جمعۃ المبارک‘ 19 ؍ ربیع الاوّل 1439ھ‘8 ؍ دسمبر2017ء

جمعۃ المبارک‘ 19 ؍ ربیع الاوّل 1439ھ‘8 ؍ دسمبر2017ء

مجلس شوریٰ نے ایم ایم اے کے بجائے تحریک انصاف سے اتحاد کی منظوری دیدی: سمیع الحق 

اب معلوم نہیں یہ اتحاد جماعت اسلامی والوں کے لئے سعد ثابت ہو گا یا نہیں۔ وہ ٹھنڈے پیٹوں اسے قبول کریں گے یا نہیں۔ شاید انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ کوئی نیا اتحادی ان کے تحریک انصاف کے اتحاد میں شامل ہو رہا ہے مگر اپنی انتخابی پوزیشن دیکھ کر ضمنی الیکشنوں میں امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہونے کی وجہ سے جماعت اسلامی والوںکو تحریک انصاف اور جے یو آئی (س) کا یہ نیا نویلا اتحاد قبول کرنا ہی پڑے گا کیونکہ تحریک انصاف کو خیبر پی کے میں ایسے اتحادی ہر صورت ساتھ ملانے ہیں جو مذہبی طبقوں کیلئے قابل قبول ہوں‘ جماعت اسلامی نہ سہی جے یو آئی (س) ہی سہی۔ اگر یہ دونوں جماعتیں تحریک انصاف کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں تو اس میں تحریک کا کوئی نقصان نہیں‘ فائدہ ہی فائدہ ہے۔ مذہبی گروپ اس طرح تحریک انصاف پر گولہ باری بند کر دیں گے مگر کیا مولانا سمیع الحق صاحب نے سوچا ہے کہ ان کے ووٹر ایک کھلی ڈھلی، لبرل آزاد خیال کی حد تک سیکولر جماعت کے ساتھ جس کے جلسوں میں میلے ٹھیلے کا گماں ہوتا ہے۔ اتحاد کا یہ فیصلہ خوش دلی سے قبول کریں گے، کیا ایسے مخلوط ماحول میں وہ مل جل کر جلسے کر لیں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سمجھ لیں خیبر پی کے میں واقعی بقول عمران خان تبدیلی آگئی ہے۔
٭…٭…٭…٭
’’یہ تو مجھے بار بار بلائیں گے‘‘ عمران خان پیشی کے بعد واپسی پر اپنے وکیل بابر اعوان پر برس پڑے
ابھی تو ایک دو مرتبہ عدالت کے سامنے پیش ہونا پڑا اور خان صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور بھی ایسا کہ وہ آئو دیکھا نہ تائو سرعام اپنے چہیتے وکیل بابر اعوان پر برس پڑے اور ان کو بھی جھاڑ پلا دی۔ جس کے جواب میں بزعم خود ’’نوٹس ملیا ککھ نہ ہلیا‘‘ جیسے طنزیہ جملے کہنے والے بابر اعوان صرف ’’نہیں نہیں ایسا نہیں ہو گا‘‘ کی گردان دہراتے رہ گئے مگر خان صاحب سنتے ہی کب ہیںکسی کی، گاڑی کا دروازہ دھڑام سے بند کرے یہ جا وہ جا۔ اب دیکھتے ہیں خان صاحب کا غصہ جو بقول راوی خاصہ سخت اور تیز ہوتا ہے کیا رنگ لاتا ہے۔ حیرت صرف اس بات پر ہے کہ جب میاں نواز شریف بحیثیت وزیراعظم عدالت میں پیش ہوتے تھے اور کئی بار ہوئے ان مراحل پیشی پر تو خان صاحب عدالتی کارروائی دیکھنے بڑے ذوق و شوق سے ہر روز تشریف لے جاتے تھے۔ اب جب اپنی پیشی کی باری آئی تودوسری باری پر ہی جُزبُز ہونے لگے۔ اس پر تو مسلم لیگ (ن) والے کہیں ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کے جواب میں ’’مجھے کیوں بلایا‘‘ کی گردان لے کر نہ بیٹھ جائیں اور مسلم لیگ کے ہر جلسے میں مقررین ’’مجھے کیوں بلایا‘‘ والا مصرعہ لہک لہک کر سنانے لگیںٖاور سوشل میڈیا پر ’’مجھے کیوں بلایا‘‘ مقبولیت کی نئی بلندیوں کو چھوتا نظر آئے۔
٭…٭…٭…٭
پرویز مشرف نے مجاہدین مقبوضہ کشمیر بھجوانے کی تجویز دیدی
