بدھ‘ 16؍ رجب المرجب 1436ھ ‘ 6؍ مئی 2015ء

بدھ‘ 16؍ رجب المرجب 1436ھ ‘ 6؍ مئی 2015ء

نیپال میں زلزلہ زدگان کے لئے قائم پاکستان کے میڈیکل کیمپ میں دوسرے بچے کی پیدائش۔ نام ’’پاکستان‘‘ رکھ دیا۔

یہ ہے احسان یاد رکھنے والی قوم کے جذبات کا خوبصورت اظہار۔ ورنہ احسان فراموش لوگ تو اس ملک میں رہتے ہوئے بھی اسکے گن گانے سے کتراتے ہیں۔ نیپالی زلزلہ زدگان کیلئے پاکستان آرمی کے لگائے گئے میڈیکل کیمپ جسے ہم ہسپتال کہہ سکتے ہیں میں دوسرے بچے نے اس دنیا میں آنکھ کھولی اس سے پہلے جو بچہ پیدا ہوا اس کا نام والدین نے اظہار تشکر کے طور پر پاکستان کے دل لاہور کے نام پر ’’لاہور‘‘ رکھا۔ جو زندہ اور توانا جذبوں کا امین ہے۔ اب اس دوسرے بچے کا نام انہوں نے پاکستان رکھ کر اس ملک سے قلبی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ جس نے زلزلہ کے فوراً بعد وہاں آ کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور امداد بھی کھل کر دی اور دوستی کا حق ادا کر دیا۔ہمارے ہاں بھی آفات ہوں یا کوئی انوکھا واقعہ اسکے بعد پیدا ہو کچھ بچوں کے انکے حوالے سے خاصے دلچسپ نام رکھے جاتے ہیں۔ کوئی زلزلہ خان تو کوئی سونامی خان اس طرح کسی کو دھماکہ خان اور بعض جمہوریت پسند تو اپنے بچوں کا نام الیکشن بی بی اور آمریت کے حامی چودھری آمر بھی رکھ لیتے ہیں۔ مگر یہ سب حالات و واقعات سے متاثر ہو کر رکھے جاتے ہیں۔
نیپال میں رکھے جانیوالے لاہور اور پاکستان جیسے خوبصورت نام ان غمزدہ لوگوں کے معصوم تشکر بھرے جذبات کی علامت ہیں جو ان بچوں کو تاحیات اور انکے نام پکارنے والوں کو عرصہ دراز تک پاکستان کی یاد دلاتا رہے۔ یہی پاکستان کا وہ روشن چہرہ ہے جسے ہر جگہ اجاگرکرنا ہم سب کا فرض ہے تاکہ ان کو منہ کی کھانی پڑے جو ہمارا غلط امیج دنیا کو دکھانے کی ناپاک کوشش کرتے رہتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
2050ء سے پہلے پاکستان 10 ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو چکا ہو گا۔ احسن اقبال
خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا۔ مگر ہر خواب بیان کے قابل بھی نہیں ہوتا۔ اب ایک ایسا خواب جس کی تعبیر کے وقت شاید احسن اقبال موجود نہ ہوں گے کے اظہار پر کوئی کیا کہہ سکتا ہے۔ سوائے اسکے کہ …؎
اس زلف پہ پھبتی شب دیجور کی سوجھی
اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی
جناب 2015ء تک ہمارے حکمرانوں نے پاکستان کو موم بتی اور لالٹین کے دور تک پہنچا دیا ہے۔ اب اسکے بعد اگر آپ کو ہمارا صنعتی پہیہ چلتا نظر آ رہا ہے۔ زرعی میدان میں بڑھوتی نظر آ رہی ہے تو یہ احسن اقبال صاحب کا حسن نظر ہے۔ ورنہ لاکھوں مزدور اور کسان‘ حکمرانوں کی مزدور دشمن پالیسیوں کے سبب ان کی جان کو رو رہے ہیں۔ آپ نجانے کن ترقی یافتہ ممالک کی بات کرتے ہیں خطرہ یہ ہے کہیں ہم 2050ء میں ایتھوپیا، سوڈان اور یوگنڈا جیسے ممالک کی صف میں نہ پہنچ چکے ہوں۔ کیونکہ پانی اور بجلی کا ترقی کے میدان کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ پانی ہمارے ہاں دن بدن کم ہو رہا اور بجلی کے اربوں کھربوں روپے کے آئے روز منصوبوں پر سائن ہونے کے باوجود گزشتہ 3 برسوں سے اس میں ایک یونٹ کا اضافہ بھی نہیں ہو سکا وہی 14 سے 18 گھنٹے شہروں اور 18 سے 20 گھنٹے دیہاتوں میں بجلی دکھائی نہیں دیتی اب اگر امریکہ، برطانیہ، روس، چائنا، جاپان اور فرانس میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ 2050ء میں ہم ان ممالک کی صف میں شامل ہوں گے۔ ورنہ ہمارے ہاں تو عالی جاہ ٹیکس یا یوں کہ لیں حکومتی محصولات کتنے فیصد لوگ ادا کرتے ہیں اور اس میں بھی جتنا غبن ہوتا ہے اس کے بارے میں آپ زیادہ جانتے ہیں۔ پھر بھی ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ بڑے حوصلے کی بات ہے اسے عوام کو سبز باغ دکھانا بھی کہا جا سکتا ہے۔
٭…٭…٭…٭
پاکستان میں امریکی مخالفت کم ہوتی جا رہی ہے: واشنگٹن پوسٹ
امریکی اخبار کی یہ خبر سچ بھی ہو سکتی ہے اگر امریکہ بھی چین کی طرح بے لوث محبت کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کو بدحالی، بے نوری اور فاقوں کے چنگل سے نکالنے کیلئے قرضے نہیں تجارتی سہولتیں دے۔ یہاں پانی، بجلی گیس کے منصوبے لگائے، اقتصادی و معاشی حالت بہتر بنانے میں عملی مدد کرے مگر افسوس تو یہی ہے کہ امریکہ ایسے نہیں کرتا۔ وہ قرضوں پر قرضے دیکر ہماری پوری معیشت کو اقتصادیات کو سود در سود کے ایسے چکر میں جکڑ لیتا ہے کہ اس سے نجات کی کوئی صورت نہیں نکل پاتی اور سب سے بڑھ کر اسکے باوجود کہ ہم ہر اچھے برے وقت میں امریکہ کے ساتھ اسکی ساری برائیوں کو بھول کر کھڑے ہو جاتے ہیں وہ ہمیں دوست نہیں ٹشو پیپر سمجھتا ہے اور استعمال کے بعد پھینک دیتا ہے، بھول جاتا ہے۔
اس وقت امریکہ صاب بہادر دنیا بھر کا واحد سپرمین ہے، اسکے ایک اشارے پر بڑے بڑے فیصلے ہوتے ہیں، سارے بڑے ممالک اسکی ہاں میں ہاں ملانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اب اگر امریکہ واقعی چاہتا ہے کہ پاکستانی سچے دل سے اسکے دوست بن جائیں، صرف امریکہ کا ویزہ حاصل کرنے کیلئے اسکی جھوٹی حمایت نہ کریں تو اسکے صرف دو ہی راستے ہیں… ایک تو یہ کہ امریکہ مسئلہ کشمیر حل کروا دے اور دوسرا یہ کہ پاکستان سے بجلی، گیس اور پٹرول کے بحران کا خاتمہ کر کے یہاں کے عوام کے دل جیت لے۔ پاکستانی کسی سے دشمنی نہیں کرتے، وہ سب سے دوستی کے خواہاں ہیں مگر شرط یہ ہے کہ جواب میں بھی دوستی ہی ملے اور امریکہ سے تو پاکستانیوں کی پرانی یاری ہے۔ یقین نہ آئے تو دیکھ لیں اندرون یا بیرون ملک کوئی بھی مسئلہ ہو ہم فوراً امریکہ مردہ باد اور امریکہ زندہ باد ریلیاں نکال کر اسے یاد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ… ؎
ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی برسر الزام ہی آئے
تو امریکہ بھی یہی چاہتا ہے کہ ہم ہمیشہ اسے یاد رکھیں… زندہ باد نہ سہی تومردہ باد کے نعرے لگا کر ہی سہی!