منگل ‘ 6 ؍ رجب المرجب ‘ 1435ھ ‘ 6؍ مئی 2014ء

منگل ‘  6 ؍ رجب المرجب ‘  1435ھ ‘  6؍ مئی  2014ء

2 ڈالر یومیہ آمدن والوں کو غریب شمار کیا جائے گا : اسحاق ڈار!
وزیر خزانہ تو صرف ’’ڈالر صاحب‘‘ ہی نہیں بڑے زبردست قسم کے ماہرِ حساب بھی ثابت ہوئے ہیں۔ ان کی نئی تھیوری کے مطابق 2 ڈالر یعنی مبلغ 6 ہزار روپے ماہانہ کمانے والا غریب شمار ہو گا تو اس کا مطلب پریکٹیکل میں یہ ہو گا کہ سوا 6 ہزار روپے کمانے والا امیر ہے۔ اب کوئی ہمارے اس ماہرِ حساب کتاب سے پوچھے کہ جناب عوام آپ کو چیلنج کرتے ہیں کہ آپ صرف اپنا اور اہلیہ کا دو بچوں کے ساتھ ماہانہ گوشوارہ برائے اخراجات صرف ناشتہ، دو وقت کے کھانے اور پانی بجلی و گیس کے بل کے ساتھ، آپکو رعایت دیتے ہیں 4 ہزار کی یعنی 10 ہزار روپے میں بھی بنا کر دکھا دیں تو ہم آپ کو واقعی ماہرِ معاشیات اور ماہرِ حساب تسلیم کر لیں گے۔ بڑے گھر یعنی زیادہ بچوں والے گھر کی تو بات ہی چھوڑیں، چار افراد پر مشتمل ایک عام گھر کا روزانہ کا صرف کھانا پینا اور ناشتہ ہی 200 روپے میں آ جائے تویہ اس پر خدا کا بہت بڑا احسان ہے۔ معلوم نہیں صرف 6 ہزار والوں کو یہ رعایت کیوں دی کہ وہ غریب ہیں۔
ڈالر صاحب کو معلوم نہیں کہ عام دو کمروں پر مشتمل ڈربہ نما گھر کا ماہانہ بجلی بل کم از کم 2 ہزار روپے ہوتا ہے۔ لوڈشیڈنگ کے باوجود گیس اور پانی کا ملا لیں تو یہ رقم کسی صورت 4 ہزار سے کم نہیں ہوتی۔ اس کے بعد ’’گنجی کیا نہائے گی اور کیا نچوڑے گی‘‘ خدا کا خوف کھائیں اس وقت ماہرین اعداد و شمار نے پہلے ہی چیلنج کیا ہوا ہے کہ کوئی حکومتی عہدیدار 18 ہزار روپے میں ایک عام پاکستانی گھر کا ماہانہ خرچہ چلا کر دکھائے۔ جس ملک میں 100 روپے کلو آلو، 50 روپے کلو آٹا، 60 روپے کلو گوبھی، 125 روپے کلو دال اور 180 روپے کلو عام گھی دستیاب ہو وہاں تو 18 ہزار ماہانہ آمدنی والا بھی غریب ہوتا ہے امیر نہیں مگر آپ کو کیا معلوم یہ آپ کے اور عوام کے سٹیٹس کا فرق ہے۔ آپکے ایک شب کا ڈنر غریب کے پورے ماہ کے خرچے سے زیادہ آتا ہے۔ کبھی یہ بھی چیک کر لیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
عمران خان اچھے کرکٹر تھے انہیں اچھا سیاستدان بننے میں وقت لگے گا : بیگم نسیم ولی خان !
