پیر‘ یکم ربیع الثانی 1432 ھ 7 مارچ 2011ئ

اسرائیلی سفیر نے کہا ہے‘ پاکستان کے ساتھ مشرف کے جانے کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ موجودہ حکومت نے اسرائیل سے مشرف دور میں قائم ہونیوالے روابط کے سلسلے کو آگے نہیں بڑھایا۔ پرویز مشرف کے بارے میں کہنا پڑےگا کہ معلوم شد حاجی نیست۔ اسکے پیارے اسے یاد کرتے ہیں اور اپنے نصیبوں کو روتے ہیں کیونکہ کس قدر پیارا تھا اک یہودی سے یہودی کا ملن۔ مگر اسرائیلی سفیر کو غم کس بات کا ہے‘ اس کا ناجائز باپ جو حکومت نے مہمان بنا رکھا ہے۔ اسکی موجودگی سے کیا یہودی پاکستان سے باہر رہ سکتے ہیں۔ اللہ ہی جانے کہ اس غدارِ ملک و ملت اور قاتلِ قوم پرویز مشرف کے یہودیوں سے روابط کہاں تک جا پہنچے تھے کہ اسکی ڈوری کھینچ لی گئی اور وہ سیدھا شاہد و شراب کی گود میں جا پہنچا ....ع
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
حیرت ہے کہ وہ پاکستان کی بات ہی نہیں کرتا‘ پاکستان میں ایک آل پاکستان مسلم لیگ بھی پال رکھی ہے جس کو اسکے چند ایک دیوانے دانہ ڈال ڈال کر تھک گئے ہیں مگر لگتا ہے اب انکے دانے ہی ”مک“ گئے ہیں۔ یہودی ہمارے لئے خنزیر ابیض ہے اور کوئی مانے یا نہ مانے‘ یہود و ہنود اور نصاریٰ مل کر اسلام اور مسلمانوں کیخلاف ہر ناپاک سازش میں ایک ہیں۔ بھارت اسرائیلی و نصرانی شہ پر ہمارے خلاف ہر طرح کا اسلحہ استعمال کر رہا ہے‘ آبی جنگ وہ شروع کر چکا ہے‘ مگر ادھر حکمران ہی آب آب ہیں‘ وہ کیا جواب دینگے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں بھی ہاتھ میں غلیل اور منہ میں تکبیر کا نعرہ لے آنا چاہیے۔ مشرف نے جو گند کیا‘ موجودہ حکومت نے اسی پر اپنی بنیاد رکھی ہے البتہ اسرائیل سے روابط نہیں رکھے مگر موساد کو اذنِ عام دے رکھا ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
راشد قریشی نے در فنطنی چھوڑی ہے کہ مشرف مقدمات سے گھبرانے والے نہیں رواں برس پاکستان آئیں گے، حکمرانوں کے پاس ملک و قوم کو دینے کیلئے کچھ نہیں۔ راشد قریشی بہادر فوجی رہے ہیں وہ راشد ہ قریشی نہ بنیں اور سابقہ آمر کی دسیسہ کاریوں اور مکاریوں کو جانتے ہوئے اُن پر اپنا دوپٹہ ڈالنے کی کوشش نہ کریں پرویز مشرف وہ شخص ہے جس کی گردن پر افغانستان کی لاکھوں گردنوں کا بوجھ اور افغانستان کی بربادی کا زنار لٹک رہا ہے اور اپنے ہم وطنوں کے خلاف ہولو کاسٹ کا گناہ بھی اُن کے ذمے ہے،جامعہ حفصہ کی بچیوں کے بھی وہ قاتل ہیں انہوں نے نہ صرف یہ بلکہ وطن کے بیٹے بیچے اور آپ کو بھی حصہ دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ تا قیامت اُن کی حمایت پراز حماقت کرتے رہینگے، کیا وجہ ہے اب بھی ڈالر مل رہے ہیں جو اتنی وفاداری دکھا رہے ہیں،اگر مشرف کچھ چھوڑتے تو موجودہ حکمرانوں کے پاس قوم کو دینے کو کچھ ہوتا، یوں وقفے وقفے سے اپنے ممدوح کی مدح سرائی بروزن ہرزہ سرائی نہ کیا کریں، آخر قبر بھی قریب ہے اور فرشتے اتنا بھی انتظار نہیں کرتے، توبہ تائب ہوکر طبلہ بجانے والے ایک فاسق و فاجر اور شرابی کبابی کی ہفوات کی تائید سے باز آجائیں، ورنہ شاہباز آجائیں گے اور نوچ ڈالیں گے، مشرف کا رواں سال رواں دواں ہی رہے گا، وہ آئیں گے نہیں لائے جائیں گے اور معصوموں کے قتل کا حساب عدالتوں میں دینگے، جن کا خون اب بھی اُن کی آستینوں اور آپ کی باچھوں سے ٹپک رہا ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
