پیر ‘8 رمضان المبارک‘ 1435ھ ‘7 جولائی 2014ئ

پیر ‘8 رمضان المبارک‘ 1435ھ ‘7 جولائی 2014ئ

مظفر گڑھ : 5 بیویاں خرچہ نہ ملنے پر مقدمہ کیلئے تھانے پہنچ گئیں، شوہر گرفتار راضی نامہ پر رہا!
ابھی وزیرستان کے متاثرین میں شامل 3 بیویاں اور 32 بچوں والے بابے کی خبر پرانی نہیں ہوئی تھی کہ یہ 5 بیویوں کا نیا تنازع سامنے آ گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے وطن میں کیسے کیسے گوہرِ نایاب پائے جاتے ہیں۔ ایک طرف بھوک، بیروزگاری اور گھریلو جھگڑوں سے مرنے اور خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے دوسری طرف شادیوں پر شادیاں اور بچوں پر بچے پیدا کرنے کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے۔
اب تک ہمارے ہاں 4 شادیوں کی اجازت پر کافی مغز ماری ہوتی رہی ہے، کوئی اسے اجازت قرار دیتا ہے تو کوئی اسے حق سمجھتا ہے مگر اس اجازت اور حق کے درمیان یہ پانچ شادی والا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ 4 کی اگر اجازت ہے تو یہ پانچویں کا حق انہیں کس نے دے دیا۔ شاید شوہر محترم اپنی ازدواج کی گنتی بھول گئے ہوں گے اور اسی پر خرچے کا تنازع اُٹھ کھڑا ہُوا ہو گا کہ کس کو خرچہ دیا اور کس کو نہیں جس میں انہیں تھانے اور حوالات کی ہَوا کھانا پڑی اور بالآخر صلح ہونے پر باالفاظ دیگر بیویوں کی منتیں ترلے کر کے انہیں رہائی ملی۔ اب کیا فرماتے ہیں ”علماءاس مسئلہ کے بیچ“ یہ پانچویں شادی کا معاملہ کیا ڈرامہ ہے اس کی اجازت موصوف کو کہاں سے ملی۔ کیا پہلی نے دوسری کی اور دوسری نے تیسری کی اور تیسری نے چوتھی کی اجازت دی تھی، اس راز سے بھی پردہ اٹھانا ضروری ہے ۔ کیا موصوف نے چھپ چھپا کر یہ سارا کھیل رچایا تھا ۔اس کے بعد خطرہ ہے کہ کہیں شوہر نامدار کو جیل کی ہَوا نہ کھانی پڑے اور کسی ایک بیگم سے ہاتھ بھی دھونا پڑیں۔
 ٭۔٭۔٭۔٭۔٭
حکومت جانے والی ہے قوم 15 دن انتظار کرے : شیخ رشید!
لیجئے جناب ماہر علوم سیاسیات کی جانب سے یہ سلسلہ¿ پیشن گوئی کی نئی قسط بھی سامنے آ گئی ہے مگر ساتھ ہی یہ خطرہ بھی منڈلانے لگا ہے کہ کہیں یہ پیشن گوئی بھی شیخ جی کی پہلی پیشن گوئیوں کی طرح غلط نہ ثابت ہو۔ آجکل شیخ جی اور قادری جی کے درمیان پیشن گوئیوں کا مقابلہ عروج پر ہے، دونوں طرف سے پے در پے حکومت کے ایک ہفتہ، دس دن یا ایک ماہ میں جانے کے دعوے اور اعلانات تواتر سے شائع ہوتے رہے مگر افسوس نہ تو قادری جی کے خواب سچے نکلے نہ شیخ جی کے دعوے درست ثابت ہوئے۔
ان دعوﺅں سے بس عمران خان اور چودھری برادران کو ہی روحانی مسرت ہوئی ہو گی جو تہہ دل سے موجودہ حکمرانوں کا بوریا بستر گول ہونے کی امید پر اُلٹی گنتی گن رہے ہیں مگر تاحال حکمرانوں کی رخصتی کے آثار قریب نظر نہیں آ رہے حالانکہ یہ بیچارے حکمران پورے خلوص کے ساتھ ایسی حرکتوں میں مصروف ہیں جو ان کو اندھے کنویں کی جانب دھکیل رہی ہیں مگر یہ نتائج سے بے پرواہ ہو کر ہر وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو ان کے جی میں آتا ہے۔ اس لئے اور کچھ ہو نہ ہو یہ خطرہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ان کے انہی بچگانہ حرکات سے شیخ رشید اور طاہر القادری کی پیشن گوئیاں کسی نہ کسی روز رنگ نہ لے آئیں اور حکومت کرنے والے بعد میں آہیں بھرتے روتے بسورتے نظر آئیں۔
 ٭۔٭۔٭۔٭۔٭
350 بدعنوان سرکاری افسران کی لسٹ وزیر اعلیٰ کو بھجوا دی گئی!
معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب صرف حسبِ معمول کوئی فرضی ”کارِ سرکار“ ہے جس کا مقصد صرف عوام کی نظروں میں اپنی یا حکومت کی کارکردگی بہتر ثابت کرنا ہوتا ہے اصل صورتحال باقی وہی ”ٹائیں ٹائیں فش“ ہی کی ہوتی ہے۔۔ اس سے پہلے کرپٹ افسران کا کسی نے کیا بگاڑ لیا جو ان 350 ”نیک نام“ افسروں کا کوئی حشر نشر کر دے گا۔ پہلے بھی جن کرپٹ بدعنوان، راشی افسروں کی پکڑ دھکڑ ہوئی صرف چند ماہ انہیں او ایس ڈی رکھنے کے بعد دوسری کسی نئی منافع بخش پوسٹ پر تعینات کر دیا گیا، یوں ان کی نیک نامی اور ”رزقِ حلال“ کی آمدنی ویسے ہی جاری و ساری رہی جس طرح پہلے تھی۔ اب معلوم نہیں یہ تبادلے اور انکوائریاں انکی سزا تھی یا جزا، یہی اب ان 350 افسران کے ساتھ بھی ہو گا کیونکہ ”یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں“ جو حکومت پٹواری کو جو زمین کا خدا بنا بیٹھا ہوتا ہے تمام کرپشن اور حرام خوری کے باوجود ہلا نہیں سکتی عام معمولی سرکاری اہلکاروں کے تبادلوں تک میں بے بس ہو وہ بھلا ان بڑے بڑے مگرمچھوں کا کیا بگاڑے گی اور پھر یہ فہرست تیار کرنے والوں کو پورے پنجاب میں صرف 350 کرپٹ افراد ہی نظر آئے یہ بات بذاتِ خود اس رپورٹ کو مشکوک بنا دیتی ہے کیونکہ یہاں تو قدم قدم پر ایک سے بڑھ کر ایک داستان ہے جس کے آگے نمرود و قارون اور فرعون کی داستانیں بھی شرما کر رہ جائیں۔ معمولی سے لیکر اعلیٰ گریڈ تک کے افسران و اہلکار اپنی اوقات اور تنخواہ سے بڑھ کر عالیشان گھروں میں رہتے، قیمتی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، ان کے بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں جو گرمیوں میں بیرون ملک سیر پر جاتے ہیں کیا رپورٹ تیار کرنے والوں کی نظریں کمزور ہیں، انہیں یہ سب کچھ نظر نہیں آ رہا۔ اگر حکومت نے واقعی انصاف کی تلوار اٹھا لی ہے اور سرکاری اداروں کو پاک کرنے کا تہیہ کر لیا ہے تو پھر بے شک انہی 350 سے آغاز کرے اور ہر محکمہ سے ہو ماہ ایسے 350 کرپٹ افراد ٹھکانے لگائیں تو شاید یہ گند صاف ہو کیونکہ یہاں سینکڑوں نہیں لاکھوں لٹیرے صاحبِ دستار بنے بیٹھے ہیں جن کے سر اتارے بغیر نہ تو کرپشن ختم ہو گی نہ یہ رپورٹیں کام آئیں گی کیونکہ سب کچھ تو انہی کی مرضی سے ہوتا ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