جمعة المبارک ‘ 19 شوال ، 1433ھ‘ 7 ستمبر 2012 ئ

جمعة المبارک ‘ 19 شوال ، 1433ھ‘ 7 ستمبر 2012 ئ

عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کا کہنا ہے‘ موسیقی سے پاک بھارت کشیدگی کم کی جا سکتی ہے۔
اگر تو پاکستان بھارت میں کوئی گانے بجانے کا تنازعہ ہوتا تو ہمیں عطاءاللہ صاحب سے سو فیصد اتفاق ہوتا لیکن یہاں تو....
واسطہ اس سے آن پڑا ہے کہ جس کا
لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر
خدا کرے کہ ہماری شہ رگ ہمارے شیرجوان چھڑا لیں تو پھر لبھورام بمقابلہ عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی پر مبنی ایک شاندار محفل موسیقی آراستہ کرینگے اور عیسیٰ خیلوی صاحب تب پسند کریں تو گیٹ اپ بدل کر یہ گائیں....
مینوں دھرتی قلعی کرا دے میں نچاں ساری رات
 عطاءاللہ ہمارے بڑے معروف لوک فنکار ہیں لیکن پہلی بار انکے اس ہنر کا علم ہوا کہ وہ موسیقی کے پکوڑے تلنے کے ساتھ لچ تلنے پر بھی دسترس رکھتے ہیں۔ انکی آواز میں کھرج ہی کھرج ہے‘کومل کا سُراغ نہیں ملتا اس لئے وہ چاہیں تو ملک و ملت اور اپنی شہ رگ واگزار کرانے کیلئے پاک فوج کے بینڈ میں بھرتی ہو جائیں۔ شامل باجے کی بھی ضرورت نہیں پڑےگی۔ انکی صرف ایک لے کہ ”قمیض تیری کالی تے سوہنے پھلاں والی“ پر ہی ہندو فدا ہو کر کہیں کنٹرول لائن کے اس پار نہ آجائیں اس لئے سردست پاکستان بھارت کشیدگی کم کرنے کی کشیدہ کاری سے احتراز فرمائیں۔ یہ کشیدگی زور بازوئے حیدر سے دور ہو گی‘ کیونکہ اسلام کی یہی تاریخ ہے اور بالخصوص برصغیر کے حوالے سے تو یہی سٹائل رائج رہا ہے۔ فاعتبروایا اولی الابصار۔
٭....٭....٭....٭
ڈپٹی سپیکر فیصل کنڈی نے وقفہ¿ سوالات کے دوران کینو کو انگریزی میں کینو لکھنے پر وزارت تجارت کے حکام سے کہا نقل کیلئے عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر یہی بات ہے تو ڈپٹی سپیکر کو بھی فیصل کریم کنڈی کے بجائے فیصل کریم "Hook" لکھنا چاہیے کیونکہ نقل را عقل باید والے فارمولے کے تحت یہ امکان واضح ہو جاتا ہے کہ....ع
خود آپ اپنی بات میں سپیکر آگیا
یہ ٹھیک ہے کہ کینو جاپانی لفظ ہے‘ لیکن اب تو ہمارا کینو امریکہ بھی جاتا ہے تو ظاہر ہے امریکی اسے انگریزی ہی میں لکھیں گے کیونکہ انکے پاس بھی بقول ڈپٹی سپیکر نقل کےلئے عقل کا فقدان ہے۔ ویسے ہمارے ہاں کارِ سرکار میں اتنی پرکاری ہے کہ چاہے کسٹم سے ہاتھی بچ کر نکل جائے اور ممکن ہے سینے پرونے کی سوئی پر سوئی اٹک جائے۔ نقل کیلئے بالعموم عقل کی نہیں ڈھٹائی اور نااہلی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس پر حکومت اپنے ڈپٹی سپیکر سمیت کماحقہ پورا اترتی ہے۔ حکومت اور اسمبلی کا چار سال سے خاصا اوپر عرصہ ہو گیا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ اجلاس کے دوران ممکن ہے سرکاری دلوں کی دھڑکنیں اوپر نیچے بھی ہوئی ہوں....
