جمعرات‘ 18 ؍ ربیع الاوّل 1439ھ‘7 ؍ دسمبر2017ء

جمعرات‘ 18 ؍ ربیع الاوّل 1439ھ‘7 ؍ دسمبر2017ء

عارف لوہار کے گیت پر زرداری کا والہانہ رقص

جب شہزادے کی رسم تاجپوشی ہو، محفل عروج پر ہو، ساز و آواز جادو جگا رہے ہوں تو کس کا دل نہیں مچلتا! کون فرط جذبات سے ناچ نہیں اٹھتا۔ اسلام آباد کا جلسہ ویسے بھی حاضری کے لحاظ سے پیپلز پارٹی والوں کیلئے قدرے اطمینان بخش تھا۔ اگرچہ آزاد کشمیر، سندھ اور جنوبی پنجاب سے وافر تعداد میں افرادی قوت مہیا کی گئی تھی مگر شو خاصہ کامیاب تھا۔ اسی لئے جب زرداری صاحب نے بلاول صاحب کی چیئرمینی کا اعلان کیا جہاں بہت سے لوگ ناچ اٹھے جھوم اٹھے وہاں بہت سے لوگوں کو حیرت بھی ہوئی۔ تحریک انصاف والوں نے تو فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ 25ویں مرتبہ زرداری صاحب نے بلاول کی چیئرمینی کا اعلان کیا ہے۔ تحریک والوں کے نزدیک اب اس سے کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ سندھ میں ہر جگہ عمران خان کا نعرہ گونجے گا۔ جو بھی ہو پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس پر منعقدہ اس اسلام آبادی جلسے میں عارف لوہار نے خوب سماں باندھا۔ آصف زرداری صاحب نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا اور پورے نغمے پر رقص کرتے رہے۔ اب یہ فیصلہ کارکن کرینگے کہ پرفارمنس عارف لوہار کی اچھی تھی یا زرداری صاحب کی۔ جب قائد ہی رقصاں ہو تو کارکن خود بخود جھوم اٹھتے ہیں، دھمال ڈالتے ہیں۔ سو جلسے میں وہی رونق نظر آئی جو تحریک انصاف کے جلسوں کا خاصہ تھی۔ یہ جلسوں میں ناچ گانا کہہ لیں یا میوزک کی ایجاد کا سہرا تحریک انصاف کے سر ہے جس نے عطااللہ عیسیٰ خیلوی اور ابرار الحق کو ساتھ ملا کر ڈی جے بٹ کی میوزک کا ایسا جادو جگایا کہ اب ہر سیاسی جماعت پرجوش مقررین کے ساتھ ساز و آواز کا جادو جگانے والوں کی خدمات بھی حاصل کرنے پر مجبور ہے۔ یوں چلیں فلم انڈسٹری میں بحران آیا تو سیاسی میدان میں گانے بجانے کا کاروبار چل پڑا۔
٭…٭…٭…٭
مشرف نے حافظ سعید کے ساتھ سیاسی اتحاد کا عندیہ دیدیا۔
اب مشرف صاحب کے اس حسن ظن کا جواب حافظ سعید صاحب یا ان کی جماعت والوں کے ذمہ ہے کہ وہ محبت کے اس بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھامتے ہیں یا دھتکارتے ہیں۔ ویسے کہتے ہیں
پھیلے ہوئے ہاتھوں کو حقارت سے نہ دیکھو
ہر در کی تو قسمت میں سوالی نہیں ہوتا
سو اب دیکھنا ہے پرویز مشرف اور حافظ سعید کی ہتھ جوڑی حقیقت کا روپ دھارتی ہے یا نہیں۔ خود حافظ صاحب نے بھی ملی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ گویا یہ ان کی طرف سے سیاسی میدان میں انٹری کا اعلان ہی تصور ہو گا۔پرویز مشرف صاحب بھی خود ایک عدد مسلم لیگ کے بانی مبانی ہیں۔ اب اگر یہ دونوں اکٹھی ہو جائیں یا کوئی پراسرار طاقت انہیں اکٹھا کرنے کا خوشگوار فریضہ انجام دے تو یہ مل کر کیا ستم ڈھائیں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر بہت سی دوسری ننھی منی مسلم لیگوں کیلئے یہ اتحاد موت کا پیغام ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ وہ خود کسی ایسے معجزے کی منتظر رہتی ہیں کہ کوئی غیبی ہاتھ آ کر انہیں اوج ثریا تک پہنچا دے۔ کیا پتہ بعد میں وہ لیگیں بھی اس مسلم لیگی اتحاد میں شامل ہونے میں عافیت محسوس کریں۔ مشرف صاحب تو فی الحال حسن ظن کے تحت فرما رہے ہیں کہ اس اتحاد کا مقصد یہ ہے کہ وہ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ جماعتہ الدعوۃ اور لشکر طیبہ اچھی تنظیمیں ہیں۔ تو کیا مشرف صاحب اب تک لشکر طیبہ اور جماعتہ الدعوۃ کو اچھی تنظیمیں نہیں سمجھتے تھے جو اب دنیا کو بتانے چلے ہیں کہ یہ شریف تنظیمیں ہیں۔
