ہفتہ ‘ 19 ؍ ربیع الاوّل 1431ھ‘ 6 ؍ مارچ 2010ء

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے‘ ڈاکٹر عافیہ کی حوالگی کا مطالبہ کرنا ضروری نہیں ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے میں قمرالزمان کائرہ کی جگہ قہرالزمان کا رول ادا نہ کریں‘ ہمیں معلوم ہے کہ غلامانِ امریکہ پاکستانی عوام کی امریکہ دشمنی کے خوف سے بین بین بیانات دینے لگے ہیں مگر درحقیقت وہ امریکی ظلم کا ساتھ دیتے ہیں۔ کیا ڈاکٹر عافیہ کی حوالگی کا مطالبہ اس لئے ضروری نہیں کہ وہ پاکستان کی بیٹی ہے‘ مسٹر کائرہ کی بیٹی نہیں یا پھر شاید عافیہ کی حوالگی کا مطالبہ اس طرح لازم نہیں جیسے ہمارے حکمرانوں کے نزدیک ڈرون حملوں کے روکنے کا مطالبہ ضروری نہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ ایک پڑھی لکھی پابند صوم و صلوٰۃ نیکو کار پاکستانی خاتون ہیں اور امریکہ کی اسلام دشمن پالیسیوں کی اسی طرح مخالف ہیں جس طرح ہم سب پاکستانی عوام مخالف ہیں۔ صرف اتنی سی بات پر اس بے گناہ دخترِ اسلام کو امریکہ میں تشدد اور ظلم و ستم کی بھٹی سے گزارا جا رہا ہے اور اس پر ایک نام نہاد مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
پاکستان کے حکمران جنہوں نے امریکہ کی خاطر قربانیوں کے انبار لگا دیئے ہیں‘ کیا وہ اتنا بھی حق نہیں رکھتے کہ امریکہ کے پنجے سے اپنی بے گناہ بیٹی کو آزاد کرالیں۔ اگر عافیہ کی جگہ کوئی امریکی خاتون ہمارے ہاں گرفتار ہوتی تو امریکہ نے تو کیا بلکہ پوری مغربی عیسائی دنیا نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا اور پاکستان اسے عزت و احترام کے ساتھ امریکہ کے حوالے کر دیتا۔ پاکستان کے وزیر موصوف نے تو جو کہنا تھا کہہ دیا‘ ہم عالم اسلام سے درخواست کرتے ہیں کہ کم از کم وہ تو دخترِ اسلام کو امریکی شر سے آزاد کرانے میں ہماری مدد کرے۔
٭…٭…٭…٭
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے‘ نواز شریف ہمیشہ ایمپائر کو ساتھ ملا کر کھیلتے ہیں‘ قائد مسلم لیگ (ن) کی سیاسی عمر کافی ہو چکی ہے‘ اب انہیں کچھ سیکھ لینا چاہئے۔
یہ بات بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک طالب علم دوسرے طالب علم سے کہے کہ تم بوٹی چلا کر پاس ہوئے ہو‘ سیاسی عمر تو خان صاحب کی بھی چودہ پندرہ سال ہو گئی ہے‘ مگر انہوں نے اتنا نہیں سیکھا جتنا نواز شریف نے سیکھ لیا ہے۔
خان صاحب شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میاں صاحب بھاٹی سے ہریسہ منگواتے اور اس کا بل حکومت ادا کرتی ہے۔ جیسا کہ انکے ایک جلسے میں بجلی حکومت کے کھمبے سے براہ راست لی گئی اور کوئی بل ادا نہیں کیا گیا۔ بہرحال سچ کیا ہے کہ بہت باریک ہیں واعظ کی چالیں‘ میاں صاحب حکومت کیخلاف بھی ہیں‘ حکومتی مشینری سے استفادہ بھی کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ کامیاب سیاست دان کون ہو سکتا ہے؟ خان صاحب کو تو ویسے ہی مغالطہ لگا ہے کہ شاید میاں ’’ہوری‘‘ سیاست نہیں جانتے‘ خود خان صاحب جتنی سیاست جانتے ہیں‘ اس کا نتیجہ بھی سی گریڈ والا ہے۔
میاں صاحب نے تو پھر بھی عوام کو مٹھی میں لے رکھا ہے اور خان صاحب عوام کی مٹھی میں ہیں‘ عوام کو بھی اب اپنی مٹھی کھول کر خان صاحب کو باہر لانا چاہئے اس لئے کہ وہ ابھی تک آزمائے نہیں گئے‘ نہ ہی ان کے دامن پر کوئی داغ ہے اور نہ انکے ہاتھ میں کوئی جام‘ اگر انکی سیاست کی شام سے پہلے عوام ایک سویرا طلوع کردیں تو کوئی بعید نہیں کہ نئی جواں سال قیادت پانسہ پلٹ کر رکھ دے اور لوگوں کو پتہ چل جائے کہ خان صاحب اپنے جلسوں میں جھوٹ بولتے تھے یا سچ؟
٭…٭…٭…٭
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے‘ موجودہ حکومت بے نظیر کی مفاہمتی پالیسی کو جاری رکھے گی‘ عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آئے‘ پانچ سال پورے کرینگے۔ ہم معاملات پر اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے فیصلے کرینگے۔
پاکستان کو اس وقت بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے اندرونی مسائل پر مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنا ہو گی‘ صدر کی یہ بات ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہے‘ پاکستان جس طرح کے بحرانوں سے گزرا اور گزر رہا ہے‘ اگر صدر بھی دوسرے لیڈروں کی طرح آگ پر تیل چھڑکنے کی پالیسی اختیار کرتے تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا مگر انہوں نے تصادم اور ٹکرائو کی پالیسی کو یک دم ترک کرکے ہمہ یاراں دوزخ ہمہ یاراں بہشت کے فارمولے پر عمل شروع کر دیا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ وہ باقاعدہ جمہوری انداز میں عوام کے ووٹوں سے برسر اقتدار آئے ہیں اور ایک بڑی سیاسی پارٹی کے معاملات کو کامیابی کے ساتھ چلا رہے ہیں جو کہ ایک نیک شگون ہے۔ انہوں نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرکے چلنے کا جو فیصلہ کیا ہے‘ اس کے بہتر نتائج برآمد ہونگے۔ انہیں کسی ایک بات پر نشانہ بنانے کے بجائے انکی مجموعی کارکردگی اور اتحاد و اتفاق کی پالیسی اختیار کرنے پر قابل ستائش سمجھنا چاہئے ہم اگر اپنے ملک میں لیڈروں کے دامن پر داغ تلاش کرنے بیٹھیں تو وہ جمہوری عمل رک سکتا ہے‘ جو داغوں کو دھیرے دھیرے کم کرتا ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ عہد رسالت میں صحابہ اپنی اسلام سے پہلے کی زندگی میں کیا کیا کرتے تھے اور ایک جمہوری اسلامی سسٹم کے آنے کے بعد وہ ہر عیب سے پاک صاف ہو گئے۔