شور برپا ہے خانہ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی
اب یہاں بھی نقل و عقل کا معاملہ درپیش ہے کہ یہ دیوار گری ہے یا دیوار جیسی کوئی چیز گری ہے۔ کینو انگریزی میں لکھا جائے یا اردو میں‘ یہ اب پاکستانی کینو ہوتا ہے۔ مولوی ڈپٹی نذیر احمد نے سعادت حسن منٹو پر مقدمہ دائر کردیا تھا کہ وہ اپنے افسانوں میں فحش الفاظ لکھتے ہیں‘ انگریز جج نے مثال پیش کی تو منٹو نے جواب دیا تھا‘ اب نارنگی کو سیب تو نہیں لکھ سکتا۔
٭....٭....٭....٭
پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شوکت بسرا گرفتاری دینے آئی جی آفس پہنچ گئے۔ پولیس نے گرفتاری سے انکار کر دیا۔
باقی تو سب ٹھیک ہے لیکن یہ کیا بات ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کیخلاف اکثر قبضے کا الزام ہی لگتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو لوگ کیوں ظالم اور سخت گیر سمجھتے ہیں‘ ہماری دانست میں اس جماعت کی ساری تاریخ زخموں سے چور ہے۔ اقتدار میں ہو کر بھی محکوموں جیسا مزاج رکھتی ہے۔ پہلے ان کا بانی پھر انکی بیٹی شہید کی گئی اور اب بعض لوگ بھٹو صاحب کے داماد کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں۔ ان کو عوام نے خود پانچ سال دیئے تو اب وہ انکی عاجزی انکساری بے بسی کو بھی بھگتیںباقی کتنے دن رہ گئے‘ آخر چند روز تو پیپلز پارٹی کے صدر نشین اور تہہ نشینوں کو یہ گیت گنگنانے دیں....ع
بڑی مشکل سے دل کی بے قراری کو قرار آیا
ایک وزیراعظم جو دولہا ایک رات کے ہیں‘ کے جانے پر کیا موقوف اب تو سارا شادی گھر ہی بند ہونیوالا ہے۔ شوکت بسرا کے ساتھ پیپلز پارٹی کے راجہ ریاض سمیت کتنے ہی رہنما آئی جی آفس گرفتاری دینے گئے بہرحال آئی جی آفس نے بھی سکرپٹ پڑھنے میں ذرا غلطی بھی نہ کی حالانکہ آئی جی انہیں محفوظ کرکے بحفاظت اس تھانے پہنچا سکتے تھے‘ جہاں مقدمہ قائم ہوا تھا لیکن شاید یہ لائن سکرپٹ میں شامل نہ تھی۔ جو ماتمی جلوس آئی جی کے پاس گیا‘ اسکی حالت زار دیدنی تھی....
مری سینہ زنی کا شور سن کر
پھٹے جاتے ہیں ہمسایوں کے سینے
٭....٭....٭....٭
ق لیگ کے وزیر خواجہ شیراز محمود ایل ایل بی پارٹ ون کے امتحان میں فیل ہو گئے۔
جن کے آقا پاس ہو جائیں‘ انکے غلام فیل نہیں ہوتے اس لئے خواجہ صاحب ہرگز ملول نہ ہوں‘ ایک دن آئیگا کہ ڈڈو ان کا گواہ ہو گا۔ وہ کیوں نہیں بڑے چودھری صاحب سے پوچھتے کہ اتنی مٹی نہ پاﺅ کہ پھر مٹی ہی باقی نہ رہے اور یہ جو ایل ایل بی کے پہلے حصے میں فیل ہونا ہے‘ وہ پاس ہونے کے مترادف ہے ‘ پاس ہونے پر مٹی ڈالیں۔ مگر مٹی اپنے سٹاک سے لیں‘ چودھری صاحب کا سٹاک ختم نہ ہونے دیں۔ مسلم لیگ ق کے تمام نکوں وڈوں کی نذر اقبال کا یہ شعر کیا ہی اچھا نذرانہ ہے‘ اگر وہ سمجھیں تو....
اگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھا
نظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کو
اور یہ بات بھی خدا جانے قاف لیگ کیلئے باعث طمانیت ہو سکتی ہے کہ جو پاس ہوئے وہ بھی تو پاس لے کر ہی پاس ہوئے۔ یہ پاس ہونا بھی اتنا اچھا نہیں‘ پچھلے دنوں ایک طالب علم نے غلط مارکنگ کے باعث خودکشی کرلی‘ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ وہ تو پاس تھا....ع
ہائے اس زود پیشماں کا پشیماں ہونا