٭…٭…٭…٭
ممنوعہ بور لائسنس پر پابندی، عوام آٹومیٹک اسلحہ نیم خودکار کرائیں یا واپس دے کر 50 ہزار روپے لے لیں: وفاقی کابینہ
ہماری حکومت بھی ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی اچھوتا حل نکالنے میں بڑی ماہر ہے۔ پھر چاہے وہی مسئلہ کئی اور مسائل پیدا کرتا پھرے۔ ممنوعہ بور کے اسلحہ پر پابندی کا فیصلہ بہت اچھا… اسکے اچھے اثرات بھی سامنے آئینگے مگر یہ جو آٹومیٹک ہتھیاروں کو نیم خودکار بنانے کی تجویز ہے یہ کس افلاطون نے دی ہے۔ کیا نیم خودکار بنانے سے ان آٹومیٹک ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی اور خطرناکی میں کمی آئے گی۔ رہیں گے تو یہ پھر بھی انتہائی خطرناک ہتھیار، پھر یہ 50ہزار لو اور یہ ہتھیار واپس کرو کی پالیسی کس زرخیز ذہن کی پیداوار ہے، کیا ایسا کبھی ہو بھی سکے گا؟ ایک اعلیٰ درجے کا قیمتی آٹومیٹک ہتھیار خواہ ریوالور ہو یا گن ہزاروں نہیں لاکھوں میں ملتا ہے، اب کون احمق وہ 50 ہزار روپے کی خاطر حکومت کو دیگا۔ امریکہ نے ایک مرتبہ اعلان کیا تھا افغانستان میں روس کیخلاف چلائے جانے والے سٹنگر میزائل کا خالی خول جو واپس لا کر دے گا اسے ہزار ڈالر ملیں گے تو سارے افغانوں اور پاکستانیوں نے باڑے کا رخ کر لیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکیوں کے پاس 25 ہزار سٹنگر میزائلوں کے خالی خول جمع ہو گئے، امریکیوں کیلئے یہ شناخت کرنا بھی ممکن نہیں رہا کہ میڈ ان یو ایس اے کونسا ہے اور میڈ ان باڑہ کون سا ہے حالانکہ افغانستان میں بمشکل چند سو سٹنگر میزائل فائر ہوئے تھے۔ اب یہاں بھی یہ نہ ہو کہ ہزاروں لاکھوں لوگ چند ہزار روپے والا آٹومیٹک اسلحہ باڑے سے لیکر جمع کرانے آئیں اور حکومت ہر ایک کو 50 ہزار روپے دیتے دیتے کنگال ہو جائیگی۔
٭…٭…٭…٭
امریکی خاتون وزیر ٹرانسپورٹ کی طرف سے بھی جنسی ہراساں کئے جانے کا بیان
ٹرمپ کی آمد کے بعد تو امریکی سیاست میں خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی داستانیں یوں عام ہونا شروع ہوئی ہیں جیسے ہی وہ منظرعام پر آنے کیلئے اس موقع کی تلاش میں تھیں۔ یکے بعد دیگرے بڑی بڑی سیاسی، سماجی اور فلمی خواتین کھلے عام زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر صنفی طور پر ہراساں کئے جانے کی وارداتیں بیان کر رہی ہیں۔ امریکہ کے علاوہ کئی غیرملکی اداکارائوں اور خواتین نے بھی امریکی صدر ٹرمپ پر صنفی بدسلوکی کے الزامات عائد کئے ہیں۔ الیکشن مہم میں بھی ٹرمپ صاحب ایسے واقعات کا تذکرہ بڑے پُرلطف مزاحیہ انداز میں کرتے تھے مگر اب یہ مذاق ان کے گلے پڑ رہا ہے۔ انکے علاوہ دیگر لوگ بھی خواتین کو ہراساں کرنے کے الزامات کی زد میں آ رہے ہیں۔ پہلے بات صرف فلمی اداکاروں تک محدود تھی، اسکے ساتھ ہی امریکی خاتون وزیر ٹرانسپورٹ نے بھی ایسا ہی بیان دیکر جلتی پر تیل ڈالا ہے۔ بل گیٹس جیسے نامور ارب پتی دنیا کے سب سے امیر شخص کی بہن نے بھی ایسا ہی الزام عائد کیا تو پورے امریکہ میں لے دے ہونے لگی۔ معلوم ہوتا ہے اب اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ کیونکہ اب متاثرہ امریکی خواتین اس معاملے کو ختم کرنے کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ ویسے بھی یہ صرف امریکہ یا یورپ کا مسئلہ نہیں ایشیا اور افریقہ میں بھی خواتین اس صنفی ہراسگی کا شکار ہیں… راہ چلتے، دوران کام انہیں گھورا اور چھوا جاتا ہے، فقرے کسے جاتے ہیں، دوران سفر بھی چھیڑ چھاڑ ہوتی ہے۔ آخر خواتین کب تک ثنا خوان تقدیس مشرق کو پکارتی رہیں گی۔