شیوسینا نے اس طوطے کو مار ڈالا جس نے پاکستانی فتح کی پیش گوئی کی تھی، لگتا ہے شیوسینا کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ہیں،اس لئے ایک بے گناہ طوطے کو صرف اس لئے مار ڈالا کہ طوطے کی پیش گوئی توکجا، وبال ٹھاکرے کو خود پاکستان کی فتح کا چاند چڑھتا نظر آنے لگا ہے، اگر شیوسینا، شیو کرنے سے فارغ ہوگئی ہوتو ہم اُس سے ببانگ شمشیر کہیں گے کہ شیو سینا تیرے استرے تو اب بھارتی نیتاﺅں کی شیونہ بناسکیں گے اور اُن سے کوئی پوچھے کہ ایک پرندے طوطے کو تو اُس نے مار ڈالا مگر دنیا بھر کے انسانی طوطے جو پیش گوئیاں، پاکستانی فتح کے بارے کر رہے ہیں اُن کی گردن تک اس کے نجس ہاتھ کیسے پہنچیں گے، یہ شیو سینا دراصل بھارتی حکمرانوں کا طوطا ہے،اس کو مجاہدین کشمیرہی کیفر کردار تک پہنچائیں گے کیونکہ یہ خرِ بے دم ایک عرصے سے پاکستان کے خلاف بھانڈ کا کردار ادا کر رہا ہے، یہ اپنے انداز کی دہشت گردی میں مسلمانوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے مگر دہشت گرد نیتا اسے کیسے روکیں، یہ تو اُن کا طوطا ہے جس کی گردن مروڑنا اب ضروری ہوگیا ہے ، خود ہی بھارت کی سرزمین سے کوئی عقاب صفت اٹھے گا اور اس کا حلقوم خاموش کردے گا، شیوسینا دراصل بھارتی حکمرانوں کا اپنا سٹف کیا ہوا طوطا ہے جو جلد ہی ڈیکوریشن پیس بن کر ہماری میز پر سجے گا۔
٭....٭....٭....٭....٭
شاہ محمود قریشی نے کہا ہے: سر اُٹھا کر چلنا ہے تو زمینداروں جاگیرداروں کو زرعی ٹیکس دینا ہوگا۔معاشی حالات بہتر بنانے کیلئے ریونیو بڑھانا ہوں گے کالا باغ ڈیم کا حامی ہوں ساری باتوں میں قریشی صاحب نے ایک ہی کام کی بات کی ہے کہ کالا باغ ڈیم کا حامی ہوں مگر اُن کے حامی ہونے سے وہ حاجی نہیں بنیں گے، چاہئے تو یہ کہ وہ کالا باغ ڈیم کو ایک مشن بنا کر اُسے روبہ عمل کرائیں۔باقی یہ کہ زمینداروں جاگیرداروں سے زرعی ٹیکس کے بجائے اُن کی زمینداریاں اور جاگیر داریاں ہی ختم کی جائیں تاکہ زرعی ٹیکس کا جھونگا وصول کرنے ہی سے نجات مل جائے، اُن کی تقریریں اور خاندانیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ بھٹو کی طرح کوئی انقلابی اقدامات کرکے دکھائیں،اب تو اُن کے پاس اقتدار بھی نہیں رہا لہٰذا جان اتنی قیمتی نہیں رہی، خدا کا نام لیکر ان بے تحاشا جاگیروں کو مزارعین اور چھوٹے کسانوں میں تقسیم کرکے بھارت کی طرح سرے سے جاگیردارانہ سسٹم ہی ختم کرادیں کہ یہی وہ سسٹم ہے جس نے ہمارے آج کے بیمار سسٹم کو جنم دیا ہے، معاشی حالات کیا صرف ایک ہی ذریعے سے بہتر ہوسکتے ہیں کہ جو باقاعدہ ٹیکس دے رہے ہیں یعنی غریب عوام اُن کے ٹیکسوں میں اور اضافہ کردیاجائے، اس وقت وہ خود صاحب جائیداد ہیں کیا وہ پورا پورا ٹیکس ادا کرتے ہیں،شاہ محمود کو تو ہم نے بھٹو ثانی سمجھا تھا،اب وہ اس قطار میں سے نہ نکلیں، وہ بولناجانتے ہیں اُٹھیں اور اس ملک کے غریبوں کو جگا کر انقلاب برپا کردیں۔