بس یہی ایک خوبی ہے سابق صدر پرویز مشرف میں جس کی وجہ سے کشمیری انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔ وہ خوبی یہ ہے کہ موصوف جب کشمیر پر بولتے ہیں بے دھڑک بولتے ہیں۔ بھارتی میڈیا اور بھارتی حکمرانوں کو ان کے بیانات سے کافی آگ لگتی ہے جو دیر تک سلگتی رہتی ہے۔ اب انہوں نے اپنے فوجی تجربہ کی بنیاد پر بالکل درست تجزیہ کیا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین بھیجے جائیں۔ اس وقت عملاً دشوار گزار دیہی پہاڑی علاقے کشمیری سنگ بازوں کے کنٹرول میں ہیں۔
یہ موقع ہے جسے ہم ’لوہا گرم ہے‘ کہہ سکتے ہیں۔ اگر نہتے کشمیری مجاہدین کو ذرا سی بھی سپورٹ حاصل ہو گئی تو تہلکہ مچ سکتا ہے۔ کشمیری حریت قیادت سے کشمیر ی اب صاف الفاظ میں کلاشنکوف دوبارہ اٹھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پرویز مشرف کی یہ بات خاصی متاثرکن ہے مگر یہ قوت ایمانی اس وقت چھولے کھا کرکہاں سو رہی تھی جب بھارت سیزفائر لائن جسے کنٹرول لائن بھی کہتے ہیں پر آہنی باڑ لگا رہا تھا… بنکر بنا رہا تھا کشمیری مجاہدین کی آمدورفت اسی لئے ناممکن ہوئی ہے تو یہ بھی مشرف جی ہی کی عنایت ہے۔ پھر امریکی دبائو میں آ کر مجاہدین کو نہتا بھی تو مشرف صاحب نے ہی کیا۔ ان کے کیمپ انہی کے دور نامسعود میں بند کئے گئے۔ مجاہدین کی قوت کو تتر بتر کیا گیا۔ کیا مشرف صاحب اب مجاہدین روانہ کرنے کا بیان دیکر اپنی غلطیوں کا ازالہ تو نہیں چاہتے۔ ویسے گستاخی معاف اب مجاہدین رہ ہی کہاں گئے ہیں‘ سب کو آپ نے بھٹکے ہوئے مسافر بنا دیا ہے… راہ گم کردہ مسافر…!
٭…٭…٭…٭
جنوبی افریقہ میں خونخوار شیر کا دھرنا‘ ٹریفک متاثر۔
جوہانسبرگ کے اس شیر کا تعلق یقیناً ہماری مسلم لیگ (ن) سے تو نہیں ہو گا‘ البتہ دھرنا کلچر کے حساب سے یہ شیر پی ٹی آئی کا کارکن معلوم ہوتا ہے۔ دھرنا کلچر صرف ہمارے ملک ہی میں رائج نہیں ہے یہ دنیا کے مختلف ممالک میں دیا جاتا ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ ہمارے ہاں اتنے دھرنے دیئے جاتے ہیں کہ ملک دھرنا سٹیٹ بن کر رہ گیا ہے۔
کلرکوں کے مطالبات نہیں مانے گئے چلو مال روڈ پر دھرنا‘ ینگ ڈاکٹرز مطالبات نہ مانے گئے پھر دھرنا۔ ٹیچرز کی تنخواہوں کا مسئلہ‘ چلو پھر دھرنا۔ ممکن ہے بچے اپنے والدین سے مطالبات منوانے کیلئے گھریلو دھرنا شروع کر دیں کیونکہ انہیں بھی اپنے مطالبات منوانے کیلئے ایک سیاسی راستہ مل گیا ہے۔
آج کل ماڈل ٹائون کا سانحہ سر اٹھائے ہوئے ہے‘ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب بھی کینیڈا سے بطور خاص تشریف لائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے کنٹینر تیار رکھا ہوا ہے‘ اگر انکے مطالبات نہ مانے گئے تو ایک مرتبہ پھر ڈی چوک پر دھرنا میلہ سج سکتا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا دھرنا تو ڈی چوک تک ہی محدود رہے گا‘ البتہ حکومت کی طرف سے جس طرح اسلام آباد بند کرنے کیلئے کنٹینرز لگائے جائیں گے‘ وہاں لوگوں کا دھرنا کم ‘ کنٹینروں کا دھرنا زیادہ لگے گا جبکہ اسلام آباد کے عوام ایک مرتبہ پھر خوار ہونگے‘ دھرنے والوں سے پھر مذاکرات ہونگے۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