جس عمر میں انسان سے بھول چوک ہوتی رہتی ہے بیگم نسیم ولی خان بھی عمر کے اسی حصہ میں ہیں۔ شاید اسی لئے انہوں نے عمران خان کو نوجوان سمجھ لیا ورنہ خیر سے عمران خان بھی 60 سے اوپر کے ہو چکے ہیں اور زلفوں کو سیاہ کرنے کی لاکھ مشق کی جائے۔ انسان جوان نہیں بن سکتا۔ یہ سب سرخی و غازہ کی کرامت ہے کہ خان صاحب جوان نظر آتے ہیں اور کھلاڑی ہونے کی وجہ سے ان کی سمارٹنس برقرار ہے۔
اب انہیں اچھا سیاستدان کون بنائے وہ ابھی تک سیاست کے میدان میں غیر سنجیدہ گیم کھیل رہے ہیں۔ چاروں طرف آزادانہ شارٹ لگانے سے آئوٹ ہونے کا خطرہ بھی رہتا ہے مگر وہ ستائش اور مذمت سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔ اب یا تو وہ بیگم نسیم ولی خان سے سیاست سیکھیں جو خیر سے پاکستانی سیاست کے قدیم کرداروں میں سے ایک ہیں، آمریت سے جمہوریت تک کی تمام کہانیوں کی عینی شاہد بھی مگر انہیں بھی انکے اپنے گھر والوں نے خان ولی خان کے بعد جس طرح کھڈے لائن لگایا ہے وہی خطرہ آج کل عمران خان کے ارد گرد منڈلا رہا ہے کیونکہ آج جو لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں ان میں ابتدائی دور کے جانباز اور جانثار بہت کم آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں اور دودھ پینے والے مالدار مجنوں بہت جمع ہیں۔ یہ سب کرسی اور دولت کے پُجاری ہیں اور ہر چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ اب یہ خان صاحب کو کون سمجھائے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
 پاکستان میں نشے کا بڑھتا ہوا رجحان، عادی افراد کی تعداد 67 لاکھ ہو گئی !
سخت قوانین، انسدادِ منشیات کی آئے روز مہموں، نارکوٹکس فورس، جگہ جگہ ناکے، تلاشیاں اور چیکنگ کے باوجود ہمارے معاشرے میں منشیات اور اسلحہ کا استعمال جس تیزی سے بڑھ رہا ہے اس سے ہماری آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ ملک کے کسی شہر یا دیہات میں چلے جائیں گندگی اور کچرے کے ڈھیر یا کسی قبرستان میں درجنوں ’’جہاز‘‘ دنیا و مافیا سے بے سُدھ دھوپ ہو یا چھائوں، بارش ہو یا برف پڑے، انسانیت کی تذلیل کا نمونہ لینڈ کئے ہوں گے اور ہم جیسے بے حس لوگ انکے پاس سے گزرتے ہوئے ناک یا منہ پر رومال رکھ کر یوں گزر جاتے ہیں جیسے وہ انسان ہی نہیں۔ ہمارے ہاں ایسے خود فراموش کردہ اپنی دنیا اپنے ہاتھوں سے بگاڑنے والوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے انہیں کوئی نہیں بچا پاتا۔
سرکاری ادارے تو دور کی بات خود گھر والے ان سے کنارہ کسی اختیار کر لیتے ہیں اور یہ تڑپتے سسکتے لوگ عبرت کا نشان بنے آبادی سے دور ’’کوڑھ زدہ‘‘ مخلوق کی طرح زندگی کے جہنم میں جلتے رہتے ہیں، پولیس اور حکومت کے وہ ادارے جو منشیات کی روک تھام کیلئے بنے ہیں وہ اس سارے مکرہ دھندے سے باخبر ہونے کے باوجود اس میں ملوث افراد پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے کیونکہ انہی کے دم سے ان اداروں کے اہلکار و افسران خوش اور خوشحال رہتے ہیں۔ ہر شہر دیہات میں منشیات فروشوں کے اڈے قائم ہیں جہاں شراب، چرس، افیون، ہیروئن، ہر قسم کا نشہ وافر مقدار میں ملتا ہے۔ ان میں سب سے خطرناک ہیروئن ہے جسے ضیاء کے دور سے قبل کوئی جانتا ہی نہیں تھا۔ یہ ’’جہاز‘‘ گلیوں، محلوں میں لوہے کی بنی تاریں، گرلیں، گٹر کے ڈھکن اور چنھوٹی موٹی چوری کر کے اونے پونے داموں فروخت کر کے اپنا نشہ پورا کرتے ہیں جس طرح چرس اور شراب کے شوقین اسلحہ لیکر راہگیروں سے پیسے اور موبائل چھین کر اپنی لت پوری کرتے ہیں، نارکوٹیکس والے خالی بوتلیں رنگدار پانی سے بھر کر خالی پیکٹ میں بیسن اور تارکول بھر کر سال میں تین چار مرتبہ ڈھیر کی صورت میں جمع کر کے جلا کر ضائع کرتے ہیں اور یوں نمائشی دو نمبر رپورٹیں جاری کر کے عوام اور حکومت کو خوش کرتے ہیں۔ کاش حکومت انسانوں کو جہاز میں تبدیل کرنے والے ان بے رحم جادوگروں کو پکڑ کر زندہ جلائے تاکہ دوسروں کو بھی عبرت ہو جو انسانی زندگیوں کو جہنم بنا رہے ہیں۔