں سے یہ کام لٹکانے کا خاصہ تجربہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری مہاجرین کی آبادکاری کے نام پر پلاٹوں کی لوٹ سیل میں آزاد کشمیر کی حکومت ہو یا ممبران اسمبلی کوئی پیچھے نہیں رہا۔ بوگس الاٹمنٹ سے لے کر جعلی سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ تک تھوک کے بھائو من پسند لوگوں میں بانٹے گئے۔ اصلی کشمیری مہاجر تو کب کے اپنے مسائل کے حل سے توبہ تائب ہو کر قبرستان پہنچ چکے البتہ نئے 1989ء اور مہاجرین کشمیر کی بدولت آباد کاری و بحالی مہاجرین کی وزارت اور وفاقی امور کشمیر کی وزارت ہنوز زندہ و پائند ہے۔
کشمیریوں کا اصل مسئلہ کشمیر ہے اور اس کے حل کیلئے کشمیر کمیٹی بنی مگر یہاں بھی سیاسی رشوت کے طور پر من پسند چیئرمین اور ارکان چنے جاتے ہیں۔ ان میں اکثر کو کشمیر کی تاریخ تو چھوڑیں نقشے میں اس کے جغرافیہ کا بھی علم نہیں ہو گا۔
رہی بات مولانا فضل الرحمن کی تو وہ کئی برسوں سے نوابزادہ نصراللہ مرحوم کے بعد اس کمیٹی کے بلاشرکت غیرے چیئرمین ہیں مگر ریکار اٹھا کر دیکھ لیں کارکردگی صفر+ صفر= صفر کے کچھ بھی نظر نہیں آتی! ہاں البتہ بیرونی دوروں کے مواقع اکثر و پیشتر نکلتے رہتے ہیں اور وفاقی وزیر کے برابر کا پروٹوکول اپنا ہی مزہ دیتا ہے! اور وہ اس پر اپنی درویشانہ طبیعت کی وجہ سے قناعت کئے ہوئے ہیں۔ بھارت کے ساتھ ہمدردی اور خوشگوار تعلقات رکھنے والے ان وسیع الذہن رہنما سے کون توقع رکھ سکتا ہے مسئلہ کشمیر کے حل کی، یہ وہ حکمران جانیں جنہیں کشمیر سے نہیں کشمیر کمیٹی سے زیادہ دلچسپی ہے! رہے کشمیری تو وہ ابھی…
مرے وطن تری جنت میں آئیں گے اک دن
ستم شعاروں سے تجھ کو چھڑائیں گے اک دن
والا ترانہ الاپتے ہوئے مقتل سے لے کر قبرستان تک کا سفر طے کر رہے ہیں۔
…٭…٭…٭…٭…